امریکی اڈے مشرقِ وسطیٰ کے لیے بڑا خطرہ

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے پھیلتے ہوئے دائرے کے درمیان امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق تیسرا امریکی طیارہ بردار بحری بیڑا اور تقریباً 9 سے 10 ہزار مزید فوجی مشرقِ وسطیٰ بھیجے جارہے ہیں۔ یوں ایک طرف مذاکرات اور جنگ بندی کی بات ہورہی ہے اور دوسری طرف مزید جنگی قوت خطے میں پہنچ رہی ہے۔

یہ صورتحال ایک بنیادی سوال ضرور اٹھاتی ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کا مقصد امن اور عرب ممالک کا دفاع ہے تو پھر یہ خطہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگوں اور بحرانوں کا شکار کیوں ہے؟ عراق، شام، یمن، فلسطین اور اب ایران کے تنازعات نے پورے خطے کو مسلسل عدم استحکام میں رکھا ہے۔ امریکا ہر بار اپنی موجودگی کو دفاع اور علاقائی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتا ہے، لیکن جنگ بڑھتے ہی اس کے اپنے فوجی اڈے بھی خطرے میں آجاتے ہیں۔

حالیہ جنگ نے اس کمزوری کو نمایاں کیا ہے۔ خلیج میں امریکی تنصیبات ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں رہی ہیں۔ امریکی اڈے خطے میں طاقت کی علامت ضرور ہیں، مگر انہیں مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر نہیں کہا جاسکتا۔ رائٹرز کے مطابق بحرین، قطر اور دیگر خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات امریکا کی علاقائی فوجی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔

یہاں عرب ممالک کو سوچنا ہوگا کہ اگر ان کے ملک میں موجود امریکی اڈے خود جنگ کی صورت میں نشانہ بن سکتے ہیں تو کیا مستقل دفاعی انحصار کا یہی ماڈل مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہیے؟ امریکی دفاعی نظام نے خلیجی ممالک کو کئی مواقع پر تحفظ فراہم کیا ہے، لیکن موجودہ جنگ یہ بھی دکھا رہی ہے کہ بیرونی فوجی موجودگی بعض اوقات میزبان ملک کو مخالف طاقت کے لیے ممکنہ ہدف بنا دیتی ہے۔

امریکا کے مشرقِ وسطیٰ میں صرف دفاعی مفادات نہیں۔ توانائی، جغرافیائی اثرورسوخ اور اسلحے کی تجارت بھی اہم عوامل ہیں۔ خطے کے ممالک ہر بحران میں اربوں ڈالر کے امریکی دفاعی نظام خریدتے ہیں، جبکہ موجودہ کشیدگی کے دوران بھی بڑے پیمانے پر نئے ہتھیار اور دفاعی سازوسامان فروخت کیے جارہے ہیں۔ اس لیے یہ تاثر ضرور موجود ہے کہ مسلسل کشیدگی امریکی دفاعی صنعت کے لیے ایک بڑی تجارتی منڈی بن چکی ہے۔ امریکا عرب ممالک کو آپس میں لڑا کر بے تحاشا اسلحہ فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں عدم تحفظ کا احساس دلاتا ہے اور پھر ان کے دفاع کے نام پر ان سے ڈالرز اور لاکھوں بیرل مفت یا نہایت سستے داموں تیل بٹورتا ہے۔ اسے کے علاوہ امریکی پالیسی میں علاقائی اثرورسوخ اور دیگر مفادات بھی شامل ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ عرب ممالک اپنی بے پناہ مالی اور قدرتی دولت کو اپنی اجتماعی دفاعی طاقت میں کب تبدیل کریں گے؟ اگر سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اپنی دولت، ترکیہ اپنی دفاعی ٹیکنالوجی اور پاکستان اپنی عسکری صلاحیت و افرادی قوت کو باہم مربوط کریں تو اسلامی دنیا ایک زیادہ خودمختار دفاعی نظام تشکیل دے سکتی ہے۔ اس سمت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اہم پیش رفت ہے۔ تینوں ممالک نے اگست 2026 میں طے کیا کہ ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ بعد ازاں تینوں ممالک نے دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ یہ معاہدہ اگر عملی طور پر آگے بڑھتا ہے تو اسے صرف تین ممالک تک محدود رکھنے کے بجائے دیگر اسلامی ممالک کے لیے بھی تعاون کا راستہ کھولا جاسکتا ہے۔ تاہم ایسا اتحاد کسی ملک کے خلاف جارحانہ منصوبہ نہیں بلکہ مشترکہ دفاع اور علاقائی امن کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ خود پاکستان نے بھی مکہ معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں۔

عرب ممالک کے لیے دانش مندی یہ ہوگی کہ وہ امریکا سے تعلقات کو جذباتی انداز میں ختم کرنے کے بجائے اپنی دفاعی خودمختاری بتدریج بڑھائیں۔ امریکا کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے پاکستان، ترکیہ اور دوسرے اسلامی ممالک کے ساتھ مشترکہ دفاعی صنعت، میزائل دفاع، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی اور بحری نگرانی کے منصوبے شروع کیے جاسکتے ہیں۔ اس طرح دفاع کے لیے ہر بحران میں باہر دیکھنے کی ضرورت کم ہوگی۔

پاکستان کے لیے بھی یہ موقع اہم ہے۔ اسے کسی جنگ کا فریق بننے کے بجائے اپنی دفاعی صلاحیت کو سفارت کاری، امن اور علاقائی استحکام کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ ایران کے ساتھ ہمسائیگی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات اور ترکیہ کے ساتھ قریبی شراکت داری پاکستان کو ایک منفرد سفارتی مقام فراہم کرتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کو اب صرف مزید اسلحہ نہیں بلکہ اپنی اجتماعی طاقت کا نیا نظام درکار ہے۔ جنگیں اگر بار بار بیرونی طاقتوں کے ذریعے لڑی جاتی رہیں گی تو خطے کے عوام ہی ان کی قیمت ادا کرتے رہیں گے۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ عرب ممالک اپنی دولت اور وسائل کو اپنی دفاعی خودمختاری میں لگائیں اور پاکستان، ترکیہ سمیت اسلامی دنیا کے قابلِ اعتماد ممالک کے ساتھ مل کر ایسا نظام بنائیں جس میں دفاع مشترکہ، سفارت کاری فعال اور جنگ آخری راستہ ہو۔

مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل صرف امریکی اڈوں کی موجودگی یا عدم موجودگی سے نہیں بلکہ اس بات سے طے ہوگا کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی کی ذمہ داری کس حد تک خود اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔