جنگ ستمبر 65 ء سے ستمبر 2026 ء تک

گزشتہ سے پیوستہ:
بنیان مرصوص، جب دیوار آگے بڑھ گئی
10مئی کو بھارت نے نور خان، مریدکے اور رفیقی ایئربیس سمیت پاکستان کی کئی اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو پاکستان نے بھرپور جوابی تیاریوں کے ساتھ آپریشن بنیان مرصوص شروع کر دیا۔ قابل اعتماد رپورٹس کے مطابق اس دوران بھارت کے 26فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ فضائی قوت، فتح میزائل، ڈرون، توپ خانہ، سائبر صلاحیت اور الیکٹرانک وارفیئر اس جوابی کارروائی کا حصہ بنے۔ 1965میں دشمن لاہور کے دروازے تک آیا تو پاکستانی سپاہی اس کے سامنے دیوار بن گیا۔ 2025ء میں دشمن نے ہمارے اڈوں کو نشانہ بنایا تو وہ دیوار آگے بڑھی اور بھارت کے فضائی اڈوں، میزائل تنصیبات اور فوجی مراکز تک جا پہنچی۔

اسی لیے بنیان مرصوص، یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا نام گہری معنویت رکھتا تھا۔سائبر کارروائی، ڈرون وارفیئر، الیکٹرانک جیمنگ اور بیانیے کی جنگ بھی ساتھ چلی۔ پاکستان نے دکھا دیا کہ وہ جدید کثیرالجہتی جنگ میں بھارت کا مقابلہ کر سکتا ہے۔معرکہ حق کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت کا یہ مفروضہ ٹوٹ گیا کہ وہ محدود حملہ کر کے کشیدگی کی سیڑھی پر اپنی مرضی کے مقام پر رکھ سکتا ہے۔ نئی دہلی کو معلوم ہو گیا کہ پاکستان جواب ضرور دے گا، اس کی جگہ اور نوعیت خود طے کرے گا اور دشمن کو اتنا نقصان پہنچا سکتا ہے کہ بڑی طاقتیں جنگ بندی کے لیے متحرک ہو جائیں۔

2026، اب پاکستان اکیلا نہیں!
ستمبر 2026ء میں تصویر ایک بار پھر بدل چکی ہے۔ 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کا بنیادی اصول دوٹوک ہے کہ کسی ایک ریاست پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اسے فنی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل پانچ جیسا باہمی دفاعی عہد قرار دیا، اگرچہ عملی مدد کی نوعیت باہمی مشاورت سے طے ہوگی۔ 31اگست کو استنبول میں تینوں ملکوں کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی ہوگیا۔ سعودی عرب میں مستقل سیکریٹریٹ قائم کیا جا رہا ہے اور پہلے 3سال اس کا سیکریٹری جنرل پاکستان سے ہوگا۔ مشترکہ مشقیں، دفاعی پیداوار و تحقیق، فضائی دفاع، ڈرون، مصنوعی ذہانت، الیکٹرانک وارفیئر اور انسداد دہشت گردی اس کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔یہ اتحاد ابھی نیٹو نہیں، نہ مستقل مشترکہ فوج یا مربوط کمانڈ موجود ہے مگر اجتماعی دفاع کا اصول طے ہو چکا، اعلی کمیٹی کام شروع کر چکی اور سیکریٹریٹ بن رہا ہے۔ معاملہ اسی طرف جا رہا ہے۔ کیا خبر کل کو اسے مسلم نیٹو کہا جائے۔

پاکستان کا تجربہ، ترکیہ کی صنعت، سعودی سرمایہ
تینوں ملک ایک دوسرے کی کمی پوری کرتے ہیں۔ پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی اور اہم دفاعی قوت، جنگ آزمودہ فوج، میزائل پروگرام اور بھارت کے خلاف کامیاب جنگی تجربہ رکھتا ہے۔ ترکیہ کے پاس نیٹو کی دوسری بڑی فوج، جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی اور بڑھتی ہوئی دفاعی صنعت ہے۔ سعودی عرب مالی وسائل، جدید ہتھیار، اسلامی دنیا میں مرکزی مقام اور توانائی کی منڈی پر اثر رکھتا ہے۔ میری رائے میں ان تینوں کا جوڑ ایسا دفاعی مجموعہ بنا سکتا ہے جو ہتھیار خریدنے سے آگے بڑھ کر مشترکہ تیاری، تحقیق اور برآمد تک جائے۔ جے ایف 17، فتح میزائل، پاکستانی دفاعی صنعت اور جنگی تجربے کو ترک ڈرون، جدید سینسر اور سعودی سرمایہ مل جائے تو مشترکہ قوت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔بھارت کو اب پاکستانی قوت کے ساتھ سعودی وسائل، ترک دفاعی صنعت، مشترکہ انٹیلی جنس اور متبادل سپلائی لائنوں کا امکان بھی اپنے حساب میں رکھنا پڑے گا۔

بحیرہ عرب سے خلیج تک
پاکستان بحیرہ عرب سے جڑا ہے، سعودی عرب بحیرہ احمر اور خلیج سے، جبکہ ترکیہ بحیرہ اسود اور مشرقی بحیرہ روم سے۔ تینوں کا تعاون ایک ایسی تزویراتی قوس بناتا ہے جو بحیرہ عرب سے آبنائے ہرمز، پھر باب المندب اور مشرقی بحیرہ روم تک جاتی ہے۔پاکستان کو آبنائے ہرمز میں کوئی مستقل اڈا نہیں ملا، مگر سعودی شراکت نے اس کے اثر کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ سعودی بحری دفاعی کوشش کی حمایت کر چکے ہیں، پاکستان اب مشرق وسطی کے سیکورٹی نقشے کا باقاعدہ اور اہم کھلاڑی ہے۔

جنگجو بھی، ثالث بھی
کیا دفاعی طاقت اور ثالثی ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں؟ پاکستان نے دکھا دیا کہ چل سکتی ہیں۔ ایک طرف سعودی عرب اور ترکیہ سے عسکری تعاون ہے، دوسری طرف ایران سے رابطہ اور امریکا ایران کشیدگی میں ثالثی۔ مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی اتحاد کو بھی کسی ایک ملک کے خلاف محاذ قرار نہیں دیا گیا۔یہی توازن آگے بھی رکھنا ہوگا۔ خلیج میں اثر کا مقصد ایران کے خلاف مورچہ بندی نہیں، بلکہ سلامتی، جہاز رانی اور توانائی کی فراہمی محفوظ بنانا ہے۔ جو طاقت لڑنے کے ساتھ جنگ روکنے کی اہلیت بھی رکھتی ہو، دنیا اسی کی بات سنتی ہے۔مئی 2025نے ثابت کیاکہ پاکستان اپنا دفاع کر سکتا ہے۔ 2026نے دکھایا کہ اہم ممالک بھی علاقائی دفاع میں اسے ناگزیر سمجھتے ہیں۔

عزیز بھٹی سے مکہ اتحاد تک
6ستمبر کا سبق جنگ پسندی نہیں، تیاری، اتحاد اور عزم ہے۔ ہمیں کسی کی زمین نہیں چاہیے، مگر اپنی طرف بڑھنے والا قدم روکنا جانتے ہیں۔ 1965میں یہ کام عزیز بھٹی، سرفراز رفیقی اور ہزاروں جانبازوں نے خون سے کیا۔ 2025میں ان کے جانشینوں نے جدید ہتھیاروں اور مربوط کمانڈ کے ساتھ کیا۔ اب سعودی عرب اور ترکیہ کی شراکت نے دشمن کا حساب مزید پیچیدہ کردیا ہے۔1965میں پاکستان کے پاس دل بڑا اور وسائل تھوڑے تھے۔ آج وہی دل اواکس کی آنکھ، ڈیٹا لنک کے اعصابی نظام، پی ایل 15کی ضرب، فتح میزائل، ایٹمی دفاع، مقامی صنعت اور دو مسلم طاقتوں کی شراکت سے لیس ہے۔اللہ کرے یہ حوصلہ، یہ تیاری اور یہ اتحاد قائم رہے۔ اللہ ہمارے شہیدوں کے درجات بلند کرے اور اس ملک کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین!