تجزیہ: ڈاکٹر سلطان روم
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، تحریک انصاف کا لانگ مارچ اور خیبر پختونخوا کی صورت حال نے ملک کے سیاسی منظرنامے کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔ ایسے میں مولانا فضل الرحمن سے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی ملاقاتیں اور وزیراعظم شہباز شریف کا ان سے رابطہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ بحران میں ان کے کردار پر توجہ مرکوز ہو رہی ہے۔
سیاست میں بعض اوقات حالات اس موڑ پر پہنچ جاتے ہیں جہاں محض بیانات، احتجاج اور جوابی الزامات سے آگے بڑھنے کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔ جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھ جائے، مذاکرات تعطل کا شکار ہوں اور سڑکوں پر سیاسی قوت کے اظہار کا سلسلہ شروع ہو جائے تو ایسے رہنماؤں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جو مختلف سیاسی حلقوں کے درمیان رابطے اور بات چیت کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ پاکستان میں اس وقت کم و بیش یہی صورت حال دکھائی دے رہی ہے۔ عمرے کی ادائیگی کے بعد مولانا فضل الرحمن کی وطن واپسی پر پہلے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ان سے ملاقات کی، پھر حکومتی وفد ان کی رہائش گاہ پہنچا اور بعدازاں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ ان ملاقاتوں کا وقت خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ جاری ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلافات بھی سیاسی ماحول پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ ایسے میں مولانا سے رابطوں کو محض رسمی ملاقاتیں قرار دینا صورت حال کے تمام پہلوؤں کا احاطہ نہیں کرتا۔

مولانا فضل الرحمن پاکستان کی سیاست میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ مختلف سیاسی ادوار میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے ساتھ معاملات کرتے رہے ہیں۔ اتحاد سازی، پارلیمانی سیاست، احتجاجی تحریکوں اور مذاکرات کے مختلف مراحل سے گزرنے کے باعث انہیں سیاسی معاملات کی پیچیدگیوں کا تجربہ حاصل ہے۔ ان کی اہمیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے کی گنجائش رکھتے ہیں۔ تاہم سیاسی رابطے اور عملی مفاہمت دو الگ چیزیں ہیں۔ کسی رہنما کی مختلف فریقوں تک رسائی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اسے نتیجہ خیز بنانے کے لیے تمام متعلقہ جماعتوں کی سنجیدگی بھی ضروری ہے۔ حالیہ ملاقاتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان رابطوں کو باضابطہ مذاکرات اور کسی قابلِ عمل لائحۂ عمل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ مولانا فضل الرحمن کا ممکنہ کردار اسی مرحلے پر نمایاں ہوگا۔
تحریک انصاف کا لانگ مارچ موجودہ سیاسی بحران کا ایک اہم پہلو ہے۔ حکومت اسے روکنے اور اسلام آباد کی جانب پیش قدمی محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ تحریک انصاف اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے۔ دونوں جانب کے مؤقف میں اختلاف کے باعث صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی مکالمے کی ضرورت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ احتجاج کرنا سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہے، لیکن اس دوران امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں کو مشکلات سے بچانا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح حکومت کی ذمہ داری ہے کہ قانون نافذ کرنے کے اقدامات اور سیاسی اختلافات کے حل کے درمیان مناسب توازن قائم رکھے۔
خیبر پختونخوا کی صورت حال اور گورنر راج جیسے ممکنہ اقدامات سے متعلق بحث نے بھی سیاسی ماحول کو حساس بنا دیا ہے۔ ایسے میں سیاسی مشاورت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا کشیدگی میں کمی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق ایک دوسرے کے مؤقف کو سننے اور قابلِ قبول حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہوں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مولانا فضل الرحمن سے ٹیلی فونک رابطہ بھی اسی پس منظر میں قابلِ توجہ ہے۔ اس رابطے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت موجودہ بحران میں سیاسی رابطوں اور مشاورت کی گنجائش برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ تاہم کسی ملاقات یا فون کال کو فوری طور پر بڑی سیاسی پیش رفت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

اصل اہمیت اس وقت سامنے آئے گی جب ان رابطوں کے نتیجے میں کوئی واضح لائحۂ عمل تشکیل پائے، مذاکرات کا طریقۂ کار طے ہو اور متعلقہ جماعتیں اپنے اختلافات پر سنجیدگی سے بات کرنے پر آمادہ ہوں۔ اگر سیاسی رابطے محض ملاقاتوں اور بیانات تک محدود رہے تو بحران کے بنیادی اسباب اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔ پاکستان کی سیاست میں مفاہمت کی کوششیں نئی نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی مختلف رہنماؤں نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوششیں کیں، لیکن سیاسی عدم اعتماد، متضاد مطالبات اور سخت مؤقف اکثر ان کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ موجودہ صورت حال میں بھی مولانا فضل الرحمن کے لیے اصل چیلنج دونوں جانب اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔ حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ وہ سیاسی اختلافات کے حل کے لیے کس حد تک لچک دکھانے کو تیار ہے، جبکہ تحریک انصاف کو بھی اپنے مطالبات اور مذاکرات کے ممکنہ دائرۂ کار کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ کسی ایک فریق کی آمادگی کافی نہیں؛ بامعنی مذاکرات کے لیے دونوں جانب سنجیدگی ضروری ہے۔
اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ مذاکرات کسی ایک جماعت کی سیاسی برتری کا ذریعہ بننے کے بجائے قومی مسائل کے حل پر مرکوز رہیں۔ معیشت، امن و امان، وفاق اور صوبوں کے تعلقات اور جمہوری اداروں کا استحکام ایسے معاملات ہیں جن پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنا ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے حالیہ سیاسی رابطوں کو اس اعتبار سے اہم سمجھا جا سکتا ہے کہ موجودہ بحران میں مکالمے کے امکانات تلاش کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ان کے کردار کی کامیابی کا فیصلہ ملاقاتوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ آیا ان کوششوں کے نتیجے میں کشیدگی کم ہوتی ہے، مذاکرات کا راستہ کھلتا ہے اور سیاسی فریق کسی قابلِ عمل حل کی طرف بڑھتے ہیں یا نہیں۔
پاکستان اس وقت ایسے سیاسی ماحول کا متحمل نہیں ہو سکتا جس میں ہر اختلاف محاذ آرائی اور ہر مطالبہ ضد کی صورت اختیار کر لے۔ جمہوری نظام کی مضبوطی کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے، اپوزیشن اپنا سیاسی کردار ذمہ داری سے ادا کرے اور تمام فریق اختلافات کے باوجود مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھیں۔ مولانا فضل الرحمن کے پاس سیاسی تجربہ اور مختلف حلقوں سے رابطوں کا امکان موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ ان امکانات کو کس حد تک مؤثر سیاسی مکالمے میں ڈھال پاتے ہیں۔ اگر حکومت اور اپوزیشن قومی مفاد کو ترجیح دینے پر آمادہ ہو جائیں تو موجودہ کشیدگی میں کمی کی راہ نکل سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر یہ ملاقاتیں بھی سیاسی منظرنامے کی عارضی سرگرمی بن کر رہ جائیں گی۔
اس وقت پاکستان کو کسی ایک سیاسی فریق کی فتح یا دوسرے کی پسپائی سے زیادہ ایسے حل کی ضرورت ہے جو جمہوری عمل، آئینی حدود اور عوامی مفاد کو مضبوط کرے۔ موجودہ بحران میں مولانا فضل الرحمن کا کردار اسی پیمانے پر پرکھا جائے گا کہ وہ سیاسی اختلافات کو مکالمے میں بدلنے اور ملک کو مزید محاذ آرائی سے بچانے میں کس حد تک معاون ثابت ہوتے ہیں۔
