”نیا شام“ اور اسرائیلی خوف

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
احمد حسین الشرع کی قیادت میں نئی شامی حکومت اپنے اداروں، سیکورٹی نظام اور فوج کو دوبارہ منظم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل شام کے مستقبل کے بارے میں غیرمعمولی احتیاط کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ حالیہ اسرائیلی اور بین الاقوامی رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شام کی سرحد کے ساتھ دفاعی قلعہ بندی کا کام تیز کر دیا ہے۔ ”نیا مشرق“ کے نام سے جاری منصوبے میں گہری خندقیں، اونچے مٹی کے پشتے، پتھروں کی رکاوٹیں اور دیگر دفاعی انتظامات شامل ہیں۔
اگست 2026ءمیں اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اس منصوبے کے تحت خندقوں کی تقریباً 80 فیصد کھدائی مکمل ہوچکی ہے۔ یہ رکاوٹیں شمال میں مجدل شمس سے لے کر جنوبی سرحدی مثلث تک پھیلائی جا رہی ہیں۔ خندقیں تقریباً 4 میٹر گہری اور 4 میٹر چوڑی ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق یہ منصوبہ نیا ضرور دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی بنیاد پہلے ہی رکھی جا چکی تھی۔ اسرائیلی فوج نے 2024ءمیں شام کی صورتحال بدلنے کے بعد سرحد پر اس نوعیت کی تعمیر شروع کی تھی۔ بعد میں اس کا دائرہ بڑھا دیا گیا اور اب اسے پوری سرحدی پٹی کو مضبوط بنانے کے منصوبے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ نومبر 2025ءتک اسرائیلی ذرائع نے 60 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہونے کی اطلاع دی تھی، اب یہ شرح تقریباً 80 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس قلعہ بندی کا بنیادی مقصد کسی بھی ممکنہ زمینی پیش قدمی کو سست کرنا، فوجی نقل و حرکت کو مشکل بنانا اور اسرائیلی فوج کو دفاع کے لیے اضافی وقت فراہم کرنا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ رکاوٹیں کسی ایک موجودہ دشمن کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر تیار کی جا رہی ہیں۔ تاہم شام میں رونما ہونے والی سیاسی اور عسکری تبدیلیوں نے اس منصوبے کو نئی اہمیت دے دی ہے۔
اسرائیلی تشویش کا ایک بڑا سبب شامی حکومت کی طرف سے قومی فوج تشکیل دینے کی کوشش ہے۔ اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ نے چند روز قبل رپورٹ کیا کہ اسرائیلی سیکورٹی حلقے احمدالشرع کی طرف سے شامی فوج کی تعمیر نو کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیلی اندازوں کے مطابق دمشق ریاستی وسائل، ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی اور بیرونی امداد کا ایک قابل ذکر حصہ فوج اور نئے ہتھیاروں کے حصول پر خرچ کر رہا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شام مستقبل میں ایک بڑی فوج، مختلف فوجی ڈویڑنوں اور بری افواج کے مضبوط ڈھانچے کی تشکیل چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ فضائیہ کی بحالی اور ایئر ڈیفنس سسٹم حاصل کرنے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ اگرچہ یہ فوج ابھی مکمل طور پر تیار اور جدید جنگ کے لیے قابلِ اعتماد نہیں سمجھی جاتی، لیکن اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق شامی فوج نے بریگیڈ کی سطح پر متعدد مشقیں شروع کر دی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس اور دفاعی ادارے اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایک ایسا شام جو برسوں کی خانہ جنگی کے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا، اگر چند برسوں میں ایک منظم قومی فوج کھڑی کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو خطے کا طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب دمشق کو بیرونی دنیا سے سیاسی اور معاشی حمایت مل رہی ہے۔ جولائی 2026ءمیں امریکا نے شام کے حوالے سے اپنی پالیسی میں نمایاں نرمی کرتے ہوئے اسے ہتھیاروں کی برآمد پر عائد عمومی پابندی کی فہرست سے نکال دیا، جس کے بعد شام کے لیے اسلحے کی فروخت کی درخواستوں کو انفرادی بنیادوں پر دیکھا جا سکے گا۔ اسی عرصے میں شام کے خلاف بعض اہم پابندیاں بھی ختم کی گئیں۔
اسرائیلی خدشات صرف اس بات تک محدود نہیں کہ شام اپنی فوج دوبارہ بنائے گا۔ اسرائیلی دفاعی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ مستقبل میں اس فوج کا سیاسی اور عسکری رخ کیا ہوگا۔ ستمبر میں اسرائیلی میڈیا نے ایک سینئر دفاعی عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ احمدالشرع ابھی اپنی فوج کو اعلیٰ درجے کی جنگی تیاری تک نہیں پہنچا سکے، لیکن فوجی ڈھانچے کو منظم کرنے کا عمل جاری ہے۔ شامی حکومت بیک وقت عالمی سطح پر سفارتی قبولیت حاصل کرنے اور اپنی فوجی طاقت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ احمدالشرع نے واضح طور پر کہا ہے کہ شام اسرائیل کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔ جولائی میں الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ دمشق اسرائیل کے ساتھ ایک سیکورٹی معاہدے کے لیے مختلف ممالک کی مدد سے بات چیت کر رہا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور بالآخر وسیع تر امن کی راہ ہموار کرنا ہے، لیکن شام گولان کی ملکیت سے دستبردار نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود اسرائیلی فوج شام کے اندر اپنی موجودگی اور سرحدی دفاع کو مسلسل مضبوط کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ نے بھی جنوبی شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں، زمینی دراندازی اور فوجی تنصیبات کے قیام پر شدید تحفظات ظاہر کیے اور بعض اقدامات کو ممکنہ جنگی جرائم کے زمرے میں آنے کا خدشہ ظاہر کیا۔ اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی سامنے آتا ہے۔ ایک طرف دمشق اسرائیل کے ساتھ سیکورٹی معاہدے کی بات کر رہا ہے، عالمی طاقتوں سے تعلقات بہتر بنا رہا ہے اور ملک کی تعمیرنو چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل شام کے اندر اپنی فوجی پوزیشن مضبوط اور سرحدی رکاوٹیں مکمل کررہا ہے۔ جنوری میں امریکا کی ثالثی سے شام اور اسرائیل کے درمیان سیکورٹی مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے تھے۔ شام کا بنیادی مطالبہ یہ رہا کہ اسرائیل دسمبر 2024ءکے بعد قبضے میں لیے گئے علاقوں سے واپس جائے جبکہ اسرائیل جنوبی شام کو غیرفوجی علاقہ بنانے اور اپنی سلامتی کی ضمانتیں چاہتا ہے۔ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے احمدالشرع نے ایک بار پھر گولان کو شام کا حصہ قرار دیا اور اسرائیلی فوج سے جنوبی شام اور سرحدی علاقے سے انخلا کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے امن کا دروازہ کھلا رکھنے کا اعلان بھی کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ”نیا شام“ فی الحال دو راستوں کے درمیان کھڑا ہے: ایک طرف سفارت کاری، تعمیرنو اور عالمی قبولیت اور دوسری طرف ایک قومی فوج کی تشکیل اور اپنی سرحدی خودمختاری کی بحالی۔
سوال یہ ہے کہ اسرائیل کو مستقبل کا شام کیوں پریشان کررہا ہے؟ اصل خوف شاید آج کی شامی فوج سے زیادہ آنے والے کل کے شام کا ہے۔ اسرائیلی دفاعی حلقے بھی تسلیم کرتے ہیں کہ شامی فوج ابھی مکمل طور پر جنگی قوت نہیں بنی، لیکن انہیں اندیشہ ہے کہ اگر شام سیاسی استحکام حاصل کرلے، بیرونی پابندیوں سے نکل آئے، معیشت بحال ہوجائے اور ایک منظم فوج تشکیل پا جائے تو چند سال بعد صورتحال بالکل مختلف ہوسکتی ہے۔ اسی لیے سرحد پر خندقیں اور رکاوٹیں صرف آج کے خطرے کا سدباب نہیں بلکہ مستقبل کے ممکنہ خطرے کی تیاری بھی ہیں۔ اسرائیل بظاہر ایک ایسے شام کے لیے دفاعی نقشہ تیار کر رہا ہے جو آج کمزور ہے، لیکن کل مضبوط ہوسکتا ہے۔دوسری طرف شام کی نئی حکومت بھی جانتی ہے کہ اسے تباہ حال ملک کو دوبارہ کھڑا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی سرحدوں، فوج اور قومی خودمختاری کا سوال حل کرنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دمشق ایک طرف جنگ سے بچنے کے لیے سفارت کاری کر رہا ہے اور دوسری طرف ریاستی اداروں اور سیکورٹی ڈھانچے کو منظم کرنے میں مصروف ہے۔ ستمبر کے آخر میں امریکا نے شام کے ساتھ تعلقات میں مزید نرمی کا اشارہ دیا جبکہ واشنگٹن کی جانب سے شام کو عالمی نظام میں دوبارہ شامل کرنے کی کوششیں تیز ہوئی ہیں۔ اس سے اسرائیل کے لیے مسئلہ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے کیونکہ ایک کمزور اور تنہا شام کو روکنا ایک بات ہے، لیکن عالمی حمایت حاصل کرنے والے اور اپنی فوج بحال کرنے والے شام کی صورتحال بالکل مختلف ہوگی۔ اس لیے سرحد پر کھودی جانے والی خندقیں بدلتے ہوئے علاقائی طاقت کے توازن کی علامت ہیں۔ اسرائیل آج اپنی سرحد کے سامنے ایک کمزور شام نہیں بلکہ ایک ایسے ”نئے شام“ کے امکانات دیکھ رہا ہے جو آنے والے برسوں میں اپنی فوج، معیشت اور سیاسی اثر و رسوخ کو دوبارہ تعمیر کرسکتا ہے۔