امریکی یومِ آزادی پر اسرائیلی پرچم نذرِ آتش

رپورٹ: علی ہلال
امریکا کے 250ویں یومِ آزادی کے موقع پر اسرائیل سے آزادی کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ معاملہ صرف اسرائیل سے آزادی کے مطالبے تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی باشندوں نے اسرائیلی پرچم نذر آتش کرکے اپنے شدید غم وغصے کا اظہار بھی کیا۔
رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا اور مختلف احتجاجی سرگرمیوں میں بعض امریکی کارکنوں اور سیاسی شخصیات نے اسرائیل کے ساتھ امریکی تعلقات اور اسرائیل نواز لابنگ کے اثر و رسوخ کے خلاف احتجاج کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز میں مظاہرین کو اسرائیلی پرچم نذرِ آتش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ مظاہرین کا موقف تھا کہ اسرائیل امریکی خارجہ اور داخلی پالیسی پر غیرمعمولی اثر و رسوخ رکھتا ہے جس کی وجہ سے امریکا کو اپنی پالیسیوں میں زیادہ خودمختاری اختیار کرنی چاہیے۔ ’امریکا فرسٹ‘ کے نعرے کے تحت چلنے والی اس مہم میں بعض کارکنوں نے مطالبہ کیا کہ امریکا کو اپنی قومی ترجیحات کو مقدم رکھتے ہوئے اسرائیلی اثر و رسوخ سے آزاد خارجہ پالیسی اپنانی چاہیے۔ امریکی کانگریس کے امیدوار ایرک کیل نے ایک ویڈیو پیغام میں اسرائیلی پرچم کو آگ لگاتے ہوئے کہا کہ ”250 سال قبل امریکا نے برطانوی بادشاہت سے آزادی حاصل کی تھی اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیلی اثر و رسوخ سے بھی آزادی حاصل کی جائے۔“
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا امریکی پالیسی سازی پر بڑھتا ہوا اثر تشویش کا باعث ہے۔ اسی طرح سماجی کارکن اسٹیفن لارنس نے بھی ایک ویڈیو میں اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اس نے امریکا کو مختلف جنگوں میں الجھایا جس کے نتیجے میں ملک کو بھاری مالی اور انسانی نقصان اٹھانا پڑا۔ ویڈیو کے اختتام پر انہوں نے اسرائیلی پرچم جلایا اور احتجاجاً اپنی سگریٹ اسی آگ سے سلگائی۔ اس مہم سے سابق امریکی میرین اور نارتھ کیرولائنا سے گرین پارٹی کے سینیٹ امیدوار برائن میک گینس بھی منسلک رہے جنہوں نے پہلے ایک ویڈیو میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اسرائیلی پرچم جلایا اور اس پر احتجاجاً پاو¿ں بھی رکھے۔احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے 1967ء میں پیش آنے والے یو ایس ایس لیبرٹی کے واقعے کا بھی حوالہ دیا، جس میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 34 امریکی بحری اہلکار ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے میں زندہ بچ جانے والے سابق امریکی فوجی فل ٹرنی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ اپنے ہلاک ہونے والے ساتھیوں کی یاد میں اسرائیلی پرچم جلا رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی قانون سازوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا کے مفادات کو ترجیح دیں۔
دوسری جانب فلسطینی حقوق کے حامی امریکی کارکن وین والڈروپ نے بھی احتجاج میں حصہ لیتے ہوئے اسرائیلی پرچم کو آگ لگا کر اپنی مخالفت کا اظہار کیا۔ یہ احتجاجی مہم سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر زیرِ بحث رہی۔ شرکا کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد امریکی حکومت سے اسرائیل کے لیے فوجی اور مالی امداد پر نظرثانی اور امریکی خارجہ پالیسی میں قومی مفادات کو ترجیح دینے کا مطالبہ کرنا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ موقف احتجاج میں شریک کارکنوں اور سیاسی شخصیات کا ہے جبکہ امریکی معاشرے اور سیاسی حلقوں میں اسرائیل اور امریکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
امریکا، اسرائیل اور یہود کے تعلقات میں دراڑیں پڑنے پر اسرائیلی میڈیا اور تجزیہ کاروں نے بھی تبصرے کئے ہیں۔ اسرائیلی اخبار دی جیروشلم پوسٹ نے دو اہم مضامین شائع کیے ہیں۔ ایک میں امریکا اسرائیل اور یہودیوں کے درمیان تاریخی تعلقات کا جائزہ لیا گیا ہے جبکہ دوسرے میں نیویارک میں یہودیوں کی سیاسی قوت میں مبینہ کمی اور اس کے اسباب پر بحث کی گئی ہے۔ پہلا مضمون اسرائیلی ماہر قانون اور انسٹیٹیوٹ فار جیوش پیپل پالیسی کے سربراہ یدیدیا اسٹرن نے امریکا کی آزادی کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر تحریر کیا۔ اس میں امریکا اسرائیل اور دنیا بھر کے یہودیوں کے درمیان دو صدیوں پر محیط تعلقات، ان میں ابھرنے والی حالیہ دراڑوں اور مستقبل کے چیلنجز کا جائزہ لیا گیا ہے۔ دوسرا مضمون آدم اسکاٹ بیلوس نے لکھا ہے جو اسرائیل انوویشن فنڈ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ہیں۔ ان کے مطابق نیویارک میں یہودیوں کا سیاسی اثر و رسوخ کمزور پڑ رہا ہے جس کی ایک مثال زہران ممدانی کا شہر کا میئر منتخب ہونا قرار دیا گیا ہے۔ مضمون میں اس تبدیلی کے اسباب اور ممکنہ حل پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔
اپنے مضمون میں یدیدیا اسٹرن لکھتے ہیں کہ امریکا، اسرائیل اور یہودیوں کے درمیان تعلقات دو صدیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہیں جن کی بنیاد مشترکہ اقدار، باہمی مفادات اور تاریخی روابط پر قائم رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے خود کو ہمیشہ دنیا میں جمہوریت اور اخلاقی اقدار کا علمبردار تصور کیا اور یہ تصور صرف نظریاتی نہیں رہا بلکہ سیاسی، معاشی، عسکری اور ثقافتی طاقت کی صورت میں بھی سامنے آیا، جس نے امریکا کو عالمی نظام میں ایک مرکزی حیثیت عطا کی۔ اسٹرن کے بقول امریکا یہودیوں کے لیے ایک تاریخی پناہ گاہ ثابت ہوا جہاں انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران یورپ سے لاکھوں یہودی ہجرت کر کے آئے، جن میں سے بیشتر معاشی مشکلات کا شکار تھے۔ خیال رہے کہ اسٹرن کے مطابق مسلسل ہجرت کے نتیجے میں بیسویں صدی کے آغاز تک نیویارک دنیا کی سب سے بڑی یہودی آبادی کا مرکز بن گیا جس نے بالخصوص یورپ میں ہولوکاسٹ کے بعد جدید یہودی تاریخ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ امریکا نے اسرائیل کے قیام کے صرف 11 منٹ بعد اسے تسلیم کرلیا تھا۔ اُس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین کے اس فیصلے نے دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط اسٹریٹجک تعلق کی بنیاد رکھی جسے بعدازاں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کی مسلسل حمایت حاصل رہی۔ اسٹرن کے مطابق یہ تعلق دو بنیادی ستونوں پر اُستوار رہا۔ پہلا، مشترکہ اقدار جس کا اظہار سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن نے اسرائیل کو ”ایمان اور جرات کی علامت“ قرار دے کر کیا۔ دوسرا، اسٹریٹجک شراکت داری جسے سابق صدر بل کلنٹن نے امریکی خارجہ پالیسی کی نمایاں کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔