زرعی معیشت کا زوال اور مجبور کسان

پاکستان ایک غیرمعمولی معاشی تضاد کے دہانے پر کھڑا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے شائع کردہ زرعی مردم شماری کے مطابق، زراعت قومی جی ڈی پی کا 24فیصد حصہ فراہم کرتی ہے، جبکہ ملک کی 37سے 40فیصد لیبر فورس اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ اس کے باوجود کسان کی اوسط آمدنی مالی تحفظ اور پالیسی اثر و رسوخ کی کمی کی وجہ سے شہری معیشت کے مقابلے میں نہایت کمزور ہے۔ زرعی ویلیو ایڈیشن کی شاخ مزید پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہے، لائیو اسٹاک نے نمایاں بہتری دکھائی ہے جو تقریباً 63.6فیصد ہے، جبکہ فصلوں کا حصہ 32.6فیصد کے قریب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کی زرعی معیشت کا محور روایتی فصلیں نہیں بلکہ ڈیری اور مویشی پالنے کا شعبہ ہے۔ تاہم، عالمی ویلیو چین میں ملک کی موجودگی محدود ہے۔ بچوں کے لیے دودھ سے بنی غذائیں سمیت ہم کروڑوں ڈالرز کی مصنوعات درآمد کرتے ہیں، جبکہ ملک میں اس کی پیداوار پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی۔

زیادہ تر کسانوں کے پاس زرعی زمینیں 5ایکڑ سے بھی کم ہیں۔ زیر زمین پانی کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور بھارت کی آبی جارحیت کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر، پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں پر بھارت مسلسل ڈیمز بنا رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں کسانوں کا انحصار ٹیوب ویلوں پر بڑھتا چلا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ عالمی معیشت کے نقشے پر پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر کھڑا ہے جس کی زرعی بنیاد وسیع زمینوں کی یکساں تقسیم پر نہیں بلکہ اکثریت کے پاس 5ایکڑ سے بھی کم زمین ہے۔ چھوٹے کسان بہت سے فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں، نتیجتاً لاگت بڑھتی رہتی ہے اور پیداواری لاگت کے بڑھنے سے منافع میں کمی واقع ہوتی ہے، جو کسان کی غربت کا ایک اہم سبب ہے۔

پاکستان میں پانی کا مسئلہ سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ 1974ء کے بعد سے کوئی قابل ذکر ڈیم نہیں بنایا جا سکا، حالانکہ پاکستان کے پاس دنیا کا بہترین نہری نظام موجود ہے۔ زیر زمین پانی پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے، لاکھوں ٹیوب ویل زرعی علاقوں میں نصب ہیں اور مزید لگائے جا رہے ہیں۔ بھارت کی طرف سے دریاوں کے پانی روکنے کے اقدامات کے جواب میں سولر سسٹم کے تحت ٹیوب ویل لگائے جا رہے ہیں، جس سے زیر زمین پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ سیلاب کے موقع پر پانی ذخیرہ کرنے کی بجائے اسے بہا دیا جاتا ہے، جس سے پانی کے استعمال کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اگر پانی کے استعمال کو مؤثر نہ بنایا گیا تو زرعی پیداوار کا استحکام متاثر ہوگا، جو قومی خوراکی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

کچھ کسان محنت سے بچنے کے لیے آسان طریقے استعمال کرتے ہیں، مثلاً حال ہی میں پنجاب کے نورپور تھل کے علاقے میں کسانوں نے چنے کی فصل کی بجائے سفیدے کے درخت لگانے کو ترجیح دی، جس سے کئی نقصانات پیدا ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں ڈیری فارمنگ کا شعبہ ترقی کر رہا ہے۔ کسان بڑی تعداد میں مویشی پالنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن خوراک کی پیداوار پر توجہ کم ہونے کی وجہ سے چارہ اور مویشیوں کے لیے خوراک کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اگر اس شعبے کو حکومتی سرپرستی حاصل رہی تو گوشت اور ڈیری کے شعبے میں برآمدی امکانات خاص طور پر مشرق وسطی اور مشرقی ایشیا کی منڈیوں میں بڑھائے جا سکتے ہیں۔

موجودہ حالات کے پیش نظر پاکستان کو مشرقی ایشیا اور آسیان ممالک کی جانب خاص توجہ دینی چاہیے۔ اس کے لیے کوالٹی اسٹینڈرڈ، کولڈ چین اور برآمدی سرٹیفیکیشن کی کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا۔ زرعی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا نے ڈیری اور پروٹین کی پیداوار بڑھائی ہے اور پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں لائیو اسٹاک زرعی شعبے کا بڑا حصہ ہے، یہ برآمدات بڑھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ لائیو اسٹاک کے شعبے میں مزید ترقی کے لیے کسانوں کی معاونت کرے۔پاکستان میں دیہی علاقوں سے بڑی تعداد میں نوجوان شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ دیہی معیشت انہیں طویل مدتی مواقع فراہم نہیں کر رہی۔ زراعت کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ چھوٹے کسانوں تک پہنچانا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ترکیہ کے ساتھ کیے گئے زرعی تعاون کے معاہدے سے چھوٹے کسان فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ورنہ، موجودہ صورتحال میں چھوٹے کسان نقصان میں جا رہے ہیں، جو زرعی معیشت کے زوال کا سبب بن رہی ہے اور انہیں روزبروز کمزور کر رہی ہے۔