جنگ ستمبر 65 ء سے ستمبر 2026 ء تک

میرے کیریئر کا آغاز اردو ڈائجسٹ سے ہے، وہاں تین سال کام کیا۔ اردو ڈائجسٹ ہر سال ستمبر میں دفاع پاکستان نمبر نکالا کرتا تھا۔ وہاں کام کرتے ہوئے جنگ ستمبر کے مجاہدین کی سچی کہانیاں پڑھنے کا موقع ملا، کئی ریٹائر فوجیوں سے بھی وہاں پر ملاقات ہوئی جنہوں نے وہ جنگ لاہور کے محاذ پر لڑی تھی۔ ان کے جذبے، ان کی کہانیاں دل کو چھو لینے والی تھیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر سال 6ستمبر آتا ہے تو برکی سیکٹر میں کھڑے میجر راجا عزیز بھٹی شہید، چونڈہ میں بھارتی ٹینکوں کے سامنے ڈٹے گمنام سپاہی اور فضا میں ایم ایم عالم اور سرفراز رفیقی شہید جیسے شاہین یاد آتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر وہ قوم یاد آتی ہے جو سارے جھگڑے بھلا کر ایک مٹھی بن گئی تھی۔ ستمبر 1965کی جنگ ہمارے لیے ایک یادگار ہے، اس سے کئی سبق بھی سیکھے گئے اور اس معرکے نے پاکستانی فوجیوں کا مورال ایسا بلند کیا کہ بعد کے بعض سانحے بھی ان کے اعتماد اور جذبے کو پست نہ کر سکے۔

اس سال ستمبر 2026ء میں کھڑے ہو کر میں سوچتا ہوں کہ اب ہماری حسین یادوں کے اثاثہ جات میں اضافہ ہوچکا۔ اس بار صرف 61برس پیچھے دیکھنا کافی نہیں۔ سامنے مئی 2025کا معرکہ حق اور اگست 2026ء میں قائم ہونے والا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد بھی ہے۔ 1965میں ہم نے دشمن کا اچانک حملہ جوانوں کے خون سے روکا، 2025ء میں حملہ آور بھارت کو ٹیکنالوجی اور حکمتِ عملی کا سرپرائز دیا اور 2026ء میں دو مسلم طاقتوں کے ساتھ مل کر مشترکہ دفاع کا نیا دائرہ کھینچ دیا۔ یہ ایک گھرے ہوئے ملک سے علاقائی سیکورٹی پلیئر بننے تک کا سفر ہے۔

جب لاہور اور دشمن کے درمیان ہمارے جانباز ڈٹ گئے
1965کی جنگ پر دونوں ملکوں کے مورخ بحث کرتے رہیں گے۔ جنگ کشمیر اور چھمب کے محاذ پر پھیل چکی تھی، مگر 6ستمبر کو بھارت نے بین الاقوامی سرحد عبور کرکے لاہور اور دوسرے محاذوں پر یلغار کی تو یہ پاکستان کے لیے بڑا سرپرائز تھا۔ بھارت کو اپنی عددی برتری پر بھروسہ تھا۔ خیال تھا کہ لاہور کی طرف تیز پیش قدمی پاکستان کو نفسیاتی طور پر مفلوج کر دے گی۔ بھارتی منصوبہ سازوں نے مگر پاکستانی سپاہی کے حوصلے کا درست حساب نہیں لگایا تھا۔ برکی کے محاذ پر میجر راجا عزیز بھٹی کئی دن اپنی کمپنی کی اگلی صف میں رہے۔ گولہ باری اور شدید تھکن کے باوجود آرام کے لیے پیچھے جانے سے انکار کردیا اور جوانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے جان دے دی۔ ان کا نشانِ حیدر اس پوری نسل کی علامت ہے جس نے لاہور اور دشمن کے درمیان اپنے جسموں کی دیوار کھڑی کردی تھی۔

میرا بڑا بیٹا پسرور کے کیڈٹ کالج میں پڑھا۔ اسے چھوڑنے جاتا تو وہاں چونڈہ کی طرف جاتی سڑک کا سنگ میل دیکھتا۔ مجھے ہر بار جنگ ستمبر میں چونڈہ کا معرکہ یاد آجاتا۔ پاک فوج کے جانبازوں نے چونڈہ میں بھارت کی فرسٹ آرمڈ ڈویژن کی یلغار ایسے روکی کہ اس کی ماڈرن ملٹری ہسٹری میں مثال دی جاتی ہے۔ اسے دوسری جنگ عظیم کے بعد بکتر بند افواج کی بڑی لڑائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستانی ٹینکوں، توپچیوں اور جوانوں نے بھارتی پیش قدمی وہیں منجمد کردی۔ دشمن سیالکوٹ کا دفاع توڑنے آیا تھا، چونڈہ اس خواب کا قبرستان بن گیا۔ پاک فضائیہ تب نسبتاً چھوٹی تھی مگر ہمارے شاہینوں نے اپنے سے بڑی بھارتی فضائیہ کے چھکے چھڑا دیے۔ ایم ایم عالم کی کامیابیاں تاریخ بن گئیں۔ سرفراز رفیقی شہید نے طیارے کی توپیں جام ہونے کے بعد بھی ساتھیوں کو چھوڑنے کی بجائے دشمن کے بیچ رہنا پسند کیا۔ سیسل چودھری، امتیاز بھٹی اور سجاد حیدر جیسے شاہینوں نے ثابت کیا کہ فیصلہ مشین نہیں، کاک پٹ میں بیٹھا انسان کرتا ہے۔ دوسری طرف پاک بحریہ نے آپریشن دوارکا سے اپنا حصہ ڈالا۔

ستمبر 1965سے ہم نے بہت کچھ سیکھا
یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس جنگ سے ہم نے کئی سبق سیکھے اور اپنی اصلاح کی۔ جیسے جنگ شروع ہوتے ہی امریکا اور برطانیہ نے اسلحے کی فراہمی روک دی۔ ہمیں سیکھنا پڑا کہ قومی دفاع کو کسی بڑی طاقت کے وعدے اور بیرونی سپلائی لائن کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ پھر دفاعی پیداوار، میزائل پروگرام اور ایٹمی دفاع کی عمارت کھڑی ہوئی۔ ٹینک، جنگی طیارے، ڈرون اور گولہ بارود بنانے کی صلاحیت بڑھی۔ فضائی نگرانی، ارلی وارننگ سسٹم، الیکٹرانک وارفیئر اور مشترکہ آپریشن پر توجہ دی گئی۔تب تینوں افواج میں آج جیسی مربوط کمانڈ، فوری ڈیٹا شیئرنگ اور مشترکہ جنگی تصویر بھی موجود نہیں تھی۔ اس چیز کو زبردست طریقے سے ٹھیک کیا گیا اور آج ہماری مربوط انٹیگریٹڈ کمان سسٹم کی دنیا بھر میں مثال دی جا رہی ہے۔

مئی 2025 نے جنگ ستمبر کی یاد تازہ کی
7مئی 2025کو بھارت نے آپریشن سندور کے نام سے پاکستان اور آزاد کشمیر پر حملے کیے۔ نئی دہلی کو گمان تھا کہ وہ وقت اور مقام چن کر ہمیں حیران کرے گا، چند اہداف کو نشانہ بنا کر جشن منائے گا اور جواب سے پہلے پاکستان کو عالمی دباؤ میں جکڑ دے گا۔ وہ بھول گئے کہ پاک فوج آج ٹیکنالوجی اور تیاری میں ستمبر 1965سے کئی ہاتھ آگے نکل چکی ہے۔ پاکستان نے انڈیا کو اپنے شدید جوابی حملے سے بھونچکا کردیا۔ رائٹرز کی تحقیق کے مطابق پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کئی دن سے آپریشن روم کے قریب مقیم تھے۔ بھارتی طیارے حرکت میں آئے تو پاکستانی نظام پوری طرح بیدار تھا۔ تقریباً 110طیاروں پر مشتمل، ایک گھنٹہ جاری رہنے والی یہ مڈبھیڑ کئی دہائیوں کی بڑی فضائی لڑائیوں میں شمار ہوئی۔اصل پاکستانی ہتھیار فائٹر طیارہ جے ٹین سی ای نہیں، پورا جنگی نظام تھا۔ اواکس، زمینی ریڈار، پی ایل 15 میزائل، ڈیٹا لنکس اور الیکٹرانک وارفیئر ایک اعصابی نظام کی طرح جڑے تھے۔ ہمارے طیارے ریڈار بند رکھ کر بھی بھارتی طیاروں کی پوزیشن حاصل کر سکتے تھے۔ دشمن انہیں پوری طرح نہیں دیکھ رہا تھا، مگر وہ دشمن کو دیکھ رہے تھے۔بھارتی منصوبہ سازوں نے پی ایل 15میزائل کی ریچ کم سمجھی۔ رائٹرز کے مطابق رافیل کو نشانہ بنانے والا میزائل تقریباً 200کلو میٹر یا اس سے زیادہ فاصلے سے داغا گیا۔ بھارتی ہوا باز خود کو پاکستانی میزائل کی حد سے باہر سمجھ رہے تھے۔ حملہ کرنے والوں کو اچانک پتا چلا کہ وہ خود نشانے پر آ چکے ہیں۔ ستمبر 1965میں بھارت نے ہمیں سرپرائز دیا تھا۔ مئی 2025میں ہم نے وہ سرپرائز ٹھیک ٹھاک بیاج یعنی سود سمیت بنئے کو واپس کر دیا۔

بھارتی غرور کی علامت پاش پاش ہوگئی
پاکستان نے مجموعی طور پر 6بھارتی طیارے گرانے کا دعوی کیا، جن میں کئی رافیل شامل تھے۔ بھارت نے پوری تعداد تسلیم نہیں کی، مگر حقیقت کو پروپیگنڈا کہہ کر دفن کرنا ممکن نہ رہا۔ امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستانی جے ٹین نے کم از کم 2بھارتی طیارے مار گرائے، جن میں ایک رافیل تھا۔ واشنگٹن پوسٹ نے تصاویر اور ویڈیوز کی جانچ کے بعد رافیل اور میراج 2000کے ملبے کی شناخت کی۔ فرانسیسی فضائیہ کے سربراہ نے بھی رافیل سمیت تین بھارتی طیاروں کے نقصان کے شواہد دیکھنے کی تصدیق کی۔ ویسے صدر ٹرمپ کی روایت مانی جائے تو یہ تعداد 6سے 11کے درمیان تک پہنچ جاتی ہے۔رافیل کو بھارت نے اپنی نئی فضائی قوت اور پاکستان پر برتری کی علامت بنا رکھا تھا۔ اس کا پہلی بار جنگ میں گرنا عالمی دفاعی صنعت کے لیے بھی بڑا واقعہ تھا۔ پلیٹ فارم چینی ساختہ تھے، مگر انہیں ایک نظام میں پرونے، ہدف چننے اور معرکہ جیتنے کا کام پاکستانی دماغ اور ہوا بازوں نے کیا۔ (جاری ہے)