اگست کا مہینہ شروع ہوچکا ہے اور پاکستان کا 80واں یوم آزادی منانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے قیام اور یہاں اسلامی نظام کے قیام کی دستوری جدوجہد کی مختصر تاریخ بیان کی جائے تاکہ ہماری نئی نسل کو پاکستان کے قیام کے مقاصد اور ان مقاصد کی طرف ہونے والی اب تک کی پیش رفت سے متعلق کچھ آگاہی مل جائے۔ پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان ہندوستان کو تقسیم کر کے بنا ہے۔ جب انگریز برصغیر میں آئے تھے تو متحدہ ہندوستان اورنگزیب کے زمانے سے ایک ملک چلا آ رہا تھا جو اَب چار ملکوں میں تقسیم ہو گیا ہے یعنی بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور برما۔ جب انگریزوں نے یہاں قبضہ کیا توپہلے انہوں نے برما کو الگ کیا۔ اس کے بعد ہندوستان کی آزادی کے وقت یہاں کی سیاسی پارٹیوں میں دو نقطۂ نظر سامنے آ گئے کہ مسلمانوں کے لیے الگ ملک ہونا چاہیے، اس پر آپس کی تقسیم بھی ہوئی اور اختلافات بھی ہوئے لیکن بہرحال پاکستان اور ہندوستان کے نام سے دو الگ الگ آزاد ریاستیں تسلیم کی گئیں۔ پھر پاکستان میں دو حصے شامل تھے، مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان، ایوب خان کے زمانے میں پاکستان کے یہ دو بڑے صوبے تھے۔ پھر یحییٰ خان کے زمانے میں یہ دو حصے الگ ہو گئے، مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا، اور مغربی پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے الگ ملک بنا۔
یوں اس تقسیم میں چار الگ الگ ملک دنیا کے نقشے پر موجود ہیں۔
پاکستان بن جانے کے بعد نفاذِ اسلام کی جدوجہد کن مراحل سے گزری اور کیا پیشرفت ہوئی؟ 1947ء میں پاکستان بنا تو بنگلہ دیش بھی مشرقی بنگال کے طور پر ہمارا حصہ تھا۔ اس وقت پاکستان کی دستور ساز اسمبلی بھی دونوں حصوں سے تھی۔ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان سے منتخب نمائندوں سے متفقہ دستور ساز اسمبلی وجود میں آئی جس نے یہ طے کرنا تھا کہ پاکستان کا دستور اور آئین کیا ہو گا اور پاکستان کا نظام کیا ہو گا۔ دستور ساز اسمبلی کے طور پر ملک میں انتخاب ہوا اور ملک کے مختلف حصوں سے نمائندے منتخب ہو کر آئے۔ ان میں مشرقی پاکستان سے سلہٹ کے علاقے سے شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی جو جمعیت علماء اسلام کے سربراہ تھے منتخب ہو کر دستور ساز اسمبلی میں آئے اور دستور سازی کا آغاز ہو گیا۔
پاکستان بننے کے بعد دستور ساز اسمبلی میں یہ بحث شروع ہو گئی کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہوگا یا سیکولر ریاست ہوگا؟ ملک کے دستور اور آئین کا مذہب کے ساتھ کوئی تعلق ہو گا یا نہیں ہوگا؟ دستور ساز اسمبلی میں دستور کی تشکیل کے ساتھ ہی یہ بحث شروع ہوگئی۔ اس وقت صورتحال یہ تھی کہ گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم تھے، وزیراعظم خان لیاقت علی خان مرحوم تھے، وزیر قانون جوگندر ناتھ ہندو تھے، اور وزیر خارجہ ظفر اللہ قادیانی تھا۔ یہ ایک مخلوط سی وزارت تھی۔ دستور ساز اسمبلی میں سب سے پہلا مسئلہ یہ پیش آیا کہ پاکستان اسلامی ریاست ہو گی یا سیکولر ریاست ہوگی؟ مشرقی پاکستان سے بہت سے ہندو بھی نمائندے تھے، اور مسلم لیگی یا دوسروں میں بھی بہت سے سیکولر لوگ تھے جو پاکستان کو ایک مسلمان ریاست تو تسلیم کرتے تھے لیکن اسلامی ریاست تسلیم نہیں کرتے تھے۔ یہ بہت بڑا حلقہ تھا جو اَب بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان مسلمانوں کے لیے بنا ہے، اسلام کے لیے نہیں بنا۔ مسلمانوں کو ہندوؤں کی بالادستی سے بچانے کے لیے ہم نے الگ ملک لیا تھا، اسلام کا نفاذ اور اسلام کا قانون اور دستور ہمارے پیشِ نظر نہیں تھا۔ ایک بڑا حلقہ یہ کہتا ہے۔
لیکن چونکہ قائد اعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان اور علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہم اللہ تعالیٰ جو کہ تحریک پاکستان کے بنیادی لیڈروں میں سے تھے، ان کے واضح اعلانات موجود ہیں کہ پاکستان میں اسلام کا نظام نافذ ہو گا، قرآن و سنت کے نفاذ کے لیے ہم نے یہ ملک لیا ہے، پاکستان ایک اسلامی، رفاہی اور نظریاتی ریاست ہو گی۔ اس پر لوگوں نے قربانیاں دی تھیں جو کہ آج بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اس لیے سیکولر لوگ اپنی بات پر زیادہ زور نہ دے سکے اور بالآخر مولانا شبیر احمد عثمانی کی کوششوں سے خان لیاقت علی خان نے مضبوط موقف اختیار کیا اور یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ اسمبلی کے اندر بنیادی طور پر محنت مولانا شبیر احمد عثمانی اور وزیراعظم لیاقت علی خان مرحوم کی تھی، جبکہ اسمبلی سے باہر مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے رائے عامہ منظم کرنے کے لیے محنت کی۔ ان میں جمعیت علماء اسلام کے رہنما مفتی محمد شفیع، مولانا احتشام الحق تھانوی، جماعت اسلامی کے امیر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، اہلِ حدیث رہنما مولانا داؤد غزنوی اور مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی، بریلوی علماء میں سے دو بڑے اکابر مولانا حامد بدایونی اور پیر صاحب آف مانکی شریف شامل تھے، رحمہم اللہ۔ ان حضرات نے عوام میں محنت کی کہ ملک کا دستور اسلامی ہونا چاہیے۔ کچھ عوامی دباؤ سے اور کچھ اسمبلی میں مضبوط نمائندگی سے کہ مولانا شبیر احمد عثمانی خود اسمبلی میں موجود تھے، انہوں نے یہ مہم سر کر لی کہ دستور ساز اسمبلی نے ”قرارداد مقاصد” پاس کر کے ہمیشہ کے لیے یہ طے کر دیا کہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہو گا، اور اس میں دستور اور قانون کی تشکیل میں اسلام، قرآن مجید اور سنتِ رسول کو بنیادی حیثیت حاصل ہو گی۔
قراردادِ مقاصد کیا ہے؟ یہ ذکر کرنے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ نفاذِ اسلام کے لیے دو تین اہم سوال ہمارے سامنے آ گئے تھے جن کا فیصلہ کیے بغیر پاکستان کو اسلامی ریاست قرار دینا مشکل تھا۔
ایک بات یہ تھی کہ پاکستان کا نظامِ حکومت کیسا ہوگا؟ دنیا میں دو تین قسم کے نظامِ حکومت چلتے آ رہے ہیں: ایک تصور یہ تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح چونکہ بانء پاکستان ہیں، اس لیے انہیں بادشاہ تسلیم کر لیا جائے اور ان کی جو اولاد ہے وہ ملک کی قیادت کرتی رہے۔ یعنی شخصی خاندانی حکومت کہ باپ کے بعد بیٹا، پھر دوسرا بیٹا، پھر بھائی وغیرہ۔ جبکہ دوسرا تصور یہ تھا کہ ملک میں جمہوری حکومت عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے قائم کی جائے۔
اسلامی ریاست بنانے کا مسئلہ پیش آیا تو اس وقت یہ دو آئیڈیل دستور ساز اسمبلی کے سامنے تھے۔ ایک خلافت عثمانیہ کا نمونہ ہمارے سامنے تھا۔ خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ 1924ء میں ہوا اور پاکستان 1947ء میں بنا۔ خلافتِ عثمانیہ جو تقریباً چار سو سال سے زیادہ عرصہ گزار کر دنیا سے رخصت ہوئی تھی، وہ ماڈل بھی سامنے تھا، لیکن وہ نظام خاندانی اور نسلی تھا اس لیے وہ آج کے دور میں قابلِ قبول نہیں تھا۔ اور اس کے بعد عالمِ اسلام میں جو ماڈل آیا تھا وہ سعودی عرب کا تھا۔ آلِ سعود نے خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد سعودی عرب کی تشکیل کی تھی اور حکومت قائم کی تھی۔ سعودی عرب نے اگرچہ یہ اعلان کیا تھا کہ ہم قرآن و سنت کے مطابق حکمرانی کریں گے لیکن حکومتی نظام بادشاہی ہوگا۔ حتیٰ کہ شاہ عبد العزیز مرحوم کو ہمارے بعض اکابر ہندوستانی علماء کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی تھی کہ آپ خلافت کا اعلان کریں، ہم آپ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کریں گے۔ لیکن انہوں نے کہا تھا کہ نہیں! سعودی عرب میں نظامِ حکومت بادشاہی ہو گا، البتہ قانون قرآن و سنت کے مطابق ہو گا۔ چنانچہ سعودی عرب کا نظام بھی ایک خاندانی بادشاہی نظام تھا، جو پاکستان میں قابلِ عمل نہیں تھا۔ سعودی عرب میں بادشاہ کون ہو گا، اس کا فیصلہ وہاں کے عوام نہیں کرتے بلکہ آلِ سعود کا خاندان اس کا انتخاب کرتا ہے۔ چنانچہ دستور ساز اسمبلی کے سامنے جو سوالات رکھے گئے، ان میں یہ سوال تھا کہ آپ خاندانی نظامِ حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں تو یہ دو ماڈل خلافتِ عثمانیہ اور آلِ سعود آپ کے سامنے ہیں۔ یہ دونوں پاکستان کے اس وقت کے حالات کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں تھے اور آج کے حالات میں بھی نہیں ہیں۔ اس لیے یہ تو نہیں ہو سکتا تھا، پھر کیا کیا جائے؟
لہٰذا قراردادِ مقاصد نے یہ طے کیا کہ نظامِ حکومت تو جمہوری ہو گا لیکن نظامِ مملکت قرآن و سنت کے تابع ہو گا۔ یوں ہی سمجھ لیجیے جیسے سعودی عرب میں قوانین شرعی ہوں گے اور حکومت بادشاہی ہو گی۔ بالکل اسی نہج پر یہاں یہ طے کیا گیا کہ قوانین شرعی ہوں گے اور حکومت جمہوری ہو گی۔ خلافت کا عنوان نہ سعودی عرب نے اختیار کیا اور نہ پاکستان نے اختیار کیا۔ قراردادِ مقاصد کی تین بنیادیں ہیں جس میں یہ باتیں طے کر دی گئیں:پہلا اصول قراردادِ مقاصد میں طے کیا گیا کہ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ جمہوریت کی بنیادی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ ”عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے”۔ یعنی حاکمیتِ اعلیٰ عوام کی ہوگی، عوام جو فیصلہ کر دیں، فائنل اتھارٹی سوسائٹی ہے۔ لیکن قراردادِ مقاصد میں طے ہوا کہ پاکستان میں حاکمیتِ اعلیٰ عوام کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ قرارداد مقاصد میں دوسرا اصول یہ طے ہوا کہ نظامِ حکومت نہ بادشاہی ہو گا اور نہ خاندانی ہو گا بلکہ عوام کی رائے کی بنیاد پر جمہوری حکومت ہوگی۔ تیسرا اصول یہ طے کیا گیا کہ حکومت اور پارلیمنٹ قرآن و سنت کے تابع ہوں گے۔ حکومت اور پارلیمنٹ قرآن و سنت کے منافی کوئی فیصلہ نہیں کر سکے گی۔
جب قراردادِ مقاصد پاس ہو گئی تو یہ کہا گیا کہ پاکستان نے کلمہ پڑھ لیا ہے۔ جیسے کوئی آدمی کلمہ پڑھ لیتا ہے تو وہ مسلمان ہو جاتا ہے، آگے اس کا تعلق اعمال سے ہے، لیکن کلمہ پڑھنے سے بہرحال وہ مسلمان سمجھا جاتا ہے۔ قراردادِ مقاصد کی منظوری کے بعد پاکستان ایک اسلامی ریاست تسلیم کیا گیا اور بالکل اسی طرح دنیا کے نقشے پر وجود میں آیا جیسے کوئی آدمی کلمہ پڑھ کر خود کو مسلمانوں کی فہرست میں شامل کر لیتا ہے۔ (جاری ہے)

