پاکستانی کوششوں سے ایران پر حملے دس دن کیلئے موخر

پاکستان کی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں ثالثی کے کردار کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر ممکنہ حملوں کو مزید 10 روز کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تہران کے ساتھ مذاکرات “بہت اچھے” انداز میں جاری ہیں، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ وہ کسی معاہدے کے لیے بے چین ہیں۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خیرسگالی کے طور پر آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار 10 آئل ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دی تاکہ اپنی سنجیدگی ظاہر کی جا سکے، اور خبردار کیا کہ اگر ایران نے سنجیدگی نہ دکھائی تو موقع ضائع ہو سکتا ہے۔

امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ تہران کی جانب سے مذاکرات کے لیے مضبوط اشارے ملے ہیں اور واشنگٹن نے پاکستانی حکام کے ذریعے ایران کو 15 نکات پر مشتمل ایک ایکشن پلان بھی دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے کہا کہ وہ امریکی تجاویز پر جواب دے چکے ہیں، تاہم انہیں یکطرفہ قرار دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق فی الحال ایران کی پالیسی مزاحمت جاری رکھنے کی ہے اور مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے جزیرہ خارگ پر کارروائی کی تو وہ آبنائے باب المندب کو بھی بند کر سکتا ہے، جبکہ یمن کے حوثی رہنما عبدالمالک الحوثی نے بھی ممکنہ عسکری ردعمل کی دھمکی دی ہے۔

وائٹ ہاؤس اجلاس میں ٹرمپ نے ایک طرف سخت بیانات دیے تو دوسری جانب یہ بھی کہا کہ ایران ہتھیار ڈالنے کے قریب ہے۔ انہوں نے برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر پر بھی تنقید کی، جبکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا بیک وقت مذاکرات اور فوجی دباؤ دونوں جاری رکھے گا۔