نقیب اللہ… جعلی مقابلہ، مگر قاتل کون؟

دوسری قسط:
دستیاب پولیس ریکارڈ کی بنیاد پر ایک صحافتی تحقیق میں بتایا گیا کہ 2011ء سے جنوری 2018ء تک راؤ انوار کے دور سے منسلک 745 پولیس مقابلے ہوئے اور ان میں کم از کم 444 افراد مارے گئے۔ یہ عدد بہت ہی بڑا ہے مگر اس سے زیادہ توجہ طلب بات کچھ اور تھی۔ ان 745پولیس مقابلوں میں دستیاب ریکارڈ کے مطابق ایک بھی پولیس اہلکار ہلاک تو درکنار زخمی تک نہیں ہوا تھا! ذرا یہ تین اعداد ایک ساتھ رکھیے: 745 مقابلے، کم از کم 444ہلاکتیں۔ پولیس کا ایک بھی اہلکار نہ ہلاک، نہ زخمی اور ان سیکڑوں مقابلوں کی ایک بھی باقاعدہ آزادانہ انکوائری نہیں! نقیب اللہ کے والد محمد خان نے انہی ہلاکتوں کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک آزاد کمیشن قائم کرکے دیکھا جائے کہ ان میں کتنے مقابلے حقیقی تھے، کتنے مشتبہ اور کتنے جعلی۔ سو پھر امریکا نے 2019ء میں راؤ انوار کو Global Magnitsky پابندیوں کے تحت نامزد کیا اور امریکی محکمہ خزانہ نے اپنے بیان میں ان سے منسوب متعدد مبینہ جعلی مقابلوں اور چار سو سے زیادہ ہلاکتوں کا ذکر کیا۔ برطانیہ نے بھی بعد میں انسانی حقوق سے متعلق پابندیاں عائد کیں۔ ادھر نقیب اللہ کا مقدمہ چلتا رہا۔ اس مقدمے میں عینی گواہ تھے۔ موبائل فون کا کال ڈیٹا تھا۔ جیو فینسنگ تھی۔ طبی اور فرانزک شواہد تھے۔ پولیس کی اپنی تحقیق تھی۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ تھی اور سب سے بڑھ کر استغاثہ کا مؤقف تھا کہ جس شخص کو پولیس نے مقابلے میں مارا جانے والا دہشت گرد بتایا، وہ ٣ جنوری سے پولیس کی غیرقانونی تحویل میں تھا۔

مارچ 2019ء میں راؤ انوار اور سترہ دوسرے اہلکاروں پر فردِ جرم عائد ہوگئی۔ ان پر قتل کے ساتھ اغوا، غیر قانونی حراست، جعلی اسلحہ اور دھماکا خیز مواد ظاہر کرنے اور مقتولین کو دہشت گرد بنا کر پیش کرنے کے الزامات تھے۔ لیکن فوجداری مقدمہ بہرحال مجموعی تاثر پر نہیں چلتا۔ عدالت ہر ملزم کے خلاف ہر اہم کڑی کو الگ الگ جانچتی ہے۔ یہ دیکھتی ہے کہ کیا اغوا ثابت ہوا؟یہیں استغاثے کا مقدمہ کمزور ہوتا گیا۔ بعض اہم پولیس گواہ اپنے سابقہ بیانات سے پھر گئے، عینی شہادتوں میں تضادات سامنے آئے اور ڈیجیٹل شواہد کی مکمل زنجیر بھی قائم نہ ہوسکی۔ سو 23 جنوری 2023ء کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے راؤ انوار اور سترہ دوسرے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔ البتہ بریت کے اس موقع پر عدالت نے یہ نہیں کہا کہ مقابلہ حقیقی تھا۔ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ نقیب اللہ دہشت گرد تھا۔ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ چاروں افراد نے پولیس پر فائرنگ کی تھی۔ عدالت نے یہ کہا کہ استغاثہ ان مخصوص ملزمان کی مجرمانہ ذمہ داری فوجداری قانون کے مطلوبہ معیار پر ثابت نہیں کرسکا۔ یہ فرق قانونی ہے مگر اس کے اثرات صرف قانون تک محدود نہیں رہتے۔ اگر پولیس کی اپنی تحقیق کہتی ہے کہ مقابلہ جعلی تھا، اگر مقتولین پر بنائے گئے مقدمات قائم نہیں رہتے، اگر یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مرنے والے کسی حقیقی فائرنگ کے تبادلے میں نہیں مارے گئے تھے، لیکن آٹھ برس کی تفتیش اور ٹرائل کے بعد بھی یہ متعین نہ ہوسکے کہ انھیں قتل کس نے کیا… تو سوال صرف عدالت سے نہیں، پوری تفتیشی اور استغاثہ کی مشینری سے اور ریاست سے کیا جائے گا اور اب اسی ہفتے ستمبر 2026ء میں باقی سات پولیس اہلکار بھی جو وقوعے کے بعد کئی برس مفرور رہے، ناکافی ثبوت کی بنیاد پر بری ہوگئے۔ یوں اب ٹرائل کورٹ کی سطح پر اس مقدمے کے تمام ملزمان بری ہیں۔

یہ وہ مقام ہے جہاں نقیب اللہ کا مقدمہ صرف نقیب اللہ کا نہیں رہتا۔ ماورائے عدالت قتل کا بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ اس میں ریاست کا ایک حصہ بیک وقت گرفتار کرنے والا، الزام لگانے والا، تفتیش کرنے والا اور سزا دینے والا بن جاتا ہے۔ اگر کسی شخص پر دہشت گردی کا شبہ ہے تو قانون موجود ہے۔ اگر وہ قاتل ہے تو عدالت موجود ہے۔ اگر وہ ڈاکو ہے تو تفتیش، چالان، مقدمہ اور سزا کا پورا راستہ موجود ہے۔ عدالت تک پہنچنے کا حق کسی ملزم پر احسان نہیں۔ یہ دراصل ریاست اور معاشرے دونوں کے لیے حفاظتی دیوار ہے، کیونکہ اسی دیوار کے ایک طرف مجرم اور دوسری طرف بے گناہ کھڑے ہوتے ہیں۔ دیوار گر جائے تو ان دونوں میں فرق قانون نہیں، بندوق کرنے لگتی ہے۔

ایسے ماحول کے اثرات صرف تھانے اور عدالت تک محدود نہیں رہتے۔ وہ شہری کے ذہن میں اترتے ہیں۔ ذرا سوچیے! پولیس کی گاڑی دیکھ کر اب میرے آپ کے ذہن میں پہلا احساس تحفظ کا پیدا ہوتا ہے یا اندیشے کا؟ کسی نوجوان کو پولیس لے جائے تو گھر والے یہ سوچتے ہیں کہ قانون اپنا کام کرے گا یا سب سے پہلے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کس تھانے میں ہے اور زندہ ہے بھی یا نہیں؟ کسی پولیس مقابلے کی خبر آئے تو ہم تفتیش کا انتظار کرتے ہیں یا مرنے والے کو فوراً مجرم مان لیتے ہیں؟یہی سوال بتاتے ہیں کہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی کیفیت کیا ہے۔ جرم سے نمٹنے کے لیے مضبوط پولیس ناگزیر ہے۔ دہشت گردی اور سنگین جرائم کے مقابلے میں پولیس کو اختیار اور قوت بھی چاہیے۔ لیکن قوت اور بے حساب اختیار ایک چیز نہیں۔

ریاستی طاقت اسی وقت قابلِ اعتماد بنتی ہے جب وہ قانون کی حد کے اندر استعمال ہو۔ نقیب اللہ محسود کے مقدمے میں آٹھ برس بعد بھی چند حقیقتیں اپنی جگہ موجود ہیں۔ 13 جنوری 2018ء کو چار افراد ایک جعلی پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ نقیب اللہ کے دہشت گرد ہونے کا دعویٰ ثابت نہیں ہوا۔ مرنے والوں کے خلاف بنائے گئے مقدمات قائم نہ رہ سکے۔ قتل کے مقدمے میں نامزد تمام پولیس اہلکار ٹرائل کورٹ سے بری ہوچکے ہیں۔ ایک سوال اب بھی مگر وہیں ہے جہاں آٹھ برس پہلے تھا۔ اگر مقابلہ جعلی تھا تو قتل کس نے کیا؟ اس ایک سوال کے پیچھے دوسرا سوال شاید اس سے بھی بڑا ہے۔ 745 پولیس مقابلے مگر سب یکطرفہ، کم ازکم 444 ہلاکتیں مگر کوئی فرد جرم نہیں…!! کیا ایسے اعداد محض ریکارڈ کا حصہ بن کر رہ جانے چاہییں؟ یہ صرف نقیب اللہ کا سوال نہیں۔ یہ قانون کی ساکھ کا سوال ہے۔ یہ پولیس کی ساکھ کا سوال ہے اور سب سے بڑھ کر یہ اس عام شہری کے اعتماد کا سوال ہے جو یہ یقین رکھنا چاہتا ہے کہ اگر کبھی ریاست اس کے دروازے پر آئے گی تو اس کے ہاتھ میں اختیار ضرور ہوگا، مگر اس اختیار سے اوپر قانون بھی ہوگا۔