گزشتہ پانچ ماہ کے دوران روس، قازقستان اور ازبکستان کے مختلف شہروں کا سفر کیا۔ اس دوران ان ممالک میں تاجروں، سفیروں اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ہر جگہ گلوبل ساتھ (Global South) کے ساتھ روابط بڑھانے اور اس سمت میں موثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور نظر آیا۔ازبکستان کا تاریخی شہر بخارا ہو، روس کا دارالحکومت ماسکو، ازبکستان کا دارالحکومت تاشقند یا قازقستان کے شہر الماتے اور آستانہ، ہر جگہ یہ احساس نمایاں تھا کہ ان ممالک کے تاجر کراچی اور گوادر کے ذریعے اپنی تجارت کو پاکستان کے ساتھ منسلک کرنا چاہتے ہیں، لیکن عملی طور پر تجارتی رکاوٹیں کم ہونے کی بجائے بدستور موجود ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ان ممالک میں پاکستان کے کمرشل اتاشی اور ٹریڈ افسران تعینات ہیں، لیکن پاکستانی تاجروں اور مقامی امپورٹرز کو مطلوبہ معلومات، مارکیٹ ڈیٹا اور تجارتی رہنمائی میسر نہیں۔ پاکستانی مصنوعات کی نمائشوں (Exhibitions) کے لیے کوئی مستقل اور مربوط نظام موجود نہیں۔ کبھی کبھار سال میں ایک آدھی نمائش میں چند کمپنیاں اپنی مدد آپ کے تحت شرکت کرتی نظر آتی ہیں، جبکہ بعد ازاں ان سرگرمیوں کا کریڈٹ سفارت خانوں میں موجود افسران لینے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے برعکس قومی دنوں کی تقریبات اور فوٹو سیشنز زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں، جبکہ اصل توجہ تجارت کے فروغ، مارکیٹ تک رسائی اور پاکستانی مصنوعات کی تشہیر پر ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ وسطی ایشیائی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کے لیے دستیاب مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔اس کے علاوہ جہاں کہیں بزنس کونسلز موجود ہیں، وہاں بھی بعض اوقات یہ ادارے قومی مفاد کی بجائے ذاتی تشہیر اور محدود فوائد کے حصول کے لیے سرگرم دکھائی دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان اور پاکستانی ایکسپورٹرز کو مطلوبہ فائدہ نہیں مل رہا۔پاکستانی آموں کا سیزن جاری ہے، لیکن روس سے لے کر ترکمانستان تک پاکستانی ٹریڈ افسران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی نمایاں سرگرمی یا موثر مارکیٹنگ مہم نظر نہیں آتی۔
یہ باتیں ان ممالک میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے افراد نے بھی اٹھائیں۔ تاشقند میں ایک پاکستانی ڈاکٹر نے بتایا کہ دوسری انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کانفرنس تاشقند میں دنیا بھر کی کمپنیاں خصوصا بھارتی کمپنیاں بڑی تعداد میں شریک تھیں، لیکن پاکستان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔اسی طرح روس کے شہر کازان میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں بھی خود مشاہدہ کیا کہ پاکستان سے چند افراد شریک تھے، جن کا تعلق زیادہ تر تعلیمی شعبے سے تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطہ کاری (Connectivity) ہماری اولین ترجیحات میں شامل نہیں؟ یا پھر بیرون ملک ٹریڈ افسران کی تعیناتی محض ایک رسمی کارروائی اور نوازنے کا ذریعہ بن چکی ہے؟
تقریبا تین برس قبل نگران حکومت کے دور میں بیرون ملک 40 نئے ٹریڈ افسران کی تعیناتی کے لیے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ اس وقت حکومتی ذرائع کے مطابق سڈنی، ہانگ کانگ، شنگھائی، جکارتہ، واشنگٹن، لندن، قندھار، ٹوکیو، نئی دہلی، بنکاک، نیویارک، میڈرڈ، ریاض اور جدہ سمیت مختلف مقامات پر ٹریڈ افسران تعینات کیے جانے تھے۔اس وقت بھی سوال اٹھایا گیا تھا کہ آخر نئی اور ابھرتی ہوئی منڈیوں پر توجہ کیوں نہیں دی جا رہی؟ افریقہ، وسطی ایشیائی ممالک اور روس جیسے خطوں کو نظر انداز کیوں کیا جا رہا ہے؟ آج تین سال گزرنے کے بعد سوال پھر وہی ہے کہ ان ٹریڈ افسران کی کارکردگی کی رپورٹس کہاں ہیں؟ ان ممالک کے ساتھ بینکاری نظام فعال کیوں نہیں ہو رہا؟ نئی تجارتی راہداریوں میں رکاوٹیں کم کیوں نہیں ہو رہیں؟ دنیا بھر میں سفارت کاری کے روایتی طریقہ کار میں بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔ اب اس کی جگہ معاشی سفارت کاری (Economic Diplomacy) نے لے لی ہے۔
چند مستثنیات کے علاوہ بیرون ملک تعینات بعض کمرشل اتاشیوں اور افسران کا رویہ اپنے تاجروں اور پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ حوصلہ افزا نہیں ہوتا۔ میں سب کی بات نہیں کر رہا، لیکن مجموعی طور پر ایک ایسا تاثر موجود ہے کہ بعض افسران ملکی تجارت کے فروغ کی بجائے ذاتی تشہیر اور ذاتی مفادات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔پاکستان کی مجموعی برآمدات کا تقریبا 60 سے 70 فیصد انحصار امریکہ اور یورپی منڈیوں پر ہے۔ ایسے وقت میں جب یہ ممالک معاشی سست روی کا شکار ہو رہے ہیں، پاکستان کو نئی منڈیوں کی ضرورت ہے تاکہ ملکی معیشت اور پاکستانی برآمد کنندگان کو نئی توانائی مل سکے۔اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ بجٹ میں ایکسپورٹرز اور امپورٹرز کے لیے ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کی جاتی، لیکن اس بار بھی خاطر خواہ سہولتیں یا مراعات نظر نہیں آئیں۔سوال یہ ہے کہ وزارت تجارت، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP)، وزارتِ کامرس اور ایف پی سی سی آئی کے درمیان رابطے کا فقدان کہاں ہے؟ کیا آئی ایم ایف کی شرائط رکاوٹ ہیں یا کوئی اور دبا موجود ہے؟ضرورت اس امر کی ہے کہ افریقہ سمیت وسطی ایشیائی ممالک اور روس میں نئے اور فعال ٹریڈ افسران تعینات کیے جائیں، ان کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور تاجروں و ایکسپورٹرز سے باقاعدہ رائے حاصل کی جائے۔ ویزوں کے حصول کا عمل آسان بنایا جائے، اور روس سمیت وسطی ایشیائی ممالک میں سنگل کنٹری ایگزیبشنز منعقد کی جائیں۔سوال یہ ہے کہ کیا اکنامک ڈویژن اور وزارت تجارت اس اہم معاملے میں سنجیدہ دلچسپی دکھائیں گے؟ خلا موجود ہے، اور وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، تاجر برادری اور سفارت کار اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ ایک بات واضح ہے کہ اجتماعی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ معیار، کوالٹی اور اعتماد ہی وہ عوامل ہیں جن کے ذریعے دنیا میں پاکستان کا نام اور پاکستانی مصنوعات کا مقام بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
