اسرائیلی الیکشن: نیتن یاہو کے خلاف 5 جماعتی اتحاد

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
اسرائیل میں سیاسی ہلچل اور انتخابی مہم عروج پر ہے۔ 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیست کے انتخابات میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت اور اس کے حامی دائیں بازو کے اتحاد کو متحدہ اپوزیشن کا سامنا ہے۔ انتخابات سے ایک ماہ پہلے پانچ اہم اپوزیشن رہنماوں نے باہمی اختلافات کم کرکے نیتن یاہو کو گرانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 26 ستمبر کو اپوزیشن رہنما یائیر لاپیڈ کی تل ابیب میں واقع رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس میں سابق فوجی سربراہ گاڈی آیزنکوٹ، سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ، اسرائیل بیتنا کے سربراہ آویگڈور لیبرمین اور ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائیر گولان شریک ہوئے۔ پانچوں رہنماوں نے انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے اور اتحادی جماعتوں کے خلاف حملے روکنے، ووٹرز کو زیادہ سے زیادہ پولنگ اسٹیشنوں تک لانے اور انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ پانچ جماعتوں کا باقاعدہ انضمام نہیں بلکہ انتخابی تعاون اور سیاسی رابطہ ہے۔ وزیراعظم کے مشترکہ امیدوار کا فیصلہ بھی ابھی نہیں کیا گیا بلکہ اس معاملے کو انتخابی نتائج تک موخر کردیا گیا ہے۔
اسرائیل کی پارلیمان کو کنیست کہا جاتا ہے اور اس کے ارکان کی تعداد 120 ہے۔ ملک میں متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام رائج ہے، یعنی ووٹرز براہ راست کسی ایک حلقے کے امیدوار کے بجائے سیاسی جماعتوں کی فہرستوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے کسی جماعت یا مختلف جماعتوں کے اتحاد کو کم ازکم 61 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔ یہی 61 کا ہندسہ موجودہ انتخاب کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔ اگر نیتن یاہو کے حامی بلاک کو 61 یا اس سے زیادہ نشستیں مل گئیں تو وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ اگر ان کا بلاک 61 سے نیچے رہ گیا تو حکومت سازی کے لیے نئی سیاسی صف بندی شروع ہوسکتی ہے۔ اسی طرح صرف نیتن یاہو کے بلاک کو اکثریت سے محروم کرنا اپوزیشن کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ اسے بھی حکومت بنانے کے لیے 61 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔
اسرائیل کی 25ویں کنیست نے جولائی 2026ءمیں اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد تحلیل ہوکر نئے انتخابات کی راہ ہموار کی۔ 17 جولائی کو کنیست تحلیل ہوئی اور 26ویں کنیست کے انتخابات کے لیے 27 اکتوبر کی تاریخ مقرر ہوئی۔ یہ انتخابات اس اعتبار سے بھی اہم ہیں کہ یہ 7 اکتوبر 2023ء کے حملے کے بعد اسرائیل میں ہونے والے پہلے عام انتخابات ہیں۔ اس واقعے اور اس کے بعد غزہ، لبنان اور ایران سے متعلق جنگوں نے اسرائیلی سیاست، سلامتی اور حکومت کی کارکردگی کو انتخابی مہم کا مرکزی موضوع بنا دیا ہے۔نئے اپوزیشن اتحاد میں شامل رہنماوں کی سیاسی شناخت ایک جیسی نہیں۔ یائیر لاپیڈ نسبتاً وسطی سیاسی حلقوں میں اہم حیثیت رکھتے ہیں جبکہ گاڈی آیزنکوٹ سابق فوجی سربراہ ہیں اور اس وقت اپوزیشن کے اہم چہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ نفتالی بینیٹ ماضی میں وزیراعظم رہ چکے ہیں اور دائیں بازو کے ووٹروں تک رسائی رکھتے ہیں۔ آویگڈور لیبرمین روسی زبان بولنے والے اسرائیلیوں سمیت دائیں اور وسطی دائیں حلقوں میں اثر رکھتے ہیں۔ یائیر گولان کی ڈیموکریٹس پارٹی کا بھی اس اتحاد میں اہم کردار ہے۔ اس طرح پانچوں جماعتوں کا مقصد ایک ہی سیاسی نعرہ لگانا نہیں بلکہ مختلف طبقات کے ووٹروں تک پہنچنا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ہر رہنما اپنے مخصوص ووٹر حلقے کو متحرک کرنے کی کوشش کرے گا۔
اتحاد کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ پانچوں رہنماوں نے فی الحال ایک دوسرے کو نشانہ نہ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں آپس میں ووٹ تقسیم کرنے یا ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے بجائے مجموعی طور پر زیادہ نشستیں حاصل کریں۔ اتحاد کے قیام کے باوجود سب سے بڑا سوال ابھی حل نہیں ہوا: اگر نیتن یاہو کے خلاف حکومت سازی کا موقع ملا تو وزیراعظم کون ہوگا؟ آیزنکوٹ، بینیٹ اور لیبرمین تینوں ہی مستقبل کی قیادت کے امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔ آیزنکوٹ کی جانب سے یہ تجویز سامنے آئی کہ انتخابی نتائج کے بعد سب سے بڑی جماعت کے سربراہ کو وزیراعظم بنانے کا اصول اختیار کیا جاسکتا ہے جبکہ لیبرمین نے انتخابات سے پہلے کسی ایک امیدوار کا نام طے کرنے کی مخالفت کی ہے۔ اس اختلاف کی وجہ سیاسی حساب کتاب بھی ہے۔ اگر پہلے ہی کسی ایک رہنما کو وزیراعظم کا امیدوار بنا دیا جائے تو ووٹرز بڑی جماعت کی طرف منتقل ہوسکتے ہیں جس سے چھوٹی اتحادی جماعتوں کی نشستیں کم ہونے کا خدشہ ہے۔ چنانچہ پانچوں رہنماوں نے فی الحال قیادت کا مسئلہ موخر کرکے پہلے انتخابات جیتنے اور پھر حکومت سازی کا فیصلہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔
نیتن یاہو اسرائیل کی سیاست کے طویل عرصے سے سب سے نمایاں کردار ہیں۔ موجودہ انتخاب ان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ 7 اکتوبر 2023ء کے حملے کے بعد سلامتی کے معاملے پر ان کی حکومت کو مسلسل سوالات کا سامنا ہے۔ نیتن یاہو اپنی انتخابی مہم میں اسرائیل کی سلامتی اور دفاع کو مرکزی موضوع بنا رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق وہ اپنی روایتی سیاسی حکمت عملی کے تحت خود کو ملک کے تحفظ کی ضمانت دینے والے رہنما کے طور پر پیش کررہے ہیں جبکہ ان کے مخالفین 7 اکتوبر کی سیکورٹی ناکامی اور جنگ سے متعلق حکومت کے فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یہ دعویٰ بھی اسرائیلی انتخابی بحث کا حصہ بن گیا ہے کہ 7 اکتوبر کے حملے سے قبل نیتن یاہو کو ممکنہ خطرے سے متعلق بعض اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ نیتن یاہو نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ یہ معاملہ بھی انتخابی مہم میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک اہم اختلاف بن چکا ہے۔ انتخابات سے قبل سامنے آنے والے سروے بھی ایک دوسرے سے مختلف تصویر پیش کررہے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں بیان کردہ 27 ستمبر کے ’کان 11‘ کے سروے میں آیزنکوٹ کی یاشر جماعت کو 23، لیکوڈ کو 21، بینیٹ کی بیحاد کو 11 جبکہ ڈیموکریٹس اور اسرائیل بیتنا کو 9،9 نشستیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا۔ اسی رپورٹ کے مطابق 25 ستمبر کے ’معاریو‘ سروے میں اپوزیشن بلاک کو 55 اور نتن یاہو کے بلاک کو 49 نشستیں دی گئی تھیں جبکہ 28 ستمبر کے چینل 14 کے سروے نے اس کے برعکس دائیں بازو کے بلاک کو 63 نشستیں دی تھیں۔ ان مختلف نتائج سے واضح ہے کہ انتخاب سے پہلے سیاسی منظرنامہ غیریقینی ہے اور سروے ایک دوسرے سے خاصا مختلف اندازہ پیش کررہے ہیں۔ اصل فیصلہ 27 اکتوبر کو ووٹوں کی گنتی کے بعد ہوگا۔
اپوزیشن کا ایک ممکنہ منصوبہ یہ بھی ہے کہ اگر نیتن یاہو کا بلاک 61 نشستیں حاصل نہ کرسکا اور اپوزیشن بھی واضح اکثریت سے محروم رہی تو لیکوڈ کے بعض ارکان کو نیتن یاہو کے بغیر نئی حکومت میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔ آیزنکوٹ کے حوالے سے اسرائیلی میڈیا میں ایسے سیاسی منصوبے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جس میں لیکوڈ کے ان ارکان کو متبادل حکومت کا حصہ بنانے کا امکان زیر بحث ہے جو نیتن یاہو کی قیادت کے بغیر کسی نئے اتحاد میں شامل ہونے پر آمادہ ہوں۔ لیبرمین بھی ماضی میں نیتن یاہو کے بغیر لیکوڈ کو مستقبل کی حکومت میں شامل کرنے کی بات کرچکے ہیں۔ اسرائیلی سیاست میں ایک دوسرا امکان بھی زیر بحث ہے کہ نیتن یاہو اگر حکومت سازی کی پوزیشن میں آئے تو اپنی موجودہ اتحادی جماعتوں کے علاوہ بعض اپوزیشن رہنماو¿ں کو بھی وسیع قومی حکومت میں شامل کرنے کی کوشش کریں، تاہم اس راستے میں واضح رکاوٹیں موجود ہیں۔ بینیٹ نے نیتن یاہو کے ساتھ حکومت میں بیٹھنے سے انکار کیا ہے جبکہ لیبرمین بھی کئی مرتبہ ایسا کرنے سے انکار کرچکے ہیں۔ آیزنکوٹ نے بھی 7 اکتوبر کے واقعات کے حوالے سے موجودہ قیادت پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ اس لیے نیتن یاہو، آیزنکوٹ، بینیٹ اور لیبرمین کو ایک ہی حکومت میں اکٹھا کرنا فی الحال ایک سیاسی امکان ضرور ہے مگر اسے طے شدہ منصوبہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔27 اکتوبر کے انتخابات میں اصل مقابلہ صرف نیتن یاہو اور ان کے مخالفین کے درمیان نہیں ہوگا بلکہ 120 رکنی کنیست میں 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کا ہوگا۔ 5 اپوزیشن رہنماوں کا اتحاد اگر نیتن یاہو کے بلاک کو اکثریت سے روک دیتا ہے تو اگلا مرحلہ حکومت سازی کا ہوگا۔ وہاں ایک بار پھر جماعتوں کی باہمی ترجیحات، قیادت اور ممکنہ اتحادیوں کا سوال سامنے آئے گا۔ اگر کوئی بھی فریق 61 نشستوں کی واضح حمایت حاصل نہ کرسکا تو اسرائیل میں ایک مرتبہ پھر طویل اتحادی مذاکرات اور سیاسی تعطل پیدا ہوسکتا ہے۔
27 اکتوبر کا انتخاب اسرائیلی سیاست میں ایک اہم موڑ بن چکا ہے۔ 5 اپوزیشن رہنماوں نے پہلی بار انتخابی مقابلے میں باہمی ٹکراو کم کرکے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی ہے مگر ان کے سامنے اصل امتحان ووٹوں کو نشستوں میں تبدیل کرنا اور پھر 61 ارکان کی حمایت کے ساتھ حکومت تشکیل دینا ہوگا۔ نیتن یاہو کے لیے بھی اصل چیلنج صرف سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے سیاسی اتحاد کو اکثریت تک پہنچانا ہے۔ اسرائیلی سیاست کا اگلا باب اسی پارلیمانی حساب کتاب سے لکھا جائے گا۔