حرم شریف میں خودکش بمبار کی اطلاع، اصل معاملہ کیا تھا؟

سعودی حکام کے مطابق مکہ مکرمہ میں ایک شخص کو راہ گیروں کو ہراساں کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، سکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر کارروائی کی۔
حکام نے کہا کہ اس واقعے کے بارے میں گردش کرنے والی خودکش بمبار، بارودی جیکٹ یا خانۂ کعبہ پر حملے کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔
سوشل میڈیا پر اس کے برعکس یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک شخص مبینہ طور پر دھماکا خیز مواد سے بھری جیکٹ پہن کر خانۂ کعبہ کے قریب پہنچا اور اسے سکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کرلیا۔ تاہم سعودی حکام کے بیان میں ایسے کسی بارودی مواد یا خودکش حملے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: خانہ کعبہ میں خودکش حملے کی افواہیں، سعودی عرب نے تردید کردی
واضح رہے کہ یہ افواہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سکیورٹی کشیدگی پہلے ہی بڑھی ہوئی ہے۔ ستمبر میں سعودی عرب نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے مکہ کی سمت آنے والے ایک ڈرون کو سعودی فضائی دفاع نے مار گرایا، جبکہ حوثیوں نے مکہ یا کسی مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی تردید کی تھی۔