عربی ادب کی تاریخ میں ابن الدجاجِی کی تصنیف ”سفط الملحِ وروح الترح” ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس کے نام کا لغوی معنی ”لطیف باتوں کا گلدستہ اور غموں کو غلط کرنے والی راحت” ہے۔ یہ کتاب محض قصے کہانیوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ انسانی نفسیات اور معاشرتی کج رویوں پر گہری ضرب لگانے والے سچے واقعات کا وہ انمول ذخیرہ ہے جو قاری کو شدید خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے۔ اسی کتاب کا ایک چونکا دینے والا واقعہ ہمارے آج کے کالم کی بنیاد ہے۔
روایت ہے کہ جلیل القدر خلیفہِ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنی مجلس میں بیٹھے ایک عام شخص سے فرمایا: مجھے کوئی نصیحت کیجیے! اس دور کے حکمران کا عجز دیکھیے کہ اقتدار کے بامِ عروج پر بیٹھ کر بھی نصیحت کا طالب ہے۔ مگر اس سے بھی بڑا کمال اس عام آدمی کا تھا، جس نے جواب دیا: ”اے امیر المومنین! میں اس لائق نہیں کہ آپ کو نصیحت کروں۔” خلیفہ نے پوچھا: کیوں؟ اس شخص نے جو جواب دیا، وہ رہتی دنیا تک کے لیے ایک تازیانہ ہے۔ اس نے کہا: ”اس لیے کہ ایک بار میں مسجد میں نماز کے لیے بیٹھا، میرے ایک طرف ایک امیر شخص تھا اور دوسری طرف ایک غریب۔ میں نے محسوس کیا کہ میرا جسم غیر ارادی طور پر غریب کی طرف جھک رہا ہے تاکہ امیر کے لیے جگہ کشادہ ہو جائے۔ جس انسان کا یہ حال ہو کہ وہ خدا کے گھر میں بھی لاشعوری طور پر امیر و غریب میں فرق کر رہا ہو، وہ کسی کو نصیحت کرنے کا اہل کیسے ہو سکتا ہے؟”
اس واقعے کو پڑھنے کے بعد اگر ہم نظریں اٹھا کر اپنے پاکستانی معاشرے پر ڈالیں، تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا صبح اٹھتے ہی اپنے گریبان کی دھجیاں بھول کر سوشل میڈیا کے چوراہے پر حکمرانوں کو نصیحتوں اور ملامت کے کوڑے مارنے نکل پڑتا ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر اور ٹک ٹاک کے مصلحین کی ایک فوج ظفر موج ہے جو ہر وقت مملکتِ خداداد کو چلانے کے نسخے بانٹتی نظر آتی ہے۔ جو شخص اپنے گھر کا بجٹ مینیج نہیں کر سکتا، جس سے اپنے چار مرلے کے مکان میں نظم و ضبط قائم نہیں ہوتا، وہ صبح چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑ کر اس ملک کی معیشت اور خارجہ پالیسی کے فیصلے سیکنڈوں میں کر ڈالتا ہے۔ ہمیں اس عربی حکایت کے تناظر میں خود کو تولنا چاہیے۔ اس مصلی نشین نے تو صرف لاشعوری جھکا پر خود کو نصیحت کے منصب سے معزول کر دیا تھا، جبکہ ہمارا تو بحیثیت مجموعی پورا معاشرتی ڈھانچہ ہی امیر کی پرستش اور غریب کی تذلیل پر کھڑا ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو کسی پوش علاقے کی سڑک پر بڑی گاڑی والے کی ہلکی سی ٹکر کو مسکرا کر ٹال دیتے ہیں، لیکن کسی غریب رکشے والے کی ذرا سی خطا پر اس کا گریبان چاک کرنے دوڑتے ہیں۔ ہم وہ ہیں جو کسی اچھے ہوٹل میں ہزاروں کا بل بغیر چوں چرا کیے ہنسی خوشی دے آتے ہیں، لیکن ٹھیلے والے غریب سے دس بیس روپے کے لیے یوں لڑتے ہیں جیسے ملک کا سارا خسارہ اسی نے پورا کرنا ہو۔ ہمارا یہ دوغلا پن گواہی ہے کہ ہم اخلاقی طور پر کھوکھلے ہو چکے ہیں۔
بدقسمتی دیکھیے کہ ہم خود بدترین قانون شکن ہیں، سگنل توڑنا ہمارا حق ہے، ٹیکس بچانا ہماری چالاکی ہے اور رشوت دے کر کام نکلوانا ہماری ضرورت ہے۔ مگر کمال دیکھیے کہ یہی قانون شکن جب رات کو سوشل میڈیا پر بیٹھتا ہے، تو ریاست کی رِٹ قائم نہ ہونے کا رونا روتا ہے۔ دینِ اسلام نے حکمرانوں کو نصیحت کرنے کا ایک انتہائی باوقار طریقہ سکھایا ہے۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثِ مبارکہ ہے کہ جس شخص نے کسی حکمران کو نصیحت کرنی ہو، وہ اسے سرِعام رسوا نہ کرے، بلکہ اس کا ہاتھ تھامے اور اسے تنہائی میں لے جا کر بات کرے۔ اگر وہ مان لے تو بہتر، ورنہ اس شخص نے اپنا فرض پورا کر دیا۔ مگر ہمارے ہاں اس اسلامی و اخلاقی ضابطے کا جنازہ نکل چکا ہے، جس کی بڑی وجہ وہ درآمد شدہ جمہوریت ہے جس کا چورن ہمیں دہائیوں سے بیچا جا رہا ہے۔ اس مغربی جمہوریت کا خمیر ہی مخالفت، تنقید برائے تنقید اور پگڑیاں اچھالنے پر اٹھا ہے۔ اس نظام میں ”آپس میں تعاون اور اصلاح” کا کوئی تصور ہی موجود نہیں۔ یہاں ”حزبِ اختلاف” کا مقصد حکومت کی اچھائی کو بھی برائی ثابت کرنا ہے اور عوام کا مقصد صرف گالم گلوچ کے ذریعے اپنی بھڑاس نکالنا ہے۔
میرا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ ہم اس جمہوریت ہی کو یکسر ختم کر دیں یا کسی راتوں رات جادوئی انقلاب کی امید لگا بیٹھیں۔ نظامِ جمہوریت میں خامیاں ضرور ہیں، لیکن رائج الوقت ڈھانچہ یہی رہے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم اس نظام کو لپیٹنے کے بجائے، اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے خود کو بدلیں۔ اگر ہم اپنی انفرادی اصلاح کر لیں، مثلا جہاں ہم غریب کو عزت دیں، امیر کی ناجائز دھونس کو تسلیم نہ کریں، قانون کی پاسداری کریں اور سوشل میڈیا کو دشنام طرازی کے بجائے مثبت تعمیری تنقید کے لیے استعمال کریں، تو یہی بظاہر خراب نظام بھی بہترین نتائج دینا شروع کر دے گا۔
خلاصہ یہ کہ ہم مصلحِ امت بننے کا خبط سر سے نکالیں اور خود احتسابی کے اس مصلے پر بیٹھیں جہاں ابن الدجاجِی کی کتاب کا وہ کردار بیٹھا تھا۔ حکمرانوں کو بدلنے کا شوق پالنے سے پہلے ہمیں اپنے اندر کے اس فرعون کو بدلنا ہوگا جو غریب کو دیکھ کر منہ پھیر لیتا ہے اور امیر کو دیکھ کر بچھ بچھ جاتا ہے۔ جب تک ہم خود قانون کے پابند اور اخلاق کے پیکر نہیں بنتے، تب تک سوشل میڈیا پر بیٹھ کر مملکت چلانے کی اداکاری بند کر دینی چاہیے، کیونکہ جو خود ترازو میں پورا نہیں اترتا، اسے دوسروں کا وزن ناپنے کا کوئی حق نہیں ہوتا۔
