نئے سال کا آغاز، مدارس کے طلباء سے کچھ باتیں

(از ’پاجا سراغِ زندگی‘ مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ)
12 مارچ 1964ء کو ندوہ کی وسیع مسجد میں طلبائے دارالعلوم کا اجتماع ہوا۔ ہر سال تعلیم کے آغاز پر طلباء کا یہ اجتماع منعقد ہوتا ہے۔ اس مرتبہ طلباء کی تعداد میں نمایاں اضافہ ایک خاص بات تھی۔ حمد و صلوٰة کے بعد مولانا نے یہ تقریر فرمائی اور درجہ ہشتم کے طالب علم نعیم صدیقی اعظمیٰ نے اس کو قلم بند کیا۔
مدرسے کا مقصد!
نئے سال کے شروع میں آپ سے تعارف حاصل کرنا اور اپنے تجربات بیان کرنا ایک مناسب و بر محل بات ہے۔ آپ سے بات کرنا مشکل بھی ہے اور آسان بھی۔ ظاہر بات ہے کہ باپ جب اپنے بیٹے سے اور ایک عزیز اپنے دوسرے عزیز سے بات چیت کرتا ہے تو نہ اس کے اندر کسی تصنع و بناوٹ کی ضرورت ہوتی ہے، نہ دقیق و ثقیل الفاظ کے استعمال کی۔ یہی میری باتوں کی بھی حےثیت ہے۔ جانی بوجھی باتیں، عمر بھر کے تجربے، راستے کے نشیب و فراز، اس کی منزلیں، ان تمام باتوں کو آپ کے سامنے رکھنا، اس نوعیت کے اعتبار سے یہ بات بہت آسان ہے کہ اس میں مجھے زیادہ سوچنے سمجھنے کی ضرورت نہیں اور میں کیا یہاں آپ کے اساتذہ میں سے جو کوئی بھی آپ سے بات کرے اسے زیادہ غور کرنے کی ضرورت نہ ہوگی کہ ”عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں“۔ لیکن اسی کے ساتھ ساتھ آپ سے بات کرنا مشکل بھی ہے، اس لیے کہ میں آپ سے اتنی باتیں کرنا چاہتا ہوں کہ سمجھ میں نہیں آتا کہاں سے شروع کروں اور کہاں ختم کروں۔ باتوں کا ایک اتھاہ سمندر ہے اور اس کے اتنے محرکات ہیں جن میں سے کسی ایک کو نظرانداز کرنا مشکل ہے، لیکن ہر مشکل کا ایک حل ہے اور اس کا حل یہ ہے کہ ان تمام باتوں کو مختلف اوقات میں آپ کے سامنے رکھا جائے۔
سب سے پہلے میں آپ سب کو مبارک باد دیتا ہوں۔ پرانے طلباء کو اس لیے کہ وہ اب تک موجود ہیں، زمانے کی گردشیں اور اس کے اُلٹ پھیر نے الحمدللہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور وہ اس کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے مقصد کے حصول میں مشغول ہیں اور نئے طلباء کو مبارک باد اس لےے دیتا ہوں کہ انہوں نے دینی تعلیم کا انتخاب کیا۔ اللہ تعالیٰ کا کتنا فضل و کرم ہے کہ اس نے آپ کے والدین کو یہ توفیق دی کہ وہ آپ کو ایک دینی درسگاہ میں تعلیم کی غرض سے بھیجیں۔ بعض ایسے بھی طلباء ہیں جو زبردستی بھیجے گئے ہیں لیکن وہ بھی اللہ کے منظور نظر ہیں۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ ”جنت میں بعض لوگ ایسے بھی جائیں گے جن کے پیروں میں بیڑیاں پڑی ہوں گی“۔ یعنی وہ اللہ کے اتنے منظور نظر ہیں کہ باوجود اس کے کہ وہ خود جنت میں داخل ہونا نہیں چاہتے، ان کے بیڑیاں ڈال کر اور زبردستی داخل جنت کیا جائے گا۔ اسی طرح دینی تعلیم کا حصول بھی اتنی بڑی نعمت ہے کہ جو اس پر زبردستی لگائے جائیں اور وہ بغیر اپنے مقصد کو سمجھے ہوئے جبراً و کرہاً یہاں پہنچائے جائیں وہ بھی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ غرض یہ کہ جو جس طرح بھی یہاں آیا وہ اور اس کے والدین لائق تحسین و صد مبارکباد ہیں۔ مگر یہاں آپ کو کیا ملے گا؟ آپ کیا پائیں گے؟ یہ بہت وسیع موضوع ہے، جس پر مفصل روشنی ڈالنے کا یہ موقع نہیں ہے اور نہ اتنا وقت ہی ہے۔ امام غرالی ؒ کی ’احیاءالعلوم‘ اس موضوع پر بہترین کتاب ہے۔ آپ موقع نکال کر اس کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دینی درسگاہ میں طالب علم کو کیا کچھ ملتا ہے۔
میرے عزیز! یہ بات خوب ذہن میں بٹھا لیجےے کہ آپ یہاں کس لیے آئے ہیں، اپنی تعلیم میں لگنے سے پہلے اپنے مقاصد کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیجےے۔ آپ کس نعمت کو حاصل کرنے آئے ہیں اِس کے لےے ذہن کو بیدار کرلیجےے۔تمہارا قصہ صرف یہی نہیں کہ تم زبردستی یہاں لائے گئے ہو بلکہ تمہارے اور تمہارے خالق کے درمیان ایک سنہری زنجیر ہے، جس کا اگر ایک سرا تمہارے ہاتھ میں ہے تو دوسرا سرا اللہ ربُّ العزت کے قبضے میں۔ گویا تمہارے اور اللہ کے درمیان ایک ایسا رشتہ ہے جس کی بنا پر تم اس کے کلام کو سمجھ سکتے ہو اور اس کو اخذ کرسکتے ہو۔ اُس سے بات کرنے کا طریقہ تمہےں معلوم ہے۔ میں کسی بھی مدرسے کی یہ تعریف ماننے کے لیے ہر گز تیار نہیں کہ جہاں ایسی زبان سکھائی جاتی ہے جس کی بدولت عربی کتابیں پڑھی جاسکیں اور اس سے دوسرے دنیاوی فائدے اٹھائے جاسکیں۔ عربی مدرسہ کی ہرگز ہرگز یہ تعریف نہیں بلکہ وہ تو وہ جگہ ہے جہاں طالب علم کے درمیان جیسا کہ میں نے پہلے کہا اور خدا کے درمیان ایک کڑی ہے، جس کا ایک سرا اِدھر ہے اور دوسرا اللہ کے قبضے میں ہے۔
ہمیں کیا کرنا ہے؟
میرے عزیزو! اِس بات کو سمجھو کہ اس نعمتِ عظمیٰ کا اہل بننے کے لےے تمہیں کن باتوں کی ضرورت ہے۔ تمہیں کم سے کم کیا کرنا ہے؟ سب سے پہلے اپنے اندر شکر پیدا کرو۔ اکیلے میں بیٹھ کر سوچو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہےں حضرات انبیاءعظام علیہم السلام اور اولیاءکرامؒ کے راستے پر ڈال دیا۔ اگر تم پھر اسی سابقہ جگہ پر پہنچ جاﺅ تو یہ تمہاری بڑی بدقسمتی ہے۔ اس راستے میں انبیاءعظام علیہم السلام اور اولیاءکرامؒ کے نقش قدم نظر آئیں گے اور اس سے بڑھ کر تمہےں علم نبوت کی روشنی ملے گی۔ دوسری چیز اس مدرسے کی زندگی میں حسبِ استطاعت اپنے کو اس کے مطابق بنانا ہے۔ ہر راہ کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں، اس راہ کے تقاضے یہ ہیں کہ فرائض کی پابندی کی جائے، مثلاً نمازوں میں مستعدی، جماعت کے وقت سے پہلے مسجد آجاﺅ۔
نوافل و دعا کا ذوق پیدا کرو۔ تیسری چیز اپنے اخلاق کو بھی اسی کے مطابق بناﺅ۔ تمہارے اندر صبر،زہد، استغناءکی کیفیت پیدا ہوجائے۔چوتھی چیز تمہارے اخلاق و آداب، طور و طریق رہن سہن سب خالص اسلامی ہوں۔ تمہارا مظہر بھی اس راستے کے پیشواﺅں کے مطابق ہو۔مجھے خدا کی قسم تمہارے سے متعلق یہ خطرہ ہرگز نہیں کہ تم یہاں سے جانے کے بعد فقر سے دوچار ہوگے، خطرہ جو ہے وہ صرف اس بات سے کہ کہیں اس نعمت عظمیٰ کی ناقدری سے جو اللہ تعالیٰ تم کو عطا فرما رہا ہے تم پر اوربار نہ آجائے اور اگر تم نے شکر ادا کیا تو اس نعمت کے شکر کے عوض تمہاری استعداد کہیں زیادہ بڑھ جائے گی۔ لیکن جب تک تم اپنے اندر جو ہر ذاتی نہ پیدا کروگے اور استعداد میں پختگی نہ حاصل کروگے، اُس وقت تک تم کچھ بھی نہ ہوگے اور دنیا میں بھی جاکر تم کچھ نہ کرسکو گے۔
آخر میں اس امر کو پھر صاف صاف بیان کردینا چاہتا ہوں کہ اپنی تعلیم شروع کرنے سے پہلے اپنے مقاصد اور اپنے مقام کو پہچانو۔ پڑھنا اور استعداد پیدا کرنا ہی صرف اپنا مقصود و نصب العین بناﺅ، اس کے علاوہ کسی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دےکھو۔ اِن شاءاللہ دنیا میں بھی کامیاب و بامراد ہوگے۔ کامیابی و شادمانی تمہارے قدم چومے گی اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضری کے وقت بھی سرخرو ہوگے، اللہ آپ کو کامیاب کرے۔ آمین!