رپورٹ: علی ہلال
یورپ میں حالیہ برسوں کے دوران بار بار آنے والی جان لیوا گرمی کی لہروں کو بعض حلقے خفیہ قوتوں کی کارستانی قرار دے رہے ہیں۔ 3 ہزار اموات نے شکوک وشبہات کو جنم دے دیا ہے۔ اگر چہ یورپی ممالک کے ادارے ان مزاعم کی تردید کررہے ہیں اور ایسے کسی شبہے کو سازشی نظریات سے تعبیر کررہے ہیں۔ تاہم یورپ میں ایسے لوگوں اور گروپوں کی کمی نہیں ہے جن کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر انوائرمنٹ کی تبدیلی اور کلائمنٹ چینجنگ کے دعوے محض ایک دھوکہ ہے جس کے پیچھے طاقتور حکومتیں ،خفیہ قوتیں اور عالمی اشرافیہ کھڑی ہے۔ وہ گرمی کی شدت کو قدرتی عمل کے بجائے انسانی ساختہ منصوبہ قرار دے رہے ہیں۔ ایسے حلقوں کا دعویٰ ہے کہ درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافہ کسی قدرتی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ خفیہ عالمی قوتوں، نامعلوم ہتھیاروں یا موسمیاتی کنٹرول کی خفیہ ٹیکنالوجی کا شاخسانہ ہے۔
خیال رہے کہ رواں برس یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجے میں اب تک تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں اکثریت معمر افراد کی ہے۔ تاہم ماہرین اس صورتحال کو موسمیاتی تبدیلیوں سے جوڑتے ہیں جبکہ بعض دوسرے حلقے اس کی مختلف غیرسائنسی توجیہات پیش کر رہے ہیں۔یورپ میں اس وقت سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ کیا موسمیاتی تبدیلی ایک دھوکا ہے؟ اس نظریے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا بیانیہ محض ایک سیاسی اور معاشی منصوبہ ہے، ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بعض حکومتیں، ادارے اور سائنس دان مالی فوائد اور مخصوص پالیسیوں کو فروغ دینے کے لیے موسمیاتی بحران کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔
یورپ میں شدید گرمی نے جن سوالات کو جنم دیا ہے ان میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ خفیہ عالمی حکومت اور موسم پر کنٹرول کا دعویٰ کس حد تک درست ہے۔ایک نظریہ یہ ہے کہ دنیا پر اثر و رسوخ رکھنے والی ایک خفیہ عالمی اشرافیہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف علاقوں میں درجہ¿ حرارت بڑھاتی ہے تاکہ سیاسی، معاشی یا عسکری مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔ اس نظریے کے مطابق مخصوص علاقوں میں مصنوعی طور پر گرمی پیدا کر کے عالمی رائے عامہ، حکومتی پالیسیاں اور بعض جغرافیائی خطوں کو متاثر کیا جاتا ہے۔ اگرچہ مغرب کا سرکاری میڈیا ان سوالات کا کوئی تسلی بخش جواب دینے کے بجائے اسے سازشی نظریات سے جوڑ رہا ہے تاہم دوسری جانب یہ سوال بھی اب تک اپنی جگہ پر قائم ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود گرمی کی اس اچانک لہر کے بارے کوئی ایسی وجہ بتانے سے کیوں گریز کیا جارہا ہے جس سے سب مطمئن ہوں۔ بالخصوص یورپ کے ایسے ممالک جہاں زرخیزی کے ساتھ ماحولیاتی اقدار کا بہت خیال رکھا جارہا ہے۔ اس حوالے سے ایک نظریہ ’کیم ٹریل‘ (Chemtrails) کا ہے۔ اس کے مطابق فضا میں پرواز کرنے والے طیاروں کے پیچھے نظر آنے والی سفید لکیریں محض آبی بخارات نہیں بلکہ ایسے کیمیائی مادے ہیں جنہیں جان بوجھ کر فضا میں چھوڑا جاتا ہے۔ اس نظریے کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ان مادّوں کے ذریعے موسم کو تبدیل کیا جاتا ہے، گرمی اور خشک سالی پیدا کی جاتی ہے، آبادی کو نقصان پہنچایا جاتا ہے یا عسکری مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں۔ وہ بعض یورپی ممالک میں موسمیاتی اداروں پر بھی حقائق چھپانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ عالمی سطح پر شدید گرمی، زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات کے ساتھ جس نظریے کا سب سے زیادہ ذکر کیا جاتا ہے وہ امریکی منصوبہ ہارپ (HAARP) ہے۔ امریکی حکومتی اداروں کے مطابق ہارپ الاسکا میں قائم ایک تحقیقی منصوبہ ہے جس کا مقصد بالائی فضائی تہہ (آئیونوسفیئر) کا مطالعہ اور ریڈار و مواصلاتی نظام سے متعلق سائنسی تحقیق ہے۔ تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک خفیہ امریکی ہتھیار ہے جو ریڈیو لہروں کے ذریعے موسم، گرمی کی لہروں، زلزلوں اور حتیٰ کہ انسانی ذہن پر بھی اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یورپ میں حالیہ گرمی کی لہر بھی اسی نوعیت کے تجربات کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ یہ تمام نظریات سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر گردش کرتے ہیں لیکن ان کی تائید میں کوئی مستند سائنسی ثبوت موجود نہیں۔
موسمیاتی سائنس دانوں کے مطابق یورپ سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں بڑھتی ہوئی گرمی کی شدت کا بنیادی سبب عالمی موسمیاتی تبدیلیاں اور گرین ہاوس گیسوں کے اخراج میں مسلسل اضافہ ہے۔ دوسری جانب یورپی ممالک کے اداروں کا ماننا ہے کہ گرمی کی شدید لہریں ماضی میں بھی آتی رہی ہیں اور ان کا موجودہ حالات سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق برطانیہ میں 1921ءا ور 1976ء کی شدید گرمی اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ صورتحال غیرمعمولی نہیں۔

