رپورٹ: علی ہلال
غزہ میں سرگرم مزاحمتی تنظیم حماس نے پیر کو حکومت فلسطینی نیشنل کمیٹی کے سپرد کرنے کا اعلان کردیا۔
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق سرکاری ہنگامی کمیٹی کے سربراہ محمد جواد الفرا نے استعفا دے دیا ہے اور کمیٹی کو باضابطہ طور پر تحلیل کر دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق یہ اقدام غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں اور حکومتی اُمور قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ (ٹیکنوکریٹ کمیٹی) کے سپرد کرنے کی تیاری کے طور پر کیا گیا ہے۔ سرکاری میڈیا آفس کے ترجمان نے وسطی غزہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات کی منتقلی کے لیے تمام انتظامی اور قانونی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ عمل فلسطینی دھڑوں، قبائلی قیادت، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور اقوام متحدہ کے ایک مبصر کی موجودگی میں شفاف انداز سے انجام دیا گیا۔
حماس کے اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر محجوب الزواری نے کہاہے کہ یہ پیش رفت اسرائیل کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کررہی ہے۔ تجزیہ کار کے مطابق اگر واقعی انتظامی اختیارات منتقل ہوتے ہیں تو اسرائیل کے ان موقفوں کو چیلنج کیا جاسکتا ہے جن کی بنیاد پر وہ غزہ میں امداد، حکمرانی اور سرحدی گزرگاہوں سے متعلق اعتراضات اٹھاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے بین الاقوامی برادری پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ غزہ میں امداد کی فراہمی، سکیورٹی اور انتظامی ڈھانچے کے قیام کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔ ان کے مطابق اگر انتظامی اختیارات دیگر فلسطینی قوتوں کو منتقل ہوتے ہیں تو اس کے غزہ کی داخلی سیاسی صورتحال پر بھی اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے مزاحمتی تنظیم کے اس اعلان کو حقیقی تبدیلی تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام دراصل تنظیم کو غیرمسلح کرنے کے مطالبے سے بچنے اور ثالثوں کو پیش رفت کا تاثر دینے کی کوشش ہے۔ اسرائیلی وزیرخارجہ جدعون ساعر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ حماس ٹیکنوکریٹ حکومت کے ذریعے خود کو پس منظر میں دکھا کر اپنے ہتھیار برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے پر عمل درآمد کا خواہاں ہے جس میں غزہ اور حماس کو مکمل طور پر غیرمسلح کرنا بنیادی شرط ہے۔صہیو نی وزیر نے دعویٰ کیا کہ حماس غزہ میں حزب اللہ جیسا ماڈل اپنانا چاہتی ہے جہاں سول حکومت عوامی خدمات انجام دے جبکہ عسکری طاقت حماس کے پاس ہی رہے۔ اسرائیلی جریدے یدیعوت احرونوت نے اعلیٰ اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ حماس کا اعلان محض ایک علامتی اقدام ہے اور تنظیم اب بھی غزہ کے انتظامی معاملات پسِ پردہ چلا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق تمام سرکاری اہلکار اپنی سابقہ ذمہ داریوں پر موجود ہیں اور عملی طور پر انتظامی ڈھانچے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ اسی طرح اسرائیلی چینل 15 نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے کہا کہ اس اعلان سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوئے اور ٹیکنوکریٹ کمیٹی اب بھی غزہ میں داخل نہیں ہو سکتی۔ رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ حماس نے حالیہ ہفتوں کے دوران مذاکرات میں نئی شرائط پیش کیں اور غزہ میں موجود اسلحے کو مکمل طور پر ٹیکنوکریٹ حکومت کے حوالے کرنے سے انکار کیا۔
یہ بھی پڑھیں:
ادھر مشرق وسطیٰ کے حوالے سے خبریں شائع کرنے والی اسرائیلی ویب سائٹ ’والا‘ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ حماس کا یہ اقدام زیادہ تر بیرونی دنیا، بالخصوص امریکا اور ثالثوں کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ ان ذرائع کے مطابق اسرائیلی اداروں کا اندازہ ہے کہ حماس نہ تو اپنے ہتھیار چھوڑنے کا ارادہ رکھتی ہے اور نہ ہی سرنگوں کے عسکری ڈھانچے سے دستبردار ہونے کی خواہاں ہے۔خیال رہے کہ یہ اعلان اس لحاظ سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ غزہ کی انتظامی ساخت سے متعلق اس نوعیت کا یہ پہلا باضابطہ اور واضح اعلان ہے۔
واضح رہے کہ جمعہ کو سات اکتوبر 2023ءکو شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے ایک ہزار دن پورے ہوگئے ہیں جس کے تین دن بعد ہی حماس نے غزہ میں حکومت کی حوالگی کا اعلان کیا۔ غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد حماس نے متعدد بار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ جنگ سے تباہ حال اور محصور غزہ کے انتظامی امور سے دستبردار ہونے اور انہیں قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ کے سپرد کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کمیٹی میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے آزاد اور باصلاحیت افراد شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے مصری، قطری اور ترک ثالثوں کی نگرانی میں قاہرہ میں کئی دور کے مذاکرات کیے، جن کا مقصد غزہ سے متعلق معاہدے پر حماس اور اسرائیل کے موقف میں موجود اختلافات کم کرنا تھا۔ قاہرہ مذاکرات میں شریک فلسطینی عہدیداروں نے بتایا کہ حماس نے گزشتہ ہفتے شریک جماعتوں کو آگاہ کیا کہ اس نے ’حسنِ نیت کے اظہار‘ کے طور پر ثالثوں کو سرکاری کمیٹی تحلیل کرنے کے فیصلے سے مطلع کردیا ہے۔ ان کے مطابق مختلف فلسطینی دھڑوں نے حماس کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک سنجیدہ قدم قرار دیا، جس کے تحت علی شعث کی سربراہی میں قائم قومی کمیٹی غزہ پہنچتے ہی سرکاری ذمہ داریاں سنبھال لے گی۔
مزید پڑھیں:یمن ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر، کیا حوثیوں کا اقتدار خطرے میں ہے؟
واضح رہے کہ مارچ 2025ء میں اسرائیلی کارروائی میں سرکاری کمیٹی کے سربراہ عصام الدعالیس کے مارے جانے کے بعد وزارتِ بلدیات و مقامی حکومت کے ذمہ دار محمدالفرا کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ ادھر غزہ سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار مخیمر ابوسعدة نے حماس کے اس اقدام کو ’علامتی پیش رفت‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ سرکاری کمیٹی کی تحلیل نہیں بلکہ حماس کے اسلحے کا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق حماس نے ابھی تک اپنے ہتھیار چھوڑنے یا غیرمسلح ہونے پر آمادگی ظاہر نہیں کی اور یہی نکتہ اب بھی فریقین کے درمیان بنیادی اختلاف کی وجہ بنا ہوا ہے۔

