یہ دنیا اور گم گشتہ جنت کی تلاش

ہم اس دنیا میں رہتے ہیں، اس لیے دنیا والے کہلاتے ہیں۔ اہل دنیا، اس دنیا میں روزمرہ کے جو بھی کام کرتے ہیں ان میں سے بیشتر دنیا داری کے زمرے میں آتے ہیں، ماسوائے ان امور کے جو وہ انسانی بھلائی، اللہ کی رضا اور دینی تقاضوں کے مطابق کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس دنیا کے مشاغل میں مست رہ کر خود اپنے آپ کو یا دوسرے لوگوں کو خوش کرنے کے افعال سر انجام دیتے ہیں، ان میں مفاد پرستی، چالاکی اور حسد و حرص جیسے غلط طرزعمل شامل ہوتے ہیں۔

بہت سے انسانوں کا مطمح نظر یہ ہوتا ہے کہ دنیاداری بھی ہو اور رب کائنات کی مرضی و منشا کی خلاف ورزی بھی نہ ہو۔ اس کی مثال یہ دی جا سکتی ہے کہ دنیاداری کرنے والا جھوٹ بھی بولتا ہو، الزام و بہتان طرازی کرتا ہو اور دھوکے بازی بھی کرتا ہو۔ کھانے پینے اور استعمال کی دیگر اشیا میں ملاوٹ بھی کرتا ہو، کم ناپ تول اور ناقص مال کو اچھا کرکے فروخت بھی کرتا ہو، رشوت لیتا ہو اور بد دیانتی کرتا ہو۔ مگر وہ رمضان المبارک کے پورے روزے رکھتا ہو، حج بھی کرتا ہو اور پانچ وقت کی نمازیں بھی مسجد میں ادا کرتا ہو۔ یعنی ایک چہرہ خالصتاً دنیاوی لالچ اورگناہ وسیئات کا اور دوسرا روپ پارسائی و دین داری کا۔ عمل کے اس تضاد کے انجام کا اخروی فیصلہ اگرچہ ہم خود نہیں کرسکتے کہ دوہرے معیار کی زندگی بسر کرنے والے مذکورہ افراد جہنمی کہلائیں گے یا بخشے جائیں گے۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔ لیکن بظاہر ان کی منافقت کو، دینی شعور رکھنے والے لوگ ناپسندیدہ ضرور سمجھتے ہیں۔

دنیاداری کرنے والے کاموں میں کھانا پینا، پہننا اوڑھنا، ملازمت اور کاروبار کرنا، تعلیم حاصل کرنا، گھر بسانا اور میل جول کرنا ایسے امورہیں جو سب کے سب لازماً سرانجام دیتے ہیں۔ ان کے بغیر گزارا نہیں ہوتا۔ اگر یہ امور نیک نیتی کے ساتھ اور کسی کو نقصان نہ پہنچانے کے خیال سے کئے جائیں تو انہیں نیکی کا عمل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بعض لوگ اس دنیا کو دارالعمل سمجھنے کے باوجود دنیا داری کوخود اپنے آپ کو خوش کرنے یا خالصتاً دنیا والوں کو خوش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اس میں دوسروں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ وہ کبھی بڑے سلیقے اور قرینے سے اپنے فعل و کردار کو ادا کرتے ہیں اور کبھی بھونڈے پن اور غیرمہذب طریقے سے دنیا کو ہر چیز پر فوقیت دیتے ہوئے خود غرضی و مظالم کے راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کے باوجود جب تک یہ دنیا یہ محفل اُن کی بن کے نہیں رہتی تو کہنے والے کہتے پھرتے ہیں کہ ”یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں۔”

یہ بات مسلمہ ہے کہ ہماری ساری دوڑ دھوپ اس دنیا کے واسطے ہی ہوتی ہے۔ ہم کوئی کاروبار کریں یا ملازمت، وہ بھی دنیاوی ضروریات کے لیے ہوتی ہے۔ اس لیے دنیا سے دوستی یاری بڑھانا پڑتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہماری دوستیاں ہوں یا دشمنیاں، دونوں دنیا کے واسطے سے ہوتی ہیں۔ ہمارے سارے خواب دنیا کے لیے اور سارے خیال سب کچھ دنیاوی منفعت کے لیے ہوتے ہیں۔ مگر جب حسب منشا دنیا ہمارا ہاتھ تھامنے سے انکار کر دیتی ہے تو ہمارے لیے دنیا خواب وخیال بن کے رہ جاتی ہے۔ پھر ہم دنیا سے روٹھ کر کسی اور دنیا میں جا بستے ہیں۔ دنیا ضرور بدل جاتی ہے لیکن دنیا سے کنارہ کش ہونے کو وہ تیار نہیں ہوتے۔ ہم دنیا میں کسی بات پہ سبق حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ بار بار غلطی کو دوہراتے ہیں۔ جب تک ہمیں ٹھوکر نہ لگے، اسی ڈگر پر چلتے رہتے ہیں جس کے راستے میں پتھر پڑے ہوں، جن کی ٹھوکر لگنے سے ہم اوندھے مونہہ گر پڑتے ہیں۔ راستے سے پتھر ہٹانے کی ہمیں عادت نہیں ہوتی۔ یہ کام تو اللہ کے نیک بندے ہی کرتے ہیں۔ اسی دنیا میں کہیں نہ کہیں ایسے نیک اور پارسا لوگ بھی مل جاتے ہیں جو گرتوں کو تھام لیتے ہیں۔ گرتے پڑتوں کے کپڑوں پہ لگی دھول مٹی کو جھاڑتے ہیں، اور ان کے زخموں کی مرہم پٹی بھی کرتے ہیں۔ وہ جو دوسروں کے کام آتے ہیں۔ وہ رحم دل اور غمخوار ہوتے ہیں۔ اُن کی زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ہوتا ہے۔ وہ اسی دنیا کے باسی ہوکر بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دوسروں کے غم بانٹنا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہی اصل زندگی ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ
اپنے لیے توسب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد، آوروں کے کام آنا

جس طرح اچھا کاروبار اور اچھی دکانداری ہوسکتی ہے اسی طرح اچھی دنیا داری بھی ہوسکتی ہے۔ ہمیں اچھا، سودمند، مخلص اورنیک، سبق کون سکھاتا ہے، اس کا نام دین ہے۔ وہ لوگ جو بہتردنیاداری کے ساتھ ساتھ دینداری کرتے ہیں وہی ہماری زندگی کو خوبصورت، سہل اور باعث اطمینان بناتے ہیں۔ ہمارا گزارا نہ تو دنیاداری کی بغیر ہو سکتا ہے اور نہ دینداری کے بنا۔ ایک وقت تھا کہ ہم دنیا کو اس کی ترقی کے حوالے سے رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ دنیا کے ممالک کو مہذب اور ان کی شاندار روایات کے گن گاتے تھے جبکہ یہ دنیا ہمیں قدامت پسند اور نہ جانے کیا کیا کہتی تھی۔ ایک وقت یہ ہے کہ دنیا اب ہماری عزت و قدر کرتی ہے، ہماری افواج کی شجاعت و بہادری کو بجا طور پر سراہتی ہے۔ یہ ہیں کتاب دنیا کے لیے اوراق اور دنیا کی بے ثباتی۔ اب ہمارے پاس عزت و وقار کی دولت موجود ہے۔ اس کو قائم رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم کم ازکم اپنی دنیا کو بہتر بنانے کے لیے کچھ کام کریں۔ ہم انسانیت کی بہتری کی کوشش کریں۔ بھلے کاموں میں اللہ مدد فرماتا ہے اور جب اللہ کی نصرت شامل حال ہو تو سب مشکلات، دقتیں، ناموافق حالات اور دشمنوں کی ضرر رسانی سب خاک میں مل جاتی ہیں۔

آئیے عہد کریں کہ ہم محبتوں کے چراغ جلائیں گے۔ آپس داری اور رواداری کو فروغ دیں گے۔ مسکرا کر بات کریں گے۔ جو شکوہ کناں ہیں ان کے دلوں کا میل دھوئیں گے۔ جو گریہ کناں ہیں اُن کے دکھوں کا ازالہ کریں گے۔ کسی کو دکھ دیں گے نہ دل دکھائیں گے۔ بھائیوں سے بغل گیر ہوں گے اور بہنوں کے سروں پر ہاتھ رکھیں گے۔ پھر دیکھنا ہماری دنیا کتنی خوبصورت و حسین ہوگی۔ اللہ ہماری گم گشتہ جنت کی تلاش میں مدد فرمائے۔ آمین!