(یکم اکتوبر؛ عالمی یومِ بزرگاں کے موقع پر بزرگوں کی قدر و منزلت اور ان کی خدمات کو اجاگر کرتی ایک فکرانگیز تحریر)
سمانہ اسد کے قلم سے
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ کچھ نعمتیں ایسی ہیں جنہیں ہم دیکھتے ہی اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، لیکن کچھ نعمتیں ہماری زندگی میں اتنی خاموشی سے شامل ہوتی ہیں کہ ہم ان کی قدر کرنا ہی بھول جاتے ہیں۔ انہی نعمتوں میں سے ایک نعمت گھر میں بزرگوں کا ہونا بھی ہے۔
بزرگ کسی بھی خاندان کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کے پاس زندگی کا وہ تجربہ ہوتا ہے جو کتابوں سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی دعائیں، شفقت، نصیحتیں اور زندگی کے تجربات گھر کی نئی نسل کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ مگر افسوس کہ بعض اوقات ہم ان کی موجودگی کو معمول سمجھ لیتے ہیں اور ان کی قدر اس وقت محسوس کرتے ہیں جب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہتے۔ ہر سال 1 اکتوبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ بزرگاں منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 1990ء میں یکم اکتوبر کو بزرگ افراد کے لیے مخصوص دن قرار دیا، جبکہ یہ دن پہلی بار 1991ء میں عالمی سطح پر منایا گیا۔ اس دن کا مقصد بزرگوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا، ان کے حقوق اور عزت کا خیال رکھنے کے بارے میں لوگوں میں شعور پیدا کرنا اور انہیں معاشرے کا باعزت حصہ بنانے کی کوشش کرنا ہے۔
اسلام نے بزرگوں کے احترام کو بہت اہمیت دی ہے۔ رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا: “وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔” یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بزرگوں کا احترام محض معاشرتی رسم نہیں بلکہ دینی ذمہ داری بھی ہے۔ ان کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرنا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا، ان کے لیے وقت نکالنا اور ان کی خدمت کرنا ہمارے اخلاق کا امتحان بھی ہے اور ہمارے لیے اجر کا ذریعہ بھی۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں ہر شخص اپنی مصروفیات میں الجھا ہوا ہے۔ بچے تعلیم اور ملازمت میں مصروف ہیں، والدین اپنی ذمہ داریوں میں، اور یوں گھر کے کسی کونے میں بیٹھا بزرگ کبھی کبھی صرف اس انتظار میں رہ جاتا ہے کہ کوئی اس کے پاس چند لمحوں کے لیے بیٹھ جائے، اس کی بات سن لے اور اس کا حال پوچھ لے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بزرگوں کو ہمیشہ کسی بڑی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی انہیں صرف ہماری توجہ چاہیے ہوتی ہے، کبھی چند محبت بھرے الفاظ اور کبھی صرف اتنا کہ ہم ان کے پاس بیٹھ کر ان کی پرانی باتیں سن لیں۔ لیکن بزرگوں کی قدر کے لیے صرف ایک دن کافی نہیں۔ اگر ہمارے گھر میں والدین یا دادا دادی، نانا نانی موجود ہیں تو ان کے لیے ہر دن اہم ہے۔ عالمی یومِ بزرگاں ہمیں صرف ایک دن یاد دہانی کراتا ہے، اصل امتحان تو ہمارے روزمرہ رویوں میں ہے۔ ذرا سوچیں، جن ہاتھوں نے کبھی ہمیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا، آج اگر انہی ہاتھوں کو ہماری مدد کی ضرورت ہے تو کیا ہمیں ان کے لیے وقت نہیں نکالنا چاہیے؟ جن لوگوں نے ہماری چھوٹی چھوٹی خواہشوں کو اپنی ضروریات پر ترجیح دی، کیا آج ان کی چھوٹی سی خواہش پوری کرنا ہمارے لیے مشکل ہونا چاہیے؟
زندگی کا سفر کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ آج جو جوان ہیں، کل وہ بھی عمر کے اسی حصے میں داخل ہوں گے۔ آج ہم اپنے بزرگوں کے ساتھ جیسا رویہ اختیار کریں گے، آنے والی نسلیں بھی اسی رویے کو سیکھیں گی۔ اس لیے اپنے گھر کے بزرگوں کو بوجھ نہ سمجھیں۔ ان کی موجودگی کو اللہ کی نعمت سمجھیں، ان کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی بات سنیں، ان کی عزت کریں اور ان کی خدمت کو سعادت سمجھیں۔ کیونکہ بعض نعمتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا شکر صرف زبان سے نہیں، رویے سے ادا کیا جاتا ہے۔ بزرگ بھی انہی نعمتوں میں سے ایک ہیں۔
