تحریر : سویرا ثاقب
اسلام اثاثہ کہتا ہے تمھیں۔ تم کیوں عزت کی چار دیواری کو تنگ نظری اور پابندی کا نام دے کر اپنی حفاظت سے نجات چاہتی ہو؟ یہ جو تمہیں آزادی کے نام پر قصیدے سنائے جا رہے ہیں، ذرا ٹھہرو اور سوچو، اس آزادی کا اصل مطلب ہے کیا؟
کیا یہ آزادی ہے کہ تم اپنی حیا، اپنی شناخت اور اپنی قدر سے دستبردار ہوجاو؟ دینِ اسلام نے تمہیں عزت دی، جینے کا حق دیا اور معاشرے میں وہ مقام دیا جو کسی مذہب نے اپنی عورت کو نہیں دیا۔ پھر تمہیں کیا ہوگیا؟ تم خود کو اتنا حقیر سمجھنے لگی ہو کہ ہر دسترخوان پہ خود کو پیش کررہی ہو؟ یہ حجاب جو کبھی تمہارا وقار ہوا کرتا تھا تمہاری شناخت، تمہاری شان ہوا کرتا تھا، کب تمہیں بوجھ محسوس ہونے لگا؟ ایک مسلمان عورت اپنی خوبصورتی اور اپنی نجی زندگی کو منظرِ عام پر نہیں لاتی، وہ کوئی پراڈکٹ نہیں، جسے ہر شخص اپروج کرلے۔ تمہیں ایسا کیوں لگنے لگا ہے کہ چادر تمہارے سر پر ہوگی تو تم کم تعلیم یافتہ لگو گی۔ تمہیں کیوں ایسا لگتا ہے کہ چادر کے سر پہ ہونے سے تم کانفیڈنٹ نہیں لگو گی یا تمہارا ٹیلنٹ ظاہر نہیں ہوگا؟ وہ کامیابی بھی کیا کامیابی کہ تم اپنی حیا اور ضمیر کا سودا کرلو، خود کو نمائش پر لگا دو۔ تمہاری اصل جنگ دنیا سے نہیں تمہارے اپنے نفس سے ہونی چاہیے۔ انسان کو عظمت مل جانے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کی تنہائیاں پاکیزہ ہوتی ہیں، اس کا ظاہر اور باطن دونوں ایک ہوتا ہے۔ جو تنہائیوں میں اپنے نفس کے سامنے ہار جائے، نہ ختم ہونے والا خسارہ اس کے گلے کا ہار بن جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
چند ڈالرز، چند لائکس، چند تعریفیں، چند لمحوں کی توجہ کے بدلے عمر بھر کے لیے تم اپنی عزت سے دستبردار کیوں ہورہی ہو؟ تم عام نہیں ہو ،بنتِ حوا خود کو عام مت کرو!!
