عورت کی ملازمت شریعت کی روشنی میں

ایک طرف مغربی ممالک اور ان کا معاشرتی و معاشی نظام ہے، جہاں عورت کو گھروں سے باہر نکال کر اس پر معاشی ذمہ داریاں ڈال دی گئی ہیں اور دوسری طرف دینِ اسلام کا متوازن نظام ہے جو عورت کو عزت، تحفظ اور وقار عطا کرتا ہے۔ مغربی نظام کے نتیجے میں پورا خاندانی ڈھانچہ تباہی سے دوچار ہو چکا ہے۔ بچے اپنی شناخت، ماں باپ کی محبت اور خاندانی تربیت سے محروم ہو گئے ہیں۔ شوہروں کے لیے شادی سکون کا ذریعہ نہیں رہی اور بیویاں وفاداری اور قرار کی علامت نہیں رہیں۔

اسلام نے مسلمانوں کو ایک مضبوط خاندانی نظام عطا کیا ہے، جس کے ساتھ ساتھ ایک جامع تربیتی نظام بھی دیا ہے۔ عورت اور مرد کی فطرت، جسمانی ساخت اور نفسیاتی صلاحیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی ذمہ داریاں متعین کی گئی ہیں۔ عورت کی ساخت ایسی ہے کہ وہ زیادہ جسمانی مشقت برداشت نہیں کر سکتی، اسی لیے گھر کی ذمہ داریاں، بچوں کی تربیت اور گھریلو امور اس کے ذمے لگائے گئے ہیں، جبکہ مرد کے ذمے گھر کے اخراجات اٹھانا اور معاشی جدوجہد کرنا ہے۔اسی تقسیمِ کار میں خاندانی نظام کی بقا اور معاشرے کی بنیادی قدریں محفوظ رہتی ہیں۔ قرآن مجید نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں اور دورِ جاہلیت کی طرح زیب و زینت کی نمائش نہ کریں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور پہلی جاہلیت کی طرح بے پردگی کا مظاہرہ نہ کرو۔”(سورہ الاحزاب)اسی طرح مردوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ عورتوں پر قوام ہیں، یعنی عورتوں کی کفالت، اخراجات اور معاشی ذمہ داریاں مردوں کے ذمے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔”(سورہ النسائ) قرآن مجید میں نیک عورتوں کی یہ صفت بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور اپنے شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عورت کی بنیادی ذمہ داری گھر سنبھالنا، بچوں کی تربیت کرنا اور خانگی نظام کو قائم رکھنا ہے، جبکہ مرد کی ذمہ داری معاشی سرگرمیوں میں مصروف رہنا ہے۔

تاہم اسلام نے اس تقسیم کے باوجود عورت کے لیے معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی مکمل ممانعت نہیں کی۔ اگر عورت اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے، شرعی حدود، پردے اور حجاب کی پابندی کے ساتھ معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے تو اس کی اجازت دی گئی ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے: ”مردوں کے لیے اس میں حصہ ہے جو انہوں نے کمایا، اور عورتوں کے لیے اس میں حصہ ہے جو انہوں نے کمایا۔”(سورہ النسائ)اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اگر عورت شریعت کی حدود کی مکمل پابندی کرتے ہوئے کسبِ معاش کرے تو قرآن و سنت نے نہ اسے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی ناپسندیدہ۔ البتہ بنیادی شرط یہ ہے کہ پردے کا اہتمام ہو، غیر مردوں سے تعلقات میں احتیاط برتی جائے اور بے جا اختلاط سے مکمل اجتناب کیا جائے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بعض کام ایسے ہیں جو خواتین ہی بہتر طریقے سے انجام دے سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر کسی بھی مسلم معاشرے میں خواتین کے علاج و معالجے کے لیے خواتین ڈاکٹرز کا ہونا ناگزیر ہے۔ اسی لیے خواتین میں سے ایک جماعت کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا اور طبی و تعلیمی شعبوں میں خدمات انجام دینا نہایت ضروری ہے۔اسی طرح بعض مصنوعات اور خدمات ایسی ہیں جو خواتین ہی سے خریدی جا سکتی ہیں، کیونکہ شرم و حیا کے تقاضوں کے باعث مردوں سے ان کا لین دین مشکل ہوتا ہے۔ بعض اوقات حالاتِ زمانہ اور زندگی کے نشیب و فراز کے باعث خواتین کو کاروبار یا محنت مزدوری کی ضرورت بھی پیش آ جاتی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں بھی کئی خواتین معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیا کرتی تھیں۔ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں بلکہ ایک عظیم تاجر خاتون بھی تھیں۔ وہ اپنا مالِ تجارت معتبر افراد کے ذریعے دور دراز ممالک تک بھیجا کرتی تھیں اور گھر میں بیٹھ کر تجارت کرتی تھیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تجارت اتنی وسیع تھی کہ اہلِ مکہ کے بیشتر تاجروں کا سرمایہ ایک طرف اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مالِ تجارت دوسری طرف شمار کیا جاتا تھا۔ نکاح کے بعد بھی انہوں نے تجارت کا سلسلہ جاری رکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا مالِ تجارت لے کر مختلف بازاروں میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ ٭ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو ان کے بیٹے عبداللہ بن ابی ربیع یمن سے عطر بھیجا کرتے تھے، جس کا وہ کاروبار کرتی تھیں۔ ٭ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بھی ایک باہنر اور سمجھدار خاتون تھیں، جو اپنے اور اپنے شوہر و بچوں کے اخراجات اپنے کاروبار سے پورے کیا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اپنے اہل و عیال پر صدقہ کرنے کا ثواب عام لوگوں پر صدقہ کرنے سے کم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو، اس میں صدقے کا بھی ثواب ہے اور صلہ رحمی کا بھی۔

ان تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام عورت کو معاشی میدان میں حصہ لینے سے نہیں روکتا، بلکہ اسے شرعی حدود کے اندر رہ کر اجازت دیتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ عورت کی سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری گھر سنبھالنا، بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کرنا اور گھر کو سکون و محبت کا گہوارہ بنانا ہے۔ معاشی سرگرمیاں اس کے لیے ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔مغربی تعلیمی نظام اور تہذیبی ڈھانچے کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ عورتوں کو گھروں سے باہر نکالنے کے نتیجے میں معاشرے میں بے شمار مسائل نے جنم لیا ہے۔ مغرب یہ بھول چکا ہے کہ اگر عورت سارا وقت معاشی سرگرمیوں میں مصروف رہے گی تو بچوں کی تربیت کون کرے گا اور گھر کی حفاظت کون سنبھالے گا؟اسی غفلت کے باعث مغرب میں خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ بچوں کی تربیت کا سنگین بحران پیدا ہو چکا ہے، جس کا کوئی مؤثر حل اب تک سامنے نہیں آ سکا۔

مرد و زن کی مساوات کے نعرے نے عورت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ عورت کو اپنی گزر بسر کے لیے خود کمانا پڑتا ہے، بازاروں میں دھکے کھانے پڑتے ہیں، اور شوہر کی بے وفائی کی صورت میں بچوں کی ذمہ داری بھی اسی کے کندھوں پر آن پڑتی ہے۔ سب سے تکلیف دہ مرحلہ بڑھاپے کا ہوتا ہے، جب اولڈ ہوم کے سوا عورت کے پاس کوئی سہارا باقی نہیں رہتا۔ مغربی مرد بھی اس استحصال پر خاموش ہے، کیونکہ وہ جوانی میں فائدہ اٹھا کر بڑھاپے میں عورت کو تنہا چھوڑ دیتا ہے۔اسلام اس کے برعکس عورت کو تحفظ، کفالت اور عزت کا حق دیتا ہے۔ اگر عورت کاروبار یا معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے تو اس پر لازم ہے کہ اسلامی احکام کی مکمل پابندی کرے۔ شریعت نے عورت کو چھپی ہوئی چیز قرار دیا ہے، اس لیے پردے کا اہتمام، شرعی حدود کی پابندی، نامحرموں سے اختلاط سے اجتناب اور جسمانی نمائش سے بچنا اس پر لازم ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اسلام عورت کی ملازمت یا معاشی شرکت کو مطلقاً منع نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک منظم، باوقار اور حدود میں بند نظام کے تحت اجازت دیتا ہے، تاکہ عورت کی عزت بھی محفوظ رہے اور خاندانی نظام بھی سلامت رہے۔