موجودہ مسلم ریاستوں کی شرعی حیثیت: خارجی فکر بمقابلہ اجماع امت

کیا آج کسی مسلم ریاست کو محض اس بنیاد پر غیر شرعی قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس کا حکمران کسی مخصوص گروہ کے خود ساختہ معیار پر پورا نہیں اترتا؟ اگر اس سوال کا جواب اثبات میں دے دیا جائے تو پھر نہ کسی مسلم حکومت کی قانونی حیثیت باقی رہتی ہے، نہ ریاستی نظم کی کوئی وقعت، نہ حکمران کی اطاعت لازم رہتی ہے، اور نہ ہی جہاد جیسے عظیم اجتماعی فریضے کے لیے اس کی اجازت کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ یہ وہ خطرناک فکری بنیاد ہے جس پر جدید خوارج کا تکفیری بیانیہ قائم ہے۔ حالانکہ یہ تصور نہ صرف قرآن و سنت کی صحیح تعبیر سے متصادم ہے بلکہ چودہ صدیوں سے اہلِ سنت والجماعت کے متفقہ فقہی اصولوں کی بھی صریح نفی کرتا ہے۔ اہلِ سنت کا متفقہ موقف یہ ہے کہ جس مسلمان حاکم کا کسی ریاست پر عملی اقتدار قائم ہو جائے، وہ شرعی امیر شمار ہوتا ہے، جائز امور میں اس کی اطاعت واجب ہوتی ہے اور اس کے خلاف خروج و بغاوت حرام ہے۔

لیکن اہل سنت کے اس موقف کی بنیاد کیا ہے ؟ اس کی جڑیں کہاں سے پھوٹتی ہیں؟ اس کے لیے ہمیں شریعت کے اس بنیادی اصول تک واپس جانا ہوگا جہاں سے پوری بحث شروع ہوتی ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں اقتدار یا حکمرانی کے حصول کے بنیادی طور پر دو طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ پہلا طریقہ اہل حل و عقد کی مشاورت سے ”اختیار و رضا” کا ہے جبکہ دوسرا طریقہ ”تغلب” یعنی طاقت کے ذریعے اقتدار پر متمکن ہونا ہے، اگر اصل، مطلوب اور جائز طریقے یعنی اختیار و رضا کی بات کی جائے تو اس کی آگے دو اقسام ہیں۔ پہلی قسم یہ ہے کہ “اہل حل و عقد” یعنی امت کے بااثر، دانشور اور فیصلہ ساز اصحاب کی طرف سے باہمی مشاورت سے موزوں ترین شخص کا انتخاب کیا جائے، اور دوسری قسم یہ ہے کہ موجودہ حکمران اپنے بعد کسی کو ولی عہد نامزد کر دے اور اس کے بعد اہل حل و عقد اس کو برقرار رکھیں۔ حکمرانی کے حصول کے ان مطلوبہ اور مثالی طریقوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کا طرزِ عمل گواہ ہے اور اس پر اہل علم کا مکمل اجماع ہے۔

اضطراری حالت اور ”تغلب” کا ضابطہ:
یہیں سے وہ نکتہ شروع ہوتا ہے جسے سمجھے بغیر پوری بحث ادھوری رہ جاتی ہے۔ دوسرا طریقہ ”تغلب” ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص شریعت کے طے کردہ مثالی راستے سے ہٹ کر سیاسی عسکری طاقت یا عوامی انقلاب کے ذریعے حکومت اور اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لے اور اپنی رٹ قائم کرلے۔ یہاں یہ غلط فہمی دور ہونا لازمی ہے کہ اسلام میں اس طریقے سے اقتدار حاصل کرنے کی نہ تو ترغیب دی گئی ہے اور نہ ہی یہ کوئی پسندیدہ معیار ہے، بلکہ یہ خالصتا امت کو خانہ جنگی، لاقانونیت اور بڑی تباہی سے بچانے کے لیے اضطرار اور مجبوری کی ایک شرعی رخصت ہے۔ شریعت کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر بالفرض کوئی شخص طاقت کے ذریعے اقتدار پر قابض ہو ہی جائے اور ملک میں اس کا نظم و ضبط اور مادی کنٹرول قائم ہو جائے، تو اس قائم شدہ صورتِ حال کو فتنہ و فساد اور خون ریزی کے سدِ باب کے لیے تسلیم کر لیا جائے گا۔ ایسے حاکم کو داخلی امن برقرار رکھنے کی خاطر شرعی طور پر نافذ العمل حکمران مانا جائے گا اور ملکی انتظام چلانے کے لیے اسے وہ تمام حقوقِ اطاعت حاصل ہوں گے جو شرعی طریقے سے منتخب حکمران کو حاصل ہوتے ہیں، تاکہ مسلمانوں کا شیرازہ بکھرنے سے بچ جائے اور شرعی احکام کے نفاذ میں کوئی تعطل نہ آئے۔ اور اس کی بنیاد شریعت کا وہ مسلمہ اصول ہے کہ بڑے فساد کے سدِباب کے لیے چھوٹے نقصان کو برداشت کیا جاتا ہے اور عظیم تر مصلحت کے حصول کی خاطر کم درجے کی مفسدت کو قبول کر لیا جاتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے: کیا یہ اصول کسی ایک مکتبِ فکر کی انفرادی رائے ہے، یا اس کے پیچھے پوری امت کا اتفاق کھڑا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس اضطراری شرعی اصول پر اہلِ سنت کے تمام معروف فقہی مذاہب کا اتفاق ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے فقہ حنفی کے اکابر ائمہ و محققین کی تصریحات ملاحظہ کی جائیں، پھر دیگر مکاتب فکر کے ائمہ کے اقوال بھی پیش کیے جائیں تاکہ اس مسئلے پر اہلِ سنت کے اجماعی موقف کی پوری تصویر سامنے آ سکے۔ چنانچہ علمِ کلام اور فقہ کے نامور حنفی محقق، علامہ سعد الدین تفتازانی رحمہ اللہ اپنی مایہ ناز تصنیف شرح المقاصد میں لکھتے ہیں:

”امامت و اقتدار کا انعقاد مختلف طریقوں سے ہوتا ہے، جن میں سے ایک اہم طریقہ ‘قہر و استیلا’ یعنی مادی طاقت اور غلبہ ہے۔ اگر موجودہ حاکم کا انتقال ہو جائے اور کوئی شخص (ریاست کو سنبھالنے کے لیے) شرائطِ امامت کا حامل ہو کر، بغیر کسی پیشگی عوامی بیعت یا سابقہ حاکم کی نامزدگی کے، محض اپنی فوجی و مادی قوت کے بل بوتے پر عوام کو مغلوب کر کے اقتدار پر متمکن ہو جائے، تو امنِ عامہ کی خاطر اس کی خلافت و حکومت شرعا منعقد ہو جائے گی۔ حتی کہ اگر وہ حاکم اپنے ذاتی کردار میں گنہگار (فاسق) یا جاہل بھی ہو، تب بھی راجح اور ظاہر موقف کے مطابق اس کا ریاستی نظم قائم مانا جائے گا (اگرچہ شریعت کے طے کردہ مثالی راستے کو چھوڑ کر طاقت سے اقتدار حاصل کرنے کے فعل پر وہ گنہگار ہوگا) علامہ تفتازانی اس ریاستی نظم کی اہمیت واضح کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں کہ جب تک حاکم شریعت کے احکام کی صریح مخالفت معصیت کا حکم نہ دے، اس کی اطاعت و فرمانبرداری مسلمانوں پر واجب ہے، خواہ وہ اپنے رویے میں عادل ہو یا جابر و ظالم)۔

اسی اصول کی تائید اور اس کی حکمت کو فقہِ حنفی کے انتہائی معتبر اور عظیم محقق، علامہ ابن عابدین شامی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ‘رد المحتار علی الدر المختار’ میں نہایت اچھوتے انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ رقمطراز ہیں:

جس طرح کوئی شخص باقاعدہ بیعت یا اپنے سے پہلے حاکم کی نامزدگی (ولی عہدی) کے ذریعے شرعی حاکم بنتا ہے، بالکل اسی طرح اقتدار پر طاقت اور غلبے (تغلب) کے ذریعے قابض ہونے سے بھی امامت منعقد ہو جاتی ہے۔ علامہ شامی ‘المسایرہ’ کے حوالے سے ایک نہایت گہرا نکتہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر اقتدار سنبھالنے والے شخص میں علم اور تقوی (عدالت) جیسی مطلوبہ بنیادی شرائط موجود نہ بھی ہوں، لیکن اسے اقتدار سے زبردستی ہٹانے کے نتیجے میں ملک کے اندر ایسا ہولناک فتنہ، خانہ جنگی اور انارکی پھیلنے کا اندیشہ ہو جو امت کے بس سے باہر ہو، تو ہم فتنہ عامہ کے سد باب کے لیے اس کی امارت کے انعقاد کا ہی شرعی فیصلہ دیں گے؛ کیونکہ اس قائم شدہ حاکم کو ہٹا کر ملک کو خانہ جنگی میں دھکیلنا تو ایسا ہی تباہ کن ہوگا جیسے کوئی شخص ایک محل بنانے کے چکر میں پورا شہر اجاڑ دے۔ علامہ شامی مزید لکھتے ہیں کہ اگر ایک مغلوب کرنے والے حاکم کے خلاف کوئی دوسرا شخص مادی طاقت کے بل بوتے پر غالب آ جائے اور اس کی جگہ حکومت سنبھال لے، تو پہلا شخص معزول ہو جائے گا اور یہ دوسرا متمکن شخص نیا شرعی حاکم شمار ہوگا۔ چنانچہ حاکم خواہ عادل ہو یا جائر، جب تک وہ شریعت کے خلاف حکم نہ دے، ریاستی نظم کی بقا کے لیے اس کی اطاعت واجب ہے۔

طاقت کے ذریعے برسرِاقتدار آنے والے حکمران کی امارت کے صحیح ہونے پر فقہائے احناف کے علاوہ دیگر اہل سنت و جماعت کا بھی کامل اتفاق ہے۔ امام احمد بن حنبل اپنے رسالے ‘اصول السنہ’ میں دوٹوک فرماتے ہیں کہ جس نے بھی مسلمانوں کے کسی ایسے حاکم کے خلاف خروج کیا جس پر لوگ جمع ہو چکے ہوں اور اس کی خلافت کا اقرار کر چکے ہوںخواہ یہ اقرار رضا مندی سے ہوا ہو یا غلبے و طاقت سے تو ایسے باغی نے مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی مخالفت کی۔ پس اگر وہ اسی حالت میں مر گیا تو جاہلیت کی موت مرا۔ اور کسی بھی شخص کے لیے بادشاہ سے لڑنا یا اس کے خلاف بغاوت کرنا حلال نہیں ہے، جو ایسا کرے گا وہ سنت سے ہٹا ہوا بدعتی کہلائے گا۔ امام احمد کے اس کلام سے یہ عقیدہ بالکل واضح ہوتا ہے کہ اقتدار جس طریقے سے بھی حاصل ہوا ہو، امن قائم ہونے کے بعد اس کے خلاف ہتھیار اٹھانا بدعت اور گمراہی ہے۔ (جاری ہے)