سسٹم تباہ تو ہو چکا ہے مگر!

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ بیان کہ سسٹم تباہ ہو چکا ہے محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ ایک ایسا اعتراف ہے جس نے پورے ملک میں ایک اہم بحث چھیڑ دی ہے۔ اگر ایک ذمہ دار حکومتی شخصیت یہ کہہ رہی ہے کہ نظام تباہ ہو چکا ہے تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر وہ کونسا سسٹم ہے جو تباہ ہوا؟ کیا صرف چند ادارے ناکام ہوئے ہیں یا ریاستی نظم و نسق کا پورا ڈھانچہ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا؟ اور اگر واقعی نظام اس حالت تک پہنچ چکا ہے تو پھر اس کے ذمہ دار کون ہیں اور اسے درست کون کرے گا؟

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کا سسٹم ایک دن میں نہ بنتا ہے اور نہ ایک دن میں تباہ ہوتا ہے۔ نظام برسوں میں مضبوط بھی ہوتا ہے اور برسوں کی غلطیوں، کمزور پالیسیوں، ناقص حکمرانی، بدعنوانی، سیاسی عدم استحکام اور ادارہ جاتی کمزوریوں کے باعث کمزور بھی ہوتا جاتا ہے۔ پاکستان بھی کئی دہائیوں سے انہی مسائل سے نبرد آزما ہے۔ اگر ایک عام پاکستانی سے پوچھا جائے کہ کیا واقعی سسٹم کمزور ہے تو شاید وہ کسی لمبی تقریر کے بغیر اپنی روزمرہ زندگی کی چند مثالیں دے کر جواب دے دے۔ ایک شخص کو شناختی دستاویز بنوانے کے لیے بار بار دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ دوسرا معمولی مقدمے میں برسوں عدالتوں کے چکر کاٹتا رہتا ہے۔ ایک نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار سے محروم رہتا ہے۔ ایک مریض سرکاری اسپتال میں بنیادی سہولتوں کے لیے پریشان ہوتا ہے۔ کسان مہنگی کھاد، بجلی اور ڈیزل کے باعث مشکلات میں ہے جبکہ شہری مہنگائی کے مسلسل بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اگر یہ سب کچھ ایک ہی وقت میں ہو رہا ہو تو عوام کا نظام پر اعتماد متزلزل ہونا حیران کن نہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں اداروں کی کارکردگی اکثر افراد کے ساتھ منسلک کر دی جاتی ہے۔ ایک افسر آیا تو ادارہ بہتر ہو گیا، وہ چلا گیا تو سب کچھ پہلے جیسا ہو گیا۔ مضبوط نظام وہ ہوتا ہے جو افراد کے بدلنے سے متاثر نہ ہو بلکہ قانون، قواعد اور ادارہ جاتی نظم پر قائم رہے۔ پاکستان میں یہی تسلسل سب سے زیادہ کمزور ہے۔ معاشی شعبہ اس بحران کی ایک واضح مثال ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں مہنگائی نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط طبقے کو بھی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ جب ایک سرکاری ملازم یا مزدور اپنی پوری تنخواہ کے باوجود مہینے کا بجٹ پورا نہ کر سکے تو وہ لازماً یہ سوال کرتا ہے کہ آخر نظام کہاں ناکام ہو رہا ہے؟

تعلیم اور صحت کے شعبے بھی اصلاحات کے منتظر ہیں۔ ایک طرف نجی ادارے مہنگے ہوتے جا رہے ہیں اور دوسری طرف سرکاری اداروں میں وسائل کی کمی، عملے کی قلت اور انتظامی مسائل موجود ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ عام شہری اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی شدید مالی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام نے بھی اداروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ جب حکومتیں اپنی مدت پوری نہ کر سکیں، پالیسیاں بار بار تبدیل ہوں اور ہر نئی حکومت پرانی حکومت کے منصوبوں کو روک دے تو ترقی کا سفر سست پڑ جاتا ہے۔ قومی منصوبہ بندی کے لیے پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اکثر سیاسی اختلافات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے رہے ہیں۔

تاہم ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر نظام خراب ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا جواب کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک ادارے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال کئی دہائیوں کے فیصلوں، غلطیوں اور کمزوریوں کا مجموعی نتیجہ ہے۔ مختلف ادوار میں مختلف حکومتیں، مختلف پالیسیاں اور مختلف ترجیحات رہی ہیں۔ اس لیے اصلاح کی ذمہ داری بھی اجتماعی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ موجودہ حکمران اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جائیں۔ اگر تین سال اقتدار میں رہنے کے بعد کوئی حکومتی نمائندہ یہ کہے کہ سسٹم تباہ ہو چکا ہے تو اس سے یہ سوال تو بنتا ہے کہ تین سال سے آپ نے سسٹم کے لیے کیا کیا؟ آپ نے سسٹم کو تباہ کیوں ہونے دیا؟ آپ کو آج اچانک کیسے معلوم ہوا کہ سسٹم تباہ ہو چکا ہے، یقینا آپ کو پہلے سب کچھ معلوم تھا بس کسی موقعے کی تلاش میں تھے یہ سب بتانے کے لیے۔

اگر سسٹم تباہ ہو چکا ہے تو اس کو درست کس نے کرنا ہے کیا پریس کانفرنس میں یہ کہہ دینے سے آپ بری الذمہ ہو جاتے ہیں ؟ ہر گز نہیں۔ آپ ایک انتہائی اہم انتظامی عہدے پر فائز ہیں تو آپ سسٹم کو درست کرنے کے بھی ذمہ دار ہیں آپ کو عوام کے سامنے سسٹم کی تباہی کا اعتراف کرنے کی بجائے اسے درست کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ عوام اگر بول نہ سکتے ہوں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ سمجھ بھی نہیں سکتے عوام کو نظر آرہا ہے کہ سسٹم تباہ ہو چکا ہے اور وہ اس کے ذمہ داروں سے بھی واقف ہیں۔ بس آپ اس سسٹم کی بہتری کے لیے کام کریں جیسا کہ سب سے پہلے میرٹ کو ہر شعبے میں یقینی بنایا جائے۔ سرکاری ملازمتوں، ترقیوں اور تقرریوں میں صرف قابلیت اور شفافیت کو معیار بنایا جائے۔ دوسرا، سرکاری اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن کی جائے تاکہ عوام کو غیر ضروری چکروں اور کاغذی کارروائی سے نجات مل سکے۔ تیسرا، بدعنوانی کے خلاف ایسا احتسابی نظام قائم کیا جائے جو بلاامتیاز اور شفاف ہو۔ چوتھا، عدالتی اصلاحات کے ذریعے مقدمات کے جلد فیصلوں کو یقینی بنایا جائے۔ پانچواں، صحت، تعلیم، بلدیاتی نظام اور پولیس جیسے شعبوں میں مستقل اصلاحات نافذ کی جائیں تاکہ عوام کو اپنی زندگی میں حقیقی تبدیلی محسوس ہو۔

حکومت کو اپنی ترجیحات پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی۔ اگر عوام معاشی مشکلات برداشت کر رہے ہیں تو حکمرانوں کو بھی کفایت شعاری کی مثال قائم کرنا ہوگی۔ غیر ضروری سرکاری اخراجات، شاہانہ پروٹوکول اور وسائل کے غیر مؤثر استعمال کو کم کیے بغیر عوام سے مزید قربانیوں کی توقع کرنا مشکل ہوگا۔ پاکستان کے نوجوان اس ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ انہیں روزگار، جدید تعلیم، ٹیکنالوجی، کاروباری مواقع اور شفاف ماحول فراہم کیے بغیر ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ اگر باصلاحیت نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہوں تو یہ بھی نظام کی کمزوری کی ایک علامت ہے جسے سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ یہ وقت مایوسی پھیلانے کا نہیں بلکہ اصلاحات کا ہے۔ اگر واقعی نظام کمزور ہے تو سب سے پہلے اس کی تشخیص، پھر اس کے علاج اور اس کے بعد مستقل نگرانی کی ضرورت ہے۔ دنیا کی کئی قومیں ایسے ہی بحرانوں سے نکل کر مضبوط ریاستیں بنی ہیں کیونکہ انہوں نے غلطیوں کا اعتراف بھی کیا اور ان کی اصلاح بھی کی۔ وفاقی وزیر داخلہ کا بیان دراصل ایک موقع بھی ہے۔ اگر اس اعتراف کے بعد حکومت، پارلیمنٹ، ریاستی ادارے، سیاسی جماعتیں، عدلیہ، سول سوسائٹی اور عوام سب مل کر اصلاحات کے ایجنڈے پر اتفاق کر لیں تو پاکستان ایک نئے سفر کا آغاز کر سکتا ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سسٹم خود بخود تباہ نہیں ہوتا، اسے غلط فیصلے، کمزور حکمرانی اور اصلاحات میں تاخیر کمزور کرتی ہے۔ اسی طرح سسٹم خود بخود درست بھی نہیں ہوتا، اسے مضبوط قیادت، قانون کی بالادستی، دیانت دارانہ فیصلوں، شفاف احتساب اور عوامی خدمت کے جذبے سے ہی دوبارہ کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ اب بھی وقت ہے۔ اگر ہم نے آج ہمت کر کے اصلاحات کا آغاز کر دیا تو آنے والی نسلیں ایک مضبوط، منصف، شفاف اور باوقار پاکستان دیکھ سکتی ہیں۔ لیکن اگر اعتراف صرف تقاریر تک محدود رہا تو تاریخ ہمیں ایک اور ضائع شدہ موقع کے طور پر یاد رکھے گی۔