ایران جنگ: چند اہم پہلو

ایران پر امریکا، اسرائیلی حملوں کو بارہ روز گزر چکے ہیں، آج تیرھواں دن ہے۔ اس دوران تہران اور دیگر شہروں پر بہت شدید حملے کئے گئے۔ ایرانی حکومت کے مطابق امریکی، اسرائیلی طیاروں اور میزائلوں سے ایران کے دس ہزار کے لگ بھگ شہری مقامات کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں تیرہ سو سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ امریکی اندازے شاید اس سے کچھ زیادہ ہیں، صدر ٹرمپ کا دعوی ہے کہ ایران کی بیشتر فوجی قوت تباہ ہو چکی، ایرانی بحریہ کا بھی خاتمہ ہوگیا اور ان کا مشن مکمل ہونے کو ہے۔

دوسری طرف پوزیشن یہ ہے کہ ایران کے جوابی میزائل اور ڈرون حملوں میں کمی ضرور آئی ہے، مگر ختم ہرگز نہیں ہوئے۔ گزشتہ روز اسرائیل کے بن گوریان ائیرپورٹ پر ایرانی میزائلوں کی بارش ہوئی، اسرائیلی دفاعی نظام حملے روکنے میں ناکام ہوا اور یکے بعد دیگرے کئی میزائل وہاں گرے۔ دوسری ایران نے ایک بڑی کامیابی یہ حاصل کی ہے کہ اسرائیل کے تحفظ کے لئے مختلف جگہوں پر نصب کئی امریکی جدید ترین ریڈار اور ارلی وارننگ سسٹمز تباہ کر دیے ہیں، اس کا نقصان اسرائیل کو یہ پہنچا کہ پہلے وہ حملہ آور ایرانی میزائلوں کو جلد دیکھ لیتے تھے اور پندرہ بیس منٹ قبل ہی اپنے شہریوں کو سائرن بجا کر وارننگ دے دیتے کہ بنکرز میں چلے جائیں۔ اب بمشکل دو تین منٹ پہلے ان کو اطلاع مل پاتی ہے تو وارننگ ٹائم کم ہوچکا ہے۔

جنگ کا پہلا بلکہ دوسرا راؤنڈ بھی اب ہوچکا۔ دو ہفتے ہونے کو ہیں۔ یہ اتنا وقت ضرور ہے کہ جنگ کا تجزیہ کیا جا سکے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ایران نے کمال درجے مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کی ٹاپ لیڈر شپ کو پہلے ہی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ ایرانیوں نے اس کے باوجود اپنے اوسان بحال رکھے، اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے جوابی حملے شروع کئے، اپنے حساب سے جنگ کو پھیلایا اور جن خطوط پر وہ پہلے سے طے کر چکے تھے، اسی انداز میں جنگ لڑی۔

یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ امریکی، اسرائیلی بے پناہ بمباری کے باوجود اب پچھلے کئی دنوں سے ایرانی لیڈرشپ یا پاسداران کے کمانڈرز وغیرہ بھی نشانہ نہیں بن رہے۔ اسرائیل لازما چاہتا ہوگا کہ نئے رہبر انقلاب مجتبیٰ خامنائی کو نشانہ بنا کر ایرانی مورال ڈاؤن کیا جائے۔ نئے رہبر کے اعلان کو بھی تین چار دن ہوچکے ہیں، انتخاب تو شاید کچھ پہلے ہی ہوگیا تھا۔ امریکی، اسرائیلی انہیں نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔ اسی طرح موجودہ ایرانی صدر، وزیرخارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی محفوظ ہیں۔ پہلے امریکیوں نے یہ دعوی کیا کہ سابق ایرانی صدر احمد نژاد بھی نشانہ بن گئے ہیں، مگر اب ان کی دو دن پہلے ایک نئی ویڈیو سامنے آئی جس سے پتہ چلا کہ وہ بخیر و عافیت ہیں۔ ایران اور امریکا، اسرائیل جنگ کا یہ پہلو تو واضح ہوچکا کہ ایران مزاحمت کر رہا ہے، اس میں سکت ہے۔ ایرانی جنگ لمبی کرنے کے موڈ میں ہیں۔ ان کی شدید خواہش ہے کہ امریکی زمینی افواج ایران میں اتریں (بوٹس آن گراؤنڈ) اور پھر انہیں کلاسیکل گوریلا جنگ لڑنے کا موقع ملے۔ امریکیوں کی اس کے برعکس کوشش یہ ہے کہ پہلے بمباری کر کے ایرانی دفاعی، عسکری انفراسٹرکچر مکمل تباہ کر دیا جائے اور صف اول کے ساتھ صف دوم، سوم کی لیڈرشپ بھی ختم ہوجائے تاکہ باقی ماندہ منتشر مزاحمت کاروں پر قابو پایا جا سکے۔ امریکی صدر ٹرمپ ایران میں اپنی زمینی فوج نہیں بھیجنا چاہتے تھے، مگر بہرحال ایران پر حملہ کر کے انہیں شکست دینا بھی ان کانفسیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔ اسی لیے اب ٹرمپ فوج بھیجنے کی آپشن کو پہلے کی طرح مسترد نہیں کر رہے۔

اہم ترین سوال یہ ہے کہ ایران اور امریکا، اسرائیل جنگ کا انجام کیا ہوگا؟ امریکی ماہرین چار پانچ ممکنہ منظرنامے بیان کر رہے ہیں۔ مغربی عسکری تجزیہ کار ان کو اپنے اپنے انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ پہلا ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ سب کچھ حملے سے پہلے والی صورتحال پر ریورس ہوجائے۔ امریکا اور ایران پہلے کی طرح مذاکرات کریں، تاہم اس بار ایران جوہری پروگرام محدود یا مکمل ختم کرنے پر رضامند ہوجائے۔ دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے ایجنڈے کے مطابق ایران میں رجیم چینج کرانے میں کامیاب ہوجائیں۔ امریکی، اسرائیلی حملوں کے دباؤ، اعلیٰ ایرانی عہدے داروں کی ہلاکتوں وغیرہ کے باعث ایرانی قیادت تبدیل ہوجائے اور امریکا موجودہ ایرانی نظام کے اندر سے کسی نئی قیادت کے ساتھ کام کرنا شروع کر دے۔ یعنی ایران کا نظام یہی چلتا رہے مگر موجودہ ایرانی قیادت ہٹ جائے اور ان کی جگہ اصلاح پسند آ جائیں یا کوئی نسبتا زیادہ عملیت پسند قیادت۔ امریکی ماہرین کے مطابق تیسرا منظرنامہ یہ بھی بن سکتا ہے کہ جنگ کی تباہ کاری، معاشی بحران، روزمرہ اشیا کی قلت وغیرہ کے باعث لوگ تنگ آ جائیں، عوامی احتجاج شروع ہو اور اس بار پہلے سے زیادہ طاقتور اور ایسا طوفانی ہو کہ موجودہ نظام حکومت گر جائے۔ چوتھا ممکنہ یا متوقع منظرنامہ امریکی ماہرین کے نزدیک یہ ہوسکتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل شدید ترین بمباری کے بعد کسی زمینی آپریشن کے ذریعے ایرانی نیوکلیئر سائٹس پر قبضہ کر کے جوہری اثاثے یا یورینئم وغیرہ اپنے کنٹرول میں کر لیں یا جوہری صلاحیت مکمل تباہ کر کے فتح کا اعلان کر دیں اور جنگ رک جائے۔ پانچواں اور آخری منظرنامہ یہ بھی بیان کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ (مایوس ہو کر) اعلان کر دیں کہ ان حملوں سے ایرانی میزائل، ڈرون صلاحیت بہت کمزور ہوگئی ہے، نیوکلیئر صلاحیت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ یوں وہ اپنے اہداف مکمل کرنے کے اعلان کے ساتھ جنگ ختم کر دیں۔

اب ان تمام منظرناموں کے ساتھ مسئلہ یہی ہے کہ اگر ایرانی مزاحمت جاری رہے، ایران کے میزائل، ڈرون حملے چلتے رہیں تو امریکیوں کے لئے کوئی دعویٰ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ایران میں نقصان بہت زیادہ ہو رہا ہوگا، ظاہر ہے جب آسمان سے ہزاروں ٹن بم برسائے جائیں اور بی ٹو جیسا جہاز ہو جو بنکر شکن ٹنوں وزنی بموں کی بارش کر سکتا ہو تو عین ممکن ہے کہ بہت سے ایرانی خفیہ عسکری تنصیبات، میزائل، ڈرون سٹوریج اور پاسداران، بسیج وغیرہ کے ٹھکانے تباہ ہوگئے ہوں۔ ایران میں شدید سنسر ہے، ویڈیوز سامنے کم آ رہی ہیں۔ یہی حال تل ابیب میں بھی ہے، وہاں بھی نقصان ہو رہا ہے، مگر سامنے نہیں آنے دیا جا رہا۔ تاہم ایران میں نقصان زیادہ ہے کیونکہ دن بھر طیارے بم برسا رہے ہیں۔ اس کے باوجود ایرانی قیادت کے حوصلے بلند ہیں۔ گزشتہ روز ایرانی مشیر خارجہ کمال خرازی نے ایک اور واضح بیان دیا ہے کہ پرعزم ایرانی فوج لمبی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ ہم اپنے ہتھیار مقامی طور پر بناتے ہیں۔ کمال خرازی نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایرانیوں کو نہیں جانتے، اس لئے وہ انہیں ہتھیار ڈالنے کا کہہ رہے ہیں۔

ایک اور پہلو ایسا ہے جو ایران کے لیے مشکل پیدا کر سکتا ہے وہ اس کی جنگ کو مڈل ایسٹ اور خلیجی ریاستوں تک پھیلانے کی حکمت عملی ہے۔ ایران مسلسل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر وغیرہ پر حملے کر رہا ہے۔ اس سے بہت سے مسائل اور پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ وہاں موجود امریکی اڈوں پر حملے کر رہا ہے، مگر بعض حملوں میں ان عرب ریاستوں کی تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ آبنائے ہرمز کو بند کرنے سے بھی دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں کا بحران آ گیا ہے۔ اس سے چین بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے جسے ایران کا ایک خاموش حامی تصور کیا جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز اگر دس پندرہ دن مزید بند رہی تو کئی دیگر حوالوں سے بھی بحران بڑھ جائے گا۔

ایران کو یہ اندازہ نہیں کہ اس کا بڑا نقصان یہ ہوگا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اسے بچانے کی معمولی سی کوشش بھی نہیں کرے گا۔ جب ایران ایسا شدید بحران پیدا کر دے تو پھر دنیا بھر میں اس کا کوئی حمایتی نہیں رہے گا اور ہمسایے بھی یہی چاہئیں گے کہ ایرانی قوت ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے تاکہ آئندہ کبھی ایسا خطرہ دوبارہ سر نہ اٹھائے۔

سعودی عرب پر حملوں کی پاکستان شدید مخالفت کر رہا ہے، پاکستان نے مختلف چینلز سے ایرانیوں کو یہ سمجھایا ہے کہ سعودی عرب اپنی سرزمین امریکی حملوں کے لئے استعمال نہیں ہونے دے رہا تو آپ وہاں حملے نہ کریں۔ سعودی عرب پر ایرانی حملے جاری رہے تو پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھل کر کھڑا ہونا پڑے گا کیونکہ ہمارا دفاعی معاہدہ یہی کہتا ہے۔

نئے ایرانی رہبر نے اب سب معاملات سنبھال لیے ہوں گے، یہ ان کے لیے اصل چیلنج ہے۔ ایران کو اپنی باقی ماندہ قوت بچا لینی چاہیے۔ مکمل تباہی کی طرف جانے کی آپشن بہت نقصان دہ ہوگی۔ ”ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تمہیں بھی لے ڈوبیں گے” جیسی سوچ شکست خوردگی کی علامت ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے حکمت اور دانش کی ضرورت ہے۔ امریکا اور اسرائیل تو ایران کی مکمل تباہ چاہتے ہیں، مگر ایرانی قیادت کو چاہیے کہ وہ سمجھداری سے اس ٹریپ سے نکلیں۔ اس کے لیے انہیں خلیجی عرب ریاستوں کو اپنا دشمن نہیں بنانا چاہیے، چین، روس کے ساتھ پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک کے مشوروں کو دھیان سے سننا ہوگا۔ صورتحال بہت ہی گمبھیر ہے، مگر رات خواہ کیسی ہی تاریخ اور گھٹا ٹوپ ہو، صبح کی روشنی نکل کر ہی رہتی ہے۔ ایران بھی اس بحران سے نکل سکتا ہے۔ اللہ ان کے لیے آسانی فرمائے، آمین۔