وسطی اور جنوبی ایشیا کو ملانے کے لیے افغانستان سے نئی ریلوے راہداری کا منصوبہ

کابل – (خصوصی رپورٹ)
قازقستان، ازبکستان اور متحدہ عرب امارات نے ایک نئی ریلوے راہداری کے تکنیکی و اقتصادی جائزے اور اس کی تعمیر کے امکانات کا مطالعہ کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ مجوزہ ریلوے قازقستان سے شروع ہو کر ازبکستان، افغانستان اور پاکستان سے گزرے گی اور وسطی ایشیا کو پاکستان کی بحیرۂ عرب سے متصل بندرگاہوں تک رسائی فراہم کرنے کے لیے تیار کی جا رہی ہے۔

ازبک میڈیا رپورٹس کے مطابق معاہدے کے تحت تینوں ممالک منصوبے کی فزیبلٹی، درکار بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ سہولیات کا جائزہ لیں گے۔ اس مرحلے کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ مجوزہ ریلوے کی تعمیر تکنیکی اور اقتصادی اعتبار سے کس حد تک قابلِ عمل ہے اور اسے عملی شکل دینے کے لیے کن وسائل اور انتظامات کی ضرورت ہوگی۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان نقل و حمل کے روابط مضبوط بنانا، تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دینا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ ریلوے کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستان کی سمندری بندرگاہوں تک رسائی مل سکتی ہے، جس سے درآمدات و برآمدات کے لیے ایک متبادل راستہ دستیاب ہونے کے امکانات پیدا ہوں گے۔
چونکہ مجوزہ راہداری افغانستان سے گزرے گی، اس لیے اس کی تکمیل کی صورت میں ملک کو علاقائی تجارت اور سامان کی ترسیل میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ افغانستان وسطی ایشیا سے آنے والی اشیا کو جنوبی ایشیا تک پہنچانے اور پاکستان کی بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی منڈیوں کو جوڑنے والی زمینی گزرگاہ بن سکتا ہے۔ ریلوے راہداری کے ذریعے ٹرانزٹ فیس اور متعلقہ خدمات سے آمدنی کے علاوہ مال برداری، گوداموں، کسٹمز، لاجسٹکس اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان فوائد کا انحصار ریلوے کی تعمیر، سرحدی انتظامات، تجارتی پالیسیوں اور نقل و حمل کے مؤثر نظام پر ہوگا۔
افغانستان سے گزرنے والے دیگر ریلوے منصوبے
یہ مجوزہ راہداری افغانستان کو علاقائی ریلوے نیٹ ورک سے جوڑنے کی واحد کوشش نہیں ہے۔ افغانستان اور پاکستان کو ملانے کے لیے ٹرانس افغان ریلوے کوریڈور، قازقستان-ترکمانستان-افغانستان ریلوے اور تورغنڈی-ہرات ریلوے سمیت متعدد منصوبے بھی زیرِ غور یا ترقی کے مختلف مراحل میں ہیں۔ ان منصوبوں کا مشترکہ مقصد افغانستان کو وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور دیگر علاقائی منڈیوں سے بہتر طور پر منسلک کرنا ہے۔ اگر ان میں سے مختلف منصوبے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو افغانستان کے لیے تجارتی سامان کی نقل و حمل، علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ سرگرمیوں کو وسعت دینے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔