حوثیوں کے خلاف بڑی کارروائی کی تیاری؟

کئی ہفتوں سے یمن میں ایک عجیب صورت حال دکھائی دے رہی تھی۔ حوثیوں کے حملوں کا جواب دیا جا رہا تھا، محاذ سنبھالے جا رہے تھے، مگر کوئی ایسی بڑی زمینی کارروائی نظر نہیں آرہی تھی جو جنگ کا رخ بدل دے۔ اب رائٹرز کی تازہ رپورٹ نے بند دروازوں کے پیچھے جاری تیاریوں کی کچھ تفصیل سامنے لائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب حوثیوں کے خلاف بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ ممکنہ کارروائی آنے والے ہفتوں میں شروع ہوسکتی ہے، جس کی قیادت یمنی فورسز کریں گی اور سعودی فضائیہ انہیں مدد فراہم کرے گی۔ اس منصوبے سے واقف چھ علاقائی و مغربی حکام اور سفارت کاروں نے رائٹرز کو یہ معلومات دی ہیں۔
اصل ہدف: باب المندب
اس کارروائی کا اہم مقصد باب المندب اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے گزشتہ ماہ ساحل کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب پر قبضہ کرلیا تھا۔ سعودی عرب کے سامنے دو منصوبے زیر غور ہیں۔ پہلا یہ کہ باب المندب کے علاقے میں محدود اور تیز کارروائی کی جائے۔ دوسرا یہ کہ البیضاء، مارب، تعز اور الجوف سمیت کئی محاذوں پر بیک وقت حملے کیے جائیں، تاکہ حوثی اپنی فوج مختلف محاذوں پر پھیلانے پر مجبور ہوجائیں۔
ایک لاکھ یمنی فوجی؟
رائٹرز کے مطابق کارروائی کے حجم کے لحاظ سے ایک لاکھ سے زیادہ یمنی فوجی متحرک کیے جاسکتے ہیں۔ یہ مختلف یمنی گروہوں پر مشتمل فورس ہوگی، جنہیں ماضی میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مسلح اور تربیت دی تھی۔ تاہم یمنی فورسز میں اختلافات اور تنظیمی مسائل بھی موجود ہیں، اس لیے زمینی کارروائی کا نتیجہ ان فورسز کی کارکردگی پر بہت حد تک منحصر ہوگا۔
پاکستان اور ترکی کا کردار؟
رائٹرز کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ماہ چار مال بردار طیارے عدن بھیجے جن میں فضائی دفاعی نظام، ہلکی توپیں، ڈرون اور ڈرون شکن نظام شامل تھے۔ پاکستانی فوجی مشیر بھی سعودی اور یمنی فورسز کے ساتھ موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 30 سے 40 ہزار پاکستانی فوجی سعودی عرب میں تعینات ہیں جو سعودی سرحدوں کے دفاع اور میزائل و ڈرون حملوں کو روکنے میں مدد دے رہے ہیں۔ تاہم پاکستان نے ابھی یمن کے اندر جنگی کارروائی کے لیے فوج بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ترکی بھی سعودی عرب کو فوجی سازوسامان فراہم کر رہا ہے اور سعودی عرب کے پاس موجود ترک ساختہ ڈرون یمن میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی کیا تھا، جبکہ 25 ستمبر کو تینوں ممالک کے فوجی سربراہوں نے ریاض میں دفاعی تعاون بڑھانے پر بات کی۔
امریکی کردار؟
رائٹرز کے مطابق امریکا سعودی کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس، فوجی مشاورت اور اہداف سے متعلق معلومات فراہم کر رہا ہے، اگرچہ براہ راست فضائی حملوں میں اس کا کردار محدود ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب حوثیوں کے ممکنہ جوابی میزائل اور ڈرون حملوں سے اپنی تیل تنصیبات اور اہم مراکز کو محفوظ بنانے کے لیے بھی دفاع مضبوط کر رہا ہے۔ فرانس نے بھی ینبع کے دفاع کے لیے دفاعی نظام اور فوجی اہلکار بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کی سرگرمیاں اب ایک بڑے مرحلے کی تیاری معلوم ہوتی ہیں۔ یمنی فورسز کی تنظیم، مختلف محاذوں پر تیاری، سعودی دفاع کی مضبوطی اور پاکستان و ترکی کے ساتھ فوجی تعاون۔
لیکن ابھی حتمی حملہ شروع نہیں ہوا اور اس کی تاریخ بھی طے نہیں۔ رائٹرز کے ذرائع کے مطابق کارروائی ایک ہفتے کے اندر بھی شروع ہوسکتی ہے اور نومبر کے آغاز تک مؤخر بھی ہوسکتی ہے۔ اگر یہ کارروائی شروع ہوتی ہے تو اس کا سب سے اہم محاذ باب المندب ہوگا، کیونکہ یہ بحیرہ احمر کا وہ انتہائی اہم بحری راستہ ہے جو عالمی تجارت کو ایشیا اور یورپ سے جوڑتا ہے۔ آج رائٹرز نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی اگلے ہفتے ریاض میں ہنگامی اجلاس کر سکتے ہیں جہاں حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطے کی ایرانی تجویز پر بھی غور ہوگا۔ یعنی فوجی تیاریوں کے ساتھ سفارتی راستہ بھی ابھی کھلا ہوا ہے۔