مسئلہ فلسطین کیا ہے؟کیا تھا اور کیا ہو رہا ہے؟

فلسطین عالمِ اسلام کا سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ فلسطین مسلمانوں کی گم گشتہ متاع ہے۔ فلسطین مسلمانوں کا پہلا قبلہ ہے۔ فلسطین انبیائے کرام کی سرزمین، شہیدوں کے لہو سے سیراب خطہ اور انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی تاریخ کا امین ہے۔ یہ وہ مقدس سرزمین ہے جہاں صدیوں تک اللہ کے برگزیدہ بندے آباد رہے، جہاں وحی کی روشنی پھیلی، جہاں توحید کا پیغام بلند ہوا، اور جہاں آج ظلم، جبر اور ناانصافی اپنی بدترین شکل میں جاری ہے۔

فلسطین کی سرزمین کو اللہ تعالیٰ نے تاریخ کے مختلف ادوار میں دنیا کی قیادت کا مرکز بنایا۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں بنی اسرائیل کے لیے آسمان سے من و سلویٰ نازل کیا گیا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی تجلی نصیب ہوئی۔ اسی سرزمین پر حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ، حضرت لوط، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم علیہم السلام جیسے جلیل القدر انبیاء نے دعوت و ہدایت کا فریضہ انجام دیا۔ بے شمار انبیائے کرام اس مقدس زمین میں مدفون ہیں، جو اس خطے کی روحانی عظمت کا زندہ ثبوت ہیں۔یہ وہی سرزمین ہے جہاں سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی۔ معراج کی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم براق پر سوار ہو کر سب سے پہلے بیت المقدس تشریف لائے، جہاں تمام انبیائے کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ یہیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں کا سفر شروع کیا۔ مسجدِ اقصیٰ صرف ایک مسجد نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے ایمان، تاریخ اور وحدت کی علامت ہے۔ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجدِ اقصیٰ میں ایک نماز کا ثواب پچیس ہزار بلکہ بعض روایات کے مطابق پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں بیت المقدس مسلمانوں کے زیرِ نگیں آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود بیت المقدس تشریف لائے، مقدس مقامات کی صفائی کروائی اور مسجدِ اقصیٰ کی بنیاد رکھی۔ روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیت المقدس میں اذان دی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ ہو گئی اور سب پر رقت طاری ہو گئی۔ یہ منظر اس بات کی دلیل ہے کہ بیت المقدس صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ امت کی روح سے جڑا ہوا مقام ہے۔فلسطین کے چپے چپے پر تاریخ بولتی ہے۔ نابلس، بیت لحم، ناصریہ، طبریہ اور القدس جیسے علاقے انبیائے کرام کے آثار سے بھرے پڑے ہیں۔ روایات کے مطابق تین سو سے زائد انبیاء نابلس اور بیت المقدس کے درمیان ایک ہی خطے میں مدفون ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا کنواں نابلس میں واقع ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام ناصریہ میں مقیم رہیں۔ بعض روایات کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی بھی اسی خطے میں آ کر رکی۔ یہ تمام حقائق فلسطین کی مذہبی اور تاریخی حیثیت کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔

افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کی یہ مقدس سرزمین آج صہیونی ظلم و بربریت کا شکار ہے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں پر زندگی تنگ کر دی ہے۔ آئے دن بے گناہ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو شہید کیا جاتا ہے۔ گھروں کو مسمار کیا جاتا ہے، بستیاں اجاڑی جاتی ہیں، اور مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔ فلسطینیوں کو اپنی ہی زمین پر قیدی بنا دیا گیا ہے۔ ان کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جا چکے ہیں۔عالمی طاقتیں، خصوصاً امریکہ اور اس کے اتحادی، اسرائیل کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی درجنوں قراردادیں، امن کے بے شمار منصوبے اور دو ریاستی حل کے دعوے سب کے سب کاغذی ثابت ہوئے۔ اسرائیل نے کسی قرارداد، کسی معاہدے اور کسی عالمی قانون کو خاطر میں نہیں لایا۔ فلسطینیوں کو مسجدِ اقصیٰ میں نماز ادا کرنے سے روکا جا رہا ہے، جب کہ صہیونی آباد کار کھلے عام اشتعال انگیزی کر رہے ہیں۔مسئلہ فلسطین دراصل امتِ مسلمہ کی کمزوری کا آئینہ دار ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو طاقت ور، منظم اور باہم متحد ہوتی ہیں۔ شاہ فیصل شہید رحمہ اللہ نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امت کو اتحاد اور خود انحصاری کا پیغام دیا تھا۔ ملائشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد بھی بارہا یہ بات دہرا چکے ہیں کہ جب تک مسلمان علمی، عسکری اور معاشی طاقت حاصل نہیں کریں گے، تب تک ان پر ظلم ہوتا رہے گا۔آج عالمِ اسلام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ محض قراردادیں، بیانات اور احتجاج مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ اصل حل امت کی بیداری، اتحاد، خود اعتمادی اور طاقت میں پوشیدہ ہے۔ جب تک مسلمان مضبوط نہیں ہوں گے، دشمن انہیں کمزور سمجھ کر کچلتا رہے گا۔ فلسطین کا مسئلہ صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہے۔ یہ ہمارے ایمان، غیرت اور وحدت کا امتحان ہے۔اگر مسلمان واقعی فلسطین کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے اندر اتحاد، نظم، قربانی اور قوت پیدا کرنی ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو مظلوموں کو انصاف اور امت کو عزت دلا سکتا ہے۔