چائے

محمد جنید افتخار
زندگی کی اس چہل پہل میں جہاں انسان روزمرہ کی تھکا دینے والی مصروفیات میں اپنے وقت کی دہائیاں کاٹ رہا ہے، کبھی جسمانی تھکن اسے نڈھال کرتی ہے، کبھی ذہن میں الجھی ہوئی سوچیں اسے بے چین رکھتی ہیں، کبھی آنکھیں نیند سے نظریں چراتی ہیں اور کبھی نیند خواب گاہ کی میٹھی سیر کے لیے بے تاب ہوتی ہے۔
ان عجیب و غریب کیفیات میں انسان کو ایک ایسے خاموش دوست کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے جذبات کی قدر کرے، اس کے دکھوں کو سنے اور چند لمحوں کے لیے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے یہ احساس دلائے کہ زندگی ابھی باقی ہے۔ایسے ہی خاموش دوست کا نام چائے ہے۔دودھ کی سفیدی، پتی کے کالے دانوں میں خود کو قربان کرکے جب آنکھوں کو بھانے والا چمکدار سنہری رنگ اختیار کرتی ہے تو گویا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ چمک خود کو مٹانے کے بعد ہی پیدا ہوتی ہے۔ شاعر اسی منظر کی عکاسی کرتے ہوئے کہتا ہے
مٹا دے اپنی ہستی کو، اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے
چائے کی وہ سنہری چمک جو آنکھوں کو بھاتی ہے، دماغ کی تھکن کو تازگی کا پیغام دیتی ہے۔ چائے بنتے ہوئے اس کے آنے والے اُبال بھی زندگی کا ایک خوبصورت سبق سناتے ہیں کہ صحیح رنگ نشیب و فراز اور آزمائشوں کی بھٹی سے گزرنے کے بعد ہی نکھرتا ہے۔چائے صرف ایک مشروب نہیں بلکہ ایک احساس ہے؛ ایک خاموش رفاقت ہے، ایک ایسی مختصر سی صحبت ہے جو انسان کو پل بھر میں تازہ دم کر دیتی ہے۔ اس کا ہر گھونٹ گویا انسان کے اندر جمع ہونے والے منفی اثرات کا گلا گھونٹتا اور طبیعت پر طاری بوجھ کو ہلکا کرتا محسوس ہوتا ہے۔چائے میں شامل چینی یا گڑ اپنی مٹھاس سے زندگی کا ایک حسین پیغام دیتا ہے جبکہ پتی کی کڑواہٹ ہمیں دنیا کی تلخیوں کی یاد دلاتی ہے۔ لیکن جب یہی کڑواہٹ مٹھاس کے ساتھ ملتی ہے تو ایک ایسا ذائقہ وجود میں آتا ہے جسے انسان بار بار محسوس کرنا چاہتا ہے۔ گویا چائے ہمیں سمجھاتی ہے کہ زندگی میں کڑواہٹ کتنی ہی کیوں نہ ہو، مٹھاس کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ مٹھاس باقی رہے تو کڑواہٹ اپنا اثر کھو دیتی ہے۔
چائے صرف مشروب نہیں، انسانیت، غم خواری، ہمدردی، خلوص اور محبت کا ایک خوبصورت استعارہ بھی ہے۔ ہمارے معاشرتی مزاج میں تو چائے کو ایسی خاص اہمیت حاصل ہے کہ جس دعوت کا اختتام چائے پر نہ ہو، اسے اکثر ادھورا سا محسوس کیا جاتا ہے۔ آج بھی چائے مشروبات کی دنیا میں اپنی ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ اہل ذوق کہتے ہیں جو چائے لب دوز،لب سوز اور لب ریز نہ ہو وہ درجہ کمال کو نہیں پہنچتی۔ وہ صورتاً تو چائے لیکن اس کی حقیقت سے عاری ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ چائے کی گرمی لبوں کو سوز پہنچا دیتی ہے۔ وہ لمحہ بھی عجیب سبق دیتا ہے کہ اگر کبھی اپنوں کی طرف سے گرمی محسوس ہو تو فوراً رشتہ نہیں توڑا جاتا، کچھ دیر ٹھہرا جاتا ہے، برداشت کیا جاتا ہے، کیونکہ محبت کے رشتے ایک گھونٹ کی گرمی سے ختم نہیں ہوتے۔چائے کی لب نوشی کا انداز بھی نرالا ہے۔ اس کے عشاق کے مزاج میں اس کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ محبت، خلوص، اپنائیت اور مٹھاس بانٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ اہلِ ذوق نے شاید اسی کیفیت کو خوبصورت انداز میں یوں سمیٹا ہے: جس چائے میں چاہ نہ ہو، اس چائے کو چاہ میں ڈال!
چائے کی ایک پیالی کبھی دو اجنبیوں کو گفتگو کا ساتھی بنا دیتی ہے، کبھی ناراض دوستوں کے درمیان خاموشی توڑ دیتی ہے، کبھی تھکے ہوئے استاد اور طالب علم کو چند لمحوں کی راحت فراہم کرتی ہے اور کبھی گھر کے افراد کو ایک جگہ بیٹھنے کا بہانہ دے دیتی ہے۔ یہ بلاوجہ اکٹھے بیٹھنے، دل کی بات کہنے اور رشتوں کو تازہ کرنے کا ایک حسین وسیلہ ہے۔ اس کی بھاپ میں نہ جانے کتنی یادیں بسی ہوتی ہیں، اس کی خوشبو میں نہ جانے کتنی ملاقاتیں چھپی ہوتی ہیں اور اس کے ہر گھونٹ میں نہ جانے کتنے قصے سانس لیتے ہیں۔شاید اسی لیے چائے کے شیدائی اسے محض چائے نہیں سمجھتے۔ ان کے لیے یہ ایک خاموش دوست ہے، ایسا دوست جو سوال نہیں کرتا، شکایت نہیں کرتا، ماضی کا حساب نہیں مانگتا، بس خاموشی سے سامنے بیٹھتا ہے اور چند لمحوں کے لیے انسان کو اس کی اپنی دنیا سے نکال کر سکون کی ایک چھوٹی سی دنیا میں لے جاتا ہے۔ آئیں ہم عزم کریں کہ ہم بھی دوسروں کے لیے ایسے دوست بنیں جو درد دل کی دوا ہوا کرتے ہیں۔