نئے صوبوں کا ڈھول!

آپ دنیا کے کسی بھی خطے کے حکمرانوں کی تاریخ پڑھ لیں، آپ کو ہر خطے کے حکمرانوں میں ایک چیز کامن دکھائی دے گی کہ یہ جب تک اقتدار کے جھولے میں جھولتے رہے تب تک انہیں اچھے برے، سچ اور جھوٹ کی کوئی تمیز نہ رہی لیکن جیسے ہی ا ن کے اقتدار کا سورج غروب ہونا شروع ہواتو ساری سچائیاں ہاتھ باندھے اس کے سامنے کھڑی ہو گئیں اور وہ چیخ چیخ کر ان سچائیوں کااعتراف اور اعلان کرنے لگے۔ فرعون غرق ہونے لگا تو اسے کلمہ یاد آگیا، قارون کوزمیں نگلنے لگی تو اسے معافی یاد آگئی، نمرود کو مچھر نے سچ یاد کروا دیا، سکندر کی موت اسے سب کچھ سکھا گئی، کرامویل کی پھانسی نے اسے حقیقت سمجھا دی، رضاشاہ کی جلاوطنی نے اسے سبق پڑھا دیا، حسنی مبارک کو جیل کی کوٹھری نے تارے دکھلا دیے اور قذافی کو لیبیا کی گلیوں نے سچ ازبر کروا دیا۔

حکمرانی کے دور ان اقتدار کے نشے کا جا دو سر چڑھ کر بولتا ہے لیکن جیسے ہی اس کا خمار اترتاہے تو حکمران ایک نئے نشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جو سچ بولنے کا نشہ ہوتا ہے۔ اقتدارسے علیحدگی کے بعد یہ لوگ سچ کے عارضے میں ایسے مبتلا ہوتے ہیں کہ ماضی کی تمام سچائیاں عوام کے سامنے لانے کا ٹھیکا لے لیتے ہیں۔ یہ ہر سچ کے ساتھ اس کی توجیہ بھی پیش کرتے ہیں اور خود کو اس سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ یہ سچائی کے ڈھول کو مستقل مزاجی سے بجاتے رہتے ہیں اور جب تک وہ ڈھول ان سے چھین نہ لیا جائے یہ خاموش نہیں ہوتے۔

ن لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں نے نئے صوبوں کے قیام کا شور مچا کر ایک مرتبہ پھر سچ بولنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ نئے صوبے بننے چاہئیں بلکہ یہ آج سے بیس سال پہلے بن جانے چاہیے تھے۔ بارہ کروڑآبادی والے صوبے کو ایک ہی سیکرٹریٹ کے ذریعے چلانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے علاقے زیادہ ترقی کرتے ہیں۔

جنوبی پنجاب کی مشکلات بجا ہیں اور ہمیں سرائیکی لوگوں کو ان کے حقوق دینے چاہئیں۔ پورے جنوبی پنجاب میں اتنی یونیورسٹیاں نہیں جتنی صرف لاہورمیں ہیں اور جنوبی پنجاب کے لوگوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کیلئے لاہور آنا پرتا ہے۔ جنوبی پنجاب میں اسپتال اور میڈیکل کالجز تک نہیں ہیں اور ان لوگوں کو اہم اور سیریس کیسز کیلئے مریضوں کو ملتان یا لاہور لاناپڑتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے اکثر اضلاع قدرتی آفات کی زد میں بھی رہتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں ترقی نہیں ہوسکی اور یہاں کی سڑکیں شیر شاہ سوری کی یاد دلاتی ہیں۔

جنوبی پنجاب کی محرومیاں، مایوسیاں اور ناامیدیاں ایک طرف مگر سوال یہ ہے کہ ن لیگ کو نئے صوبوں کا سچ بیس سال کے بعد کیوں یاد آرہا ہے؟ ن لیگ دو ہزار آٹھ سے پنجاب کی حکمران چلی آ رہی ہے، اس لیے انہیں یہ بات پہلے کیوںیاد نہیں آئی، انہیں وضو کے بعد بسم اللہ کیوں یاد آرہی ہے اور اب وہ سورج طلوع ہونے کے بعد تہجد پڑھنے کی خواہش کیوں کر رہے ہیں۔ شاید اب وہ اپنے اقتدار کے غروب ہوتے سورج کوسرائیکی صوبے کے بادلوں کے ذریعے چھپانا چاہتے ہیں۔ ہر سچ کی ایک قیمت اور ہر سچ کا ایک وقت ہوتا ہے اور اگر وہ سچ وقت پر نا بولا جائے تو وہ سچ سچ نہیں رہتا بلکہ فساد بن جاتا ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کا المیہ یہ ہے کہ انہیں ہمیشہ وقت گزرنے کے بعد سچ یاد آتا ہے۔ انہیں مردے کو دفنانے کے بعد غسل یاد آتا ہے اور اقتدار کا سورج غروب ہونے کے بعد تمام سچائیاں نہا دھو کر ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہو جاتی ہیں۔

آپ پاکستان کی پچھلی چھبیس سالہ سیاست پر نظر دوڑائیں، آپ کوبہت سارے سیاستدان سچ بولتے دکھائی دیں گے۔ خان صاحب اور طاہر القادری صاحب نے سابق ڈکٹیٹرمشرف کو ریفرنڈم کے ذریعے صدر بنانے میں بڑا اہم کردار اد اکیا تھا، مولانافضل الرحمن اور مجلس عمل نے ایل ایف اوپربڑی امید سے دستخط کیے تھے، چودھری شجاعت کولال مسجد آپریشن پر آج تک افسوس ہو رہا ہے، اعجازالحق کوآج بھی رات کوڈراؤنے خواب آتے ہیں اور نوازشریف آج بھی میثاق مری پر کف افسوس ملتے ہیں۔ آپ آج ان تمام سیاستدانواں کے اخباری بیانات پڑھیں، آپ ان کے ٹاک شوزدیکھ لیں، آپ کو یہ سارے سیاستدان سچ کے عارضے میں مبتلا دکھائی دیں گے۔

آج یہ سارے سیاستدان ٹاک شوز میں چیخ چیخ کر سچ بولنے کی کوشش کر رہے ہیں، آج ان کو محسوس ہو رہا ہے اگر انہوں نے سچ نہ بولا تو قو م انہیں معاف نہیں کرے گی، آج ساری سچائیاں ہاتھ باندھے ان کے سامنے کھڑی ہیں اور آج ہرچھوٹا بڑا سیاستدان چیختا چنگھاڑتا سچائی کا اعلان کرتا نظرآتا ہے مگر آج عوام جان چکے ہیں کہ یہ مداری سچائی کے اعلان کے ذریعے نیا کرتب دکھانا چاہتے ہیں۔