رپورٹ: علی ہلال
2003ءمیں عراق پر امریکی حملے کے بعد پہلی بار ملک کو ایسے سنگین مالی دباو کا سامنا ہے۔ عراق دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جو تیل کے وسیع ترین ذخائر رکھتے ہیں۔ روزانہ 43 لاکھ بیرل خام تیل کی برآمدات سے بغداد کو اربوں ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے مگر اس کے باوجود ملک کا ایک بڑا طبقہ غربت، بے روزگاری، ناقص بنیادی سہولتوں، بجلی کے بحران، پینے کے صاف پانی کی قلت اور کمزور صحت و تعلیم کے نظام سے دوچار ہے۔ دو دہائیوں سے عراقی عوام کا بنیادی سوال یہی رہا ہے کہ اگر ملک اتنا مالدار ہے تو عام شہری کیوں محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں؟
عراق میں رواں برس مئی میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں بننے والے نومنتخب وزیراعظم علی الزیدی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بدعنوانی کے خلاف ایک غیرمعمولی مہم شروع کی ہے، جسے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی انسدادِ کرپشن کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ بغداد کے انتہائی محفوظ گرین زون میں انسدادِ دہشت گردی فورس نے عدالتی وارنٹس کی بنیاد پر متعدد چھاپے مارے جن میں سیاست دان، ارکانِ پارلیمنٹ اور اعلیٰ سرکاری افسران گرفتار کیے گئے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق 47 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں موجودہ ارکانِ پارلیمنٹ، سابق ارکان اور وزارتِ تیل کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جارہا ہے۔ واشنگٹن نے چند ماہ قبل عراق کو نقد امریکی ڈالر کی فراہمی محدود کرتے ہوئے اسے کرنسی کی اسمگلنگ، مالی بدعنوانی، مسلح دھڑوں کو غیرمسلح کرنے اور ایرانی اثر و رسوخ سے نکلنے کے لیے موثر اقدامات سے مشروط کر دیا۔
ان تمام عوامل کے باعث وزیرِاعظم علی الزیدی کی حکومت خود کو مالی، سیاسی اور بین الاقوامی سطح پر شدید دباو میں محسوس کررہی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب سرکاری خزانہ خالی ہے اور رواں سال کے لیے قومی بجٹ بھی منظور نہیں ہوسکا۔ انہی حالات کے پیشِ نظر حکومت نے سیاسی جماعتوں پر دباو بڑھایا تاکہ اس وسیع کرپشن نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی جاسکے جس کا انکشاف تحقیقات کے دوران ہوا۔ اس نیٹ ورک کا مرکزی کردار وزارتِ تیل میں تصفیہ امور کے نائب وزیر عدنان الجمیلی کو قرار دیا جارہا ہے۔ سیاسی امور کے محقق ریاض العلی نے عرب میڈیا کو بتایا کہ الجمیلی کی گرفتاری ملک کو درپیش شدید داخلی و خارجی دباو، بالخصوص ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے بعد بڑھنے والے امریکی اقتصادی دباو کے بغیر ممکن نہ تھی۔ ان کے مطابق الجمیلی سے ہونے والی تفتیش جس کی تمام تفصیلات اب تک منظرِ عام پر نہیں آئیں، نے حالیہ انسدادِ بدعنوانی مہم کی بنیاد رکھی، جس کے نتیجے میں اب تک 47 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ریاض العلی کے مطابق الجمیلی کی گرفتاری سے شروع ہونے والی کارروائی تفتیش کے دوران بتدریج وسیع ہوتی گئی اور اس نے ایسے بڑے مالیاتی نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا جو سابق اور موجودہ ارکانِ پارلیمان کی انتخابی مہمات کی مالی معاونت میں ملوث تھے۔ تحقیقات کے دوران حکام نے کھیتوں اور رہائشی مکانات میں چھپائی گئی اربوں مالیت کی رقوم، سونے کی اینٹیں اور بغداد سمیت مختلف شہروں کے پوش علاقوں میں واقع درجنوں جائیدادیں بھی برآمد کیں۔ اس سوال پر کہ آیا یہ مہم مزید وسعت اختیار کرے گی، ریاض العلی نے کہا کہ فی الحال اس بارے میں حتمی رائے دینا ممکن نہیں۔ اگرچہ الزیدی حکومت کی یہ کارروائی گزشتہ دو دہائیوں کی سب سے بڑی انسدادِ بدعنوانی مہم قرار دی جا رہی ہے، تاہم عراقی عوام کو خدشہ ہے کہ یہ بھی سابق حکومتوں کی ابتدائی کارروائیوں کی طرح محدود ثابت نہ ہو۔ اس کی مثال ”صدی کی ڈیل“ کے نام سے معروف وہ اسکینڈل ہے جس میں ٹیکس امانتوں سے 2.8 ارب ڈالر کی خردبرد سامنے آئی تھی، لیکن بعدازاں مرکزی ملزم نور زہیر کو رہا کردیا گیا۔
دوسری جانب وزیرِاعظم علی الزیدی رواں ماہ جولائی کے وسط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔ اس موقع پر امریکا عراق سے مسلح گروہوں کو غیرمسلح کرنے، ڈالر کی اسمگلنگ روکنے، ایران کی مالی معاونت کا خاتمہ کرنے اور عراقی معیشت کو ایرانی معیشت سے الگ کرنے جیسے مطالبات پر پیش رفت کا جائزہ لے گا۔ مبصرین کے مطابق اتوار کی صبح بدعنوانی کے خلاف شروع کی گئی حکومتی کارروائی واشنگٹن کے لیے ایک عملی اشارہ ہے جس کا امریکی انتظامیہ اپنی تشخیص کے بعد جائزہ لے گی۔
ریاض العلی کے مطابق واشنگٹن کے عراق کے حوالے سے آئندہ لائحہ عمل کے تین ممکنہ منظرنامے ہو سکتے ہیں؛اول، امریکا حالیہ عدالتی و سکیورٹی کارروائی کو سراہتے ہوئے حکومت سے بدعنوانی اور اپنی نظر میں دہشت گردی یا ملیشیاوں کی مالی معاونت میں ملوث مزید بااثر شخصیات کی گرفتاری کا مطالبہ کرے۔ دوسرا سناریو یہ ہے کہ امریکی حکومت بغداد کو مزید مہلت دے تاکہ وہ حکومت کی جانب سے ستمبر کے اختتام تک مسلح دھڑوں کو غیرمسلح کرنے کے اعلان پر عمل درآمد مکمل کرسکے، اگرچہ متعدد گروہ جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکة النجبا شامل ہیں، ہتھیار ڈالنے سے انکار کرچکے ہیں۔ تیسرا اور نسبتاً سخت منظرنامہ یہ ہوسکتا ہے کہ واشنگٹن عراقی اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے بغداد پر اقتصادی دباو برقرار رکھے، یہاں تک کہ حکومت اپنے تمام وعدے عملی طور پر پورے کردے۔ ادھر عراق میں حالیہ پیش رفت پر عوام کی گہری نظر ہے جبکہ مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق گرفتار افراد میں سے کئی نے دورانِ تفتیش اہم اعترافات کیے ہیں، جن کی بنیاد پر آئندہ دنوں میں مزید بااثر شخصیات کے خلاف کارروائی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

