ختمِ نبوت کے محافظ۔ قربانیوں سے آئینی فیصلے تک

عقیدہ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی اور متفقہ عقائد میں سے ہے۔ قرآن کریم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خاتم النبیین قرار دیا ہے، جبکہ احادیثِ مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صاف الفاظ میں ارشاد فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہی عقیدہ امتِ مسلمہ کے ایمان، وحدت اور دینی شناخت کا بنیادی ستون ہے۔ برصغیر میں جب مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت سے متعلق دعویٰ کیا تو امت کے علماء نے اسے ایک معمولی اختلاف نہیں بلکہ عقیدہ اسلام پر حملہ سمجھا، چنانچہ علمی، دعوتی، عوامی اور سیاسی ہر محاذ پر اس فتنے کا جواب دیا گیا۔ یہی جدوجہد آگے چل کر ایک ایسی تحریک میں تبدیل ہوئی جس نے لاکھوں مسلمانوں کو ایک مقصد پر جمع کر دیا اور بالآخر 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے تاریخی آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کوغیر مسلم قرار دیا۔

اس عظیم جدوجہد میں کئی ایسی شخصیات سامنے آئیں جنہوں نے اپنی زندگیاں اس مقصد کیلئے وقف کر دیں۔ امیرِ شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ان میں نمایاں تھے۔ وہ صرف ایک غیر معمولی خطیب نہیں بلکہ عشقِ رسول کے پیکر تھے۔ ان کی ولولہ انگیز خطابت نے لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں عقیدہ ختمِ نبوت کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے مخالفت، قید و بند اور سخت آزمائشوں کے باوجود اپنی جدوجہد ترک نہ کی۔ 1953ء کی تحریک میں امت کو یکجا کرنے میں ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اسی طرح حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی نے تحریک کو صرف جلسوں اور خطابات تک محدود نہیں رکھا بلکہ سیاسی اور پارلیمانی میدان میں بھی امت کا مقدمہ پیش کیا۔ وہ ان علماء میں شامل تھے جنہوں نے 1974ء میں قومی اسمبلی کے اندر عقیدہ ختمِ نبوت کے حق میں مضبوط دلائل پیش کیے۔ ان کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ دین کی خدمت کبھی منبر سے، کبھی میدانِ عمل سے اور کبھی پارلیمنٹ کے ایوان سے بھی کی جاتی ہے۔

محدثِ عصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کا کردار بھی اس تحریک میں نہایت اہم تھا۔ انہوں نے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور امت کے اتحاد کو اپنی ترجیح بنایا۔ ان کی قیادت میں ملک بھر میں ختمِ نبوت کی تحریک منظم ہوئی جبکہ پارلیمنٹ کے اندر مفتی محمود، غلام غوث ہزاروی، مولانا شاہ احمد نوارانی اور دیگر علماء علمی و آئینی دلائل کے ساتھ امت کا مقدمہ پیش کرتے رہے۔ مولانا شاہ احمد نورانی کو قومی اسمبلی میں تمام مکاتب فکر کی جانب سے قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قراردینے کی قرار داد پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ جب مقصد مشترک ہو تو بین المسالک اختلافات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود بھی ان اکابر میں شامل تھے جنہوں نے قومی اسمبلی کے اندر نہایت بصیرت، حکمت اور علمی استدلال کے ساتھ ختمِ نبوت کا مقدمہ پیش کیا۔ انہوں نے اس مسئلے کو سیاسی نہیں بلکہ قرآنی، حدیثی اور آئینی بنیادوں پر پیش کیا، جس نے قومی اتفاقِ رائے کی راہ ہموار کی۔ تحریکِ ختمِ نبوت کی تاریخ میں 1953ء ایک دردناک مگر روشن باب ہے۔ اس دور میں ہزاروں علمائ، کارکنان اور عام مسلمانوں نے گرفتاریاں دیں، سختیاں برداشت کیں اور بہت سے افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان قربانیوں نے یہ ثابت کیا کہ عقیدہ ختمِ نبوت محض ایک نظری بحث نہیں بلکہ مسلمانوں کے ایمان اور محبتِ رسول کا زندہ اظہار ہے۔

1974ء میں ربوہ (موجودہ چناب نگر) ریلوے اسٹیشن پر پیش آنے والے واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل پیدا ہوا اور تحریک نے نئی قوت حاصل کی۔ اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر کے علمائ، خواہ وہ دیوبندی ہوں، بریلوی، اہلِ حدیث یا دیگر مسلم طبقات سے تعلق رکھتے ہوں، سب نے ختمِ نبوت کے مسئلے پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ یہی اتحاد اس تحریک کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوا۔ قومی اسمبلی میں اس مسئلے پر تفصیلی کارروائی ہوئی۔ تمام فریقوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، دلائل سنے گئے اور طویل غور و خوض کے بعد 7 ستمبر 1974ء کو آئین کے آرٹیکل 260 میں ترمیم منظور کی گئی، جس کے مطابق جو شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قطعی اور غیر مشروط ختمِ نبوت پر ایمان نہ رکھے یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد کسی مدعی نبوت کو نبی مانے، وہ آئین و قانون کے تحت مسلمان نہیں ہوگا۔ یہ پاکستان کی آئینی تاریخ کے اہم ترین فیصلوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس تاریخی مرحلے میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے بھی اہم سیاسی کردار ادا کیا، تاہم تاریخی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ اس کامیابی کو کسی ایک فرد سے منسوب نہ کیا جائے۔ اس فیصلے کے پیچھے علماء کی کئی دہائیوں کی محنت، 1953ء کے شہداء کی قربانیاں، عوام کی جدوجہد، 1974ء کی ملک گیر تحریک اور پارلیمنٹ کا متفقہ فیصلہ شامل تھا۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی تاریخی طور پر ثابت نہیں کہ بھٹو صاحب کی بعد کی پھانسی اسی فیصلے کا براہ راست نتیجہ تھی، اس لیے اس معاملے میں احتیاط اور دیانت ضروری ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس پوری تحریک کا سب سے بڑا ہیرو کون تھا تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ کسی ایک شخصیت کی نہیں بلکہ پوری امت کی مشترکہ جدوجہد تھی۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مجا ہد ملت مولانا غلام غوث ہزاروی، محدث العصر مولانا سید یوسف بنوری، مفکر اسلام مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد اور بے شمار معلوم و گمنام علمائ، کارکنان اور شہداء نے اپنے اپنے حصے کی قربانیاں دیں۔ کسی کا نام تاریخ میں محفوظ ہوگیا اور کسی کا صرف اللہ تعالیٰ کے ہاں۔

اس تحریک کا اصل مرکز کسی شخصیت کی ذات نہیں بلکہ رسول اللہ حضرت محمد مصطفی کی ذاتِ اقدس سے محبت تھی۔ علمائے کرام نے قربانیاں اسی محبت میں دیں، عوام نے جیلیں اسی محبت میں کاٹیں اور شہداء نے جانیں بھی اسی نسبتِ محمدی پر نچھاور کیں۔ اسی لیے تحریکِ ختمِ نبوت درحقیقت عشقِ رسول کی تاریخ ہے۔ آج ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم عقیدہ ختمِ نبوت کو قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح طور پر سمجھیں، اپنی نئی نسل کو اس سے آگاہ کریں، سیرتِ نبوی سے محبت پیدا کریں اور دین کی دعوت علم، حکمت، اخلاق اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پیش کریں۔ یہی ان اکابر و اسلاف کی قربانیوں کا حقیقی تقاضا اور ان کیلئے بہترین خراجِ عقیدت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام علمائ، شہدائ، اسیرانِ ختمِ نبوت اور کارکنان کی قربانیوں کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ہمیں عقیدہ ختمِ نبوت پر کامل استقامت نصیب فرمائے اور ہماری نسلوں کے دلوں میں رسول اللہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کامل محبت اور آپ کی ختمِ نبوت پر غیر متزلزل ایمان ہمیشہ قائم رکھے، آمین یا رب العالمین۔