امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنيامن نتن ياہو پر اپنے اعتماد کی حد سے متعلق پوچھے گئے ایک براہِ راست سوال کا حیران کن جواب دیتے ہوئے کہا “سچ کہوں تو میں کسی پر اعتماد نہیں کرتا… سیاست کی دنیا میں، میں کسی پر بھی بھروسا نہیں کرتا”۔
ان کے اس بیان نے نتن ياہو کے ساتھ ان کے تعلقات سے متعلق نئے سیاسی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ بیان 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی انتخابات سے محض چند روز قبل سامنے آیا ہے، جسے تجزیہ کار ایک اہم اور نازک موڑ پر “بنيامن نتن ياہو کے لیے ایک زوردار طمانچہ” قرار دے رہے ہیں۔
اس بیان پر توجہ صرف عدمِ اعتماد سے متعلق جملے تک ہی محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ، بنيامن نتن ياہو کی دوبارہ انتخاب کے لیے کھلے عام حمایت سے گریز کر رہے ہیں حالانکہ نتن ياہو نے اسرائیلی سیاسی منظر نامے میں امریکی صدر کے ساتھ اپنے تعلقات کی اہمیت کو بارہا اجاگر کیا ہے۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بنيامن نتن ياہو کی انتخابی مہم میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں، تو انہوں نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی حکام ان کی مداخلت کے خواہاں ہیں، لیکن انہوں نے اس مہم میں حصہ لینے یا براہ راست انتخابی حمایت سے متعلق کوئی وعدہ نہیں کیا۔
اس کے برعکس امریکی صدر نے اس بات کی تاکید کرنے میں گرم جوشی دکھائی کہ نتن ياہو کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر ایران کے ساتھ مقابلے کے تناظر میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان کامیاب عسکری شراکت داری کی تعریف بھی کی۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ باہمی تعلقات کی تعریف اور انتخابی طور پر بنيامن نتن ياہو کی حمایت سے گریز کے اس ملاپ سے ظاہر ہوتا ہے کہ تزویراتی تعاون کے تسلسل اور وزیراعظم کے سیاسی مستقبل پر موقف کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ ٹرمپ نے پہلے (اسٹریٹجک تعاون) کی تو تصدیق کی، لیکن دوسرے (سیاسی مستقبل) کو بغیر کسی حتمی فیصلے کے چھوڑ دیا۔
