غزہ،ایک ماہ میں160شہید،گھر تجارتی مراکز مسمار،درجنوں گرفتار

غزہ/نیویارک:غزہ میں صہیونی حملے جاری،ایک ماہ میں160فلسطینی شہید،سینکڑوںمکانات،تجارتی مراکز ملبے کے ڈھیر میں تبدیل،درجنوں گرفتار،عالمی ادارے نے ہنگامی انسانی امداد کی اپیل کردی۔

غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے نمائندخصوصی فرانسسکا البانیزکا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل کی قتل و غارت کی مشین نے گذشتہ جولائی کے مہینے کے دوران غزہ پٹی میں 160 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے حالانکہ جنگ بندی کا اعلان ہوئے دس ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے جس سے زمین پر معاہدے کی حقیقت کے حوالے سے دوبارہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔

انہوں نے ایک بیان میں واضح کیا کہ اکتوبر 2025ء میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے شہداء کی تعداد 1200 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ قابض اسرائیل کی افواج نے المواصی سمیت آبادی اور بے گھر افراد سے بھرے علاقوں پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے نشاندہی کی کہ حالیہ اموات کا زیادہ تر حصہ نام نہاد ”یلو لائن” کے تعین کردہ علاقے سے دور ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان حملوں میں خواتین، بچوں اور معمر افراد کو بھی نہیں بخشا گیا جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے خیموں اور ان علاقوں میں پناہ لے رکھی تھی جنہیں وہ نسبتاً محفوظ سمجھتے تھے۔

ادھراقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے جاری حملوں کے باعث فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں اور انھیں انسانی امداد کی مزید ضرورت پڑ رہی ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور(او سی ایچ اے) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا کہ جمعے سے اسرائیلی فائرنگ، گولہ باری اور بحری حملوں کے نتیجے میں کئی شہری مار ے جا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے زور دیا کہ بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت شہریوں اور شہری تنصیبات کا ہر حال میں تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔

دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر دھائووں اور گرفتاریوں کی مہم شروع کی جس کے دوران جھڑپیں بھی ہوئیں اور شہریوں پر تشدد کیا گیا۔بیت لحم میں قابض فوج نے گورنری کے مختلف علاقوں سے پانچ شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

قابض فوج نے گورنری کے جنوب میں واقع دھیشہ پناہ گزین کیمپ سے محمد وحیدہ شطہ، محمد فادی الافندی اور یزن محمد قدیح کو گرفتار کیا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ فوج نے گھروں پر دھاوے بول کر تلاشی لینے کے بعد گورنری کے مغرب میں واقع نحالین قصبے سے علی اسماعیل غیاظہ اور شمال میں واقع عایدہ کیمپ سے قاسم ابو سرور کو بھی حراست میں لے لیا۔

قابض فوج نے الخضر، تقوع، العبیدیہ، دار صلاح، الشواورہ، زععتہ اور جبہ قصبوں پر بھی دھاوے بولے۔جنین میں قابض فوج نے شہر کے محلوں اور قصبوں میں چھاپوں اور دھائوں کی مہم کے دوران 11 شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

قابض فوج نے جنین شہر کے کئی محلوں میں چھاپے مارے اور متعدد گھروں کی تلاشی لی اور کئی شہریوں کو حراست میں لیا جن میں عبداللہ صدقی زکارنہ، احمد ابو شملہ، برائ وجدی حثناوی، محمد عبداللہ بریکی، احمد حسام ابو طبیخ، احمد الشخشیر اور نوجوان محمد عبدالرحیم شامل ہیں۔

فوج نے جنین کے مغرب میں واقع قصبے کفیرت سے اسیرِ آزاد یوسف عرفات اغباریہ کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا حالانکہ انہیں جیل میں 28 ماہ گزارنے کے بعد محض 10 دن پہلے ہی رہا کیا گیا تھا۔

اسی سلسلے میں قابض فوج نے شہر کے مغرب میں واقع قصبے کفر قود سے نوجوان محمد عواد اور منذر فراس غانم کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں گرفتار کر لیا۔جنین کے جنوب مغرب میں واقع قصبے یعمد میں قابض فوج نے نوجوان عامر بشار ابو شملہ کے گھر پر دھاوا بول کر اس کے اہل خانہ کے گھر کا سامان تباہ کر دیا۔

نابلس میں قابض فوج نے مقبوضہ گورنری کے جنوب مغرب میں واقع قصبے تل پر دھاوا بولا جس کے ساتھ دھماکا خیز مواد سے لدا ایک ٹرک بھی تھاجو شہید فاروق رمضان کے گھر کو دھماکے سے اڑانے کی تیاری کے لیے تھا۔قابض فوج نے متعدد گھروں پر چھاپے مارے اور ان میں سے ایک کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا جبکہ چھاپے کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے کام میں بھی رکاوٹ ڈالی۔

دریں اثناء غزہ میں ایک زخمی فلسطینی بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئی جس کے بعد غزہ کی پٹی میں سات اکتوبر 2023ء کو قابض اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک کے شہداء کی تعداد تہتر ہزار تین سو ستاسی شہداء تک پہنچ گئی ۔

قابض اسرائیلی فوج نے مسلسل 306 ویں روز بھی غزہ کی پٹی میں جارحانہ جنگ کے خاتمے اور سیز فائر کے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جس کے ساتھ ہی شدید محاصرہ اور پسماندہ پٹی کو امداد اور تعمیر نو سے محروم رکھنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ادھرحماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کو جن اسرائیلی حملوں اور خلاف ورزیوں کا سامنا ہے ان کے جواب میں وحدت، مزاحمت، زمین اور املاک پر ڈٹے رہنے اور حقوق کو تھامے رکھنے اور ہر ممکن ذرائع سے ان کے دفاع کا تقاضا کرتے ہیں۔

حماس کے رہنما عبدالرحمن شدید نے اپنے بیان میں کہا کہ مغربی کنارے کو قتل، یہودیانے، زمینوں پر ناجائز قبضے اور فلسطینیوں کو ان کے دیہاتوں اور قصبوں سے بے گھر کرنے کی کوششوں کا سامنا ہے۔

عبدالرحمن شدید نے فلسطینی عوام کو آپس میں متحد ہونے، شہداء کے لواحقین اور تباہ شدہ گھروں کے مالکان کی مدد کرنے، ہر ممکن طریقے سے ان کی معاونت کرنے، انہیں گلے لگانے اور ان کی ہمت و استقامت کو بڑھانے کی دعوت دی تاکہ قابض اسرائیل کو گھروں کو گرانے اور تباہ کرنے کے اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہونے سے روکا جا سکے۔

دوسری جانب منگل کی صبح 143 یہودی آباد کاروں نے قابض اسرائیلی پولیس اور اس کی اسپیشل فورسز کے سخت سیکورٹی حصار میں مسجد اقصیٰ کے مبارک صحنوں میں دھاوا بول دیا اور اس کے احاطے میں اشتعال انگیز دورے کیے۔

آباد کاروں نے باب المغاربہ جو کہ 1967ء سے قابض دشمن کے مکمل کنٹرول کے تحت ہے، کے راستے سے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا۔یہودی آباد کاروں نے مسجد کے صحنوں میں تلمودی رسومات اور عبادات ادا کیں۔

قابض اسرائیلی فوج کے بلڈوزروں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں جنین شہر کے جنوب میں واقع قصبے عنزا کے قریب 12 فلسطینی تجارتی تنصیبات کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔

مقامی باشندوں نے بتایا کہ قابض فوج کے بلڈوزروں نے عنزا قصبے کے داخلی راستے پر 12 کمرشل گوداموں کو مسمار کرنا شروع کر دیا جبکہ وہ مقدمہ جو شہریوں کی طرف سے عدالتوں میں دائر کیا گیا تھا ابھی تک زیر سماعت ہے ، اس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔قابض فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ہدف بنائی جانے والی تنصیبات کے قریب جانے پر پابندی عائد کر دی۔