رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
دنیا میں ڈیزل کا بحران تیزی سے سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں رکاوٹ، روسی برآمدات پر پابندیوں، عالمی منڈی میں کم ہوتے ذخائر اور چین کی جانب سے ڈیزل و پیٹرول کی برآمدات روکنے کے فیصلے نے عالمی ایندھن مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ دوسری طرف امریکا اور یورپ اپنے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکا جاسکے۔ بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکا نے یورپی ممالک سے اپنے ہنگامی ڈیزل ذخائر مارکیٹ میں لانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ اگر یورپ نے تعاون نہ کیا تو امریکا خود ڈیزل کی برآمد محدود کرسکتا ہے۔ دوسری جانب چین نے اکتوبر کے دوران ڈیزل اور پیٹرول کی برآمدات عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک نے ڈیزل کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے اپنے اسٹرٹیجک ذخائر سے بڑی مقدار میں ایندھن نکالنے پر غور شروع کردیا ہے۔ فرانس کی تجویز کے تحت یورپی ممالک تقریباً 50 ملین بیرل ڈیزل اپنے ہنگامی ذخائر سے عالمی منڈی میں لاسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ عالمی سطح پر توانائی کے ذخائر استعمال کرنے کا ایک وسیع منصوبہ بھی زیر بحث ہے، جس میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے رکن ممالک کی جانب سے مزید 50 ملین بیرل خام تیل یا ڈیزل فراہم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ رائٹرز کے مطابق یورپی یونین کی مجوزہ 50 ملین بیرل ڈیزل مقدار اس کے ہنگامی ذخائر کا تقریباً 17 فیصد بنتی ہے۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ ذخائر سے ایندھن نکالنے کا عمل بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ساتھ مل کر ہونا چاہیے تاکہ عالمی منڈی میں اس کے اثرات کو منظم رکھا جاسکے۔ تاہم یورپی ممالک کے اندر اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے نہیں۔ بعض ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر موجودہ بحران طویل ہوگیا تو ہنگامی ذخائر تیزی سے کم ہوجائیں گے اور مستقبل میں کسی بڑے عالمی بحران کے وقت ان کے پاس محدود وسائل باقی رہ جائیں گے۔
ٹرمپ کا یورپ پر دباؤ:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ عالمی ڈیزل بحران پر قابو پانے کے لیے یورپ سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ امریکا خاص طور پر فرانس اور جرمنی سے کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے ہنگامی ذخائر سے ڈیزل نکال کر عالمی مارکیٹ میں فراہم کریں۔ رائٹرز کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے آنے والی تجاویز میں آئندہ 6 ماہ کے دوران تقریباً 120 ملین بیرل ایندھن کے انتظام کی بات سامنے آئی ہے۔ امریکی مؤقف یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ سے کم ہونے والی سپلائی اور روسی برآمدات میں کمی نے عالمی منڈی میں ڈیزل کی دستیابی کو متاثر کیا ہے۔ لیکن یورپی ممالک نے امریکی دباؤ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یورپی کمیشن کی ترجمان نے جمعہ کو کہا کہ یورپی یونین امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمد روکنے کی دھمکی کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ امریکا میں بھی ڈیزل کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھ چکی ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق امریکی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت تقریباً 6.47 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو ایران جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد زیادہ ہے۔
بحران صرف ڈیزل کی قلت نہیں:
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال کو صرف ’’دنیا میں ڈیزل ختم ہونے‘‘ کا بحران قرار دینا درست نہیں۔ اصل مسئلہ عالمی سپلائی میں رکاوٹ اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ عالمی منڈی میں اب بھی کچھ مقدار میں درآمدات اور ایندھن دستیاب ہے، لیکن مشرق وسطیٰ سے سپلائی میں کمی، روسی پابندیوں، جنگ کے باعث تیل کی ترسیل میں رکاوٹ اور بعض ممالک کے اپنے ذخائر محفوظ رکھنے کے فیصلوں نے مارکیٹ پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ ڈیزل عالمی معیشت کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ٹرک، بسیں، زرعی مشینری، تعمیراتی آلات، مال بردار گاڑیاں اور صنعت کا ایک بڑا حصہ ڈیزل پر چلتا ہے۔ اس لیے ڈیزل مہنگا ہونے کا اثر صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اشیائے خورونوش، نقل و حمل اور صنعتی پیداوار کی قیمتوں تک پہنچتا ہے۔
چین نے برآمدات روک دیں:
بحران کے دوران چین کا فیصلہ عالمی مارکیٹ کے لیے ایک اور بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔ چینی حکام نے اکتوبر کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی برآمدات عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چینی حکومت کی طرف سے بڑی ریفائنری کمپنیوں کو نئی برآمدی ڈیلز روکنے اور اکتوبر میں مقرر بعض برآمدی کھیپیں منسوخ یا مؤخر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ چین کے اندر ایندھن کے ذخائر میں کمی اور مقامی ضرورت کو ترجیح دینا ہے۔ چین پہلے ہی مارچ میں ایران جنگ کے اثرات کے بعد برآمدات پر پابندیاں لگا چکا تھا، جن میں جولائی میں کچھ نرمی کی گئی، مگر اب دوبارہ برآمدات روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چین دنیا کے بڑے ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس لیے اس کے برآمدات روکنے سے ایشیا کے متعدد ممالک متاثر ہوسکتے ہیں، خصوصاً وہ ممالک جو چینی ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات پر نمایاں انحصار کرتے ہیں۔
ایشیا پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ:
چینی برآمدات رکنے سے جاپان، فلپائن، سنگاپور اور بعض دوسرے ایشیائی ممالک کو متبادل ذرائع سے ایندھن حاصل کرنا پڑسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایشیائی منڈی میں بھی قیمتوں پر دباؤ بڑھے گا۔ صورتحال اس لیے بھی دگرگوں ہے کہ عالمی مارکیٹ پہلے ہی مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں کمی اور روسی برآمدات پر پابندیوں کے باعث دباؤ میں ہے۔ اب اگر امریکا، روس اور چین جیسے بڑے سپلائرز کی برآمدات بھی محدود ہوتی ہیں تو عالمی منڈی میں دستیاب ڈیزل کی مقدار مزید متاثر ہوسکتی ہے۔
روس بھی اہم فریق:
روس نے بھی ڈیزل کی برآمدات پر پابندی میں توسیع کی ہے، جس سے عالمی منڈی کو مزید دباؤ کا سامنا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق روس اور امریکا دونوں کی جانب سے ممکنہ یا موجودہ برآمدی پابندیاں عالمی ڈیزل تجارت کے دو بڑے ذرائع کو متاثر کرسکتی ہیں۔ ادھر امریکا بھی اپنے ذخائر سے تیل مارکیٹ میں لانے کے اقدامات کر رہا ہے۔ 29 ستمبر کو واشنگٹن نے اپنے اسٹرٹیجک پیٹرولیم ذخیرے سے 40 ملین بیرل خام تیل قرض کی صورت میں مارکیٹ کو فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
آگے کیا ہوگا؟
عالمی توانائی مارکیٹ کا بڑا سوال اب یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی کب معمول پر آتی ہے اور ڈیزل کی عالمی طلب و رسد میں توازن کب بحال ہوتا ہے؟ اگر یورپ اپنے ذخائر سے ڈیزل نکالتا ہے اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے رکن ممالک بھی اضافی تیل مارکیٹ میں لاتے ہیں تو فوری طور پر سپلائی کا دباؤ کچھ کم ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ ذخائر محدود ہیں اور انہیں مستقل سپلائی کا متبادل نہیں سمجھا جاسکتا۔ دوسری طرف چین نے اپنی مقامی ضرورت کو ترجیح دے کر برآمدات روک دی ہیں، روسی برآمدات بھی پابندیوں کی زد میں ہیں اور امریکا خود ڈیزل برآمد کرنے کے بجائے اپنی داخلی مارکیٹ کو ترجیح دینے پر غور کررہا ہے۔ اس طرح دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں خام تیل سے زیادہ ڈیزل اور دیگر تیار پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اہم مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ موجودہ بحران کا فوری اثر پیٹرول پمپوں پر نظر آنے کے بجائے پہلے مال برداری، زراعت، صنعت، بجلی کی پیداوار اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ اگر عالمی سپلائی میں رکاوٹ طویل ہوگئی تو ڈیزل کا یہ بحران عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال یہی بتاتی ہے کہ دنیا ڈیزل کی مکمل قلت کا شکار نہیں، لیکن عالمی ذخائر، سپلائی راستوں اور برآمدات پر بڑھتی پابندیوں نے ایندھن کی منڈی کو غیر معمولی دباؤ میں ضرور ڈال دیا ہے۔
