رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
ہسپانوی قومی ٹیم کے 18 سالہ اسٹار ’لامین یامال‘ نے 22 جون کو ورلڈ کپ میں سعودی عرب کے خلاف اپنا پہلا گول داغا، جس کے بعد انہوں نے میدان میں سجدہ کیا جو اُن کی مذہبی شناخت کا فطری اظہار تھا۔ لیکن یہ سجدہ چند ہی منٹوں میں سوشل میڈیا پر ایک بڑے طوفان کی وجہ بن گیا۔ ہسپانوی اور یورپی دائیں بازو کے سیکڑوں صفحات اور اکاونٹس نے اس لمحے کو ’اسلامی رنگ چڑھانے‘ اور ’آبادیاتی تبدیلی‘ کی علامت قرار دے دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ تنازع فٹبال کے میدان سے نکل کر مذہب، نسل، شناخت اور تعلق کی ایک بڑی جنگ میں بدل گیا۔
الجزیرہ کے تجزیاتی یونٹ نے اس پوری مہم کا گہرا جائزہ لیا اور معلوم ہوا کہ یامال پر یہ حملہ مقابلے سے کئی گھنٹے پہلے ہی شروع ہوچکا تھا۔ برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے میچ سے پہلے ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا کہ ’لامین یامال اب وہ نہیں رہا جو یورو کپ میں نظر آیا تھا‘۔ اس مضمون میں یامال کا فلسطینی پرچم اٹھانا اور مصر کے خلاف دوستانہ مقابلے میں مذہبی امتیاز پر کھلا احتجاج کرنا ”متنازع“ رویہ قرار دیا گیا۔ ناقدین نے فوری طور پر اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ محمد علی جیسے کھلاڑیوں کو ہمیشہ ہیرو کہنے والے صحافی آج ایک نوجوان کو اس وقت سزا دے رہے ہیں جب وہ اپنی آواز کسی معنی خیز مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ مضمون بعد میں ایکس پر دو لاکھ سے زائد بار شیئر ہوا اور ایک کروڑ دس لاکھ سے زیادہ بار دیکھا گیا پھر جب سجدے کی تصویر سامنے آئی تو یہ مضمون ایک نئی اشتعال انگیزی کی بنیاد بن گیا۔

سجدے کے فوری بعد ہسپانوی دائیں بازو کے اکاونٹس سب سے پہلے میدان میں اُترے۔ انتہاپسند نوجوان تنظیم ’انقلاب‘ نے لکھا کہ ’جو شخص ایک گول کے لیے اسلام کو برداشت کرے، مستقبل میں اس کے پاس نہ کوئی ٹیم ہوگی نہ کوئی قوم‘۔ ’کاناریو ٹوڈے‘ نامی اکاونٹ نے ’اسپانیا مسیحی ہے، مسلمان نہیں‘ لکھا جو چند گھنٹوں میں لاکھوں بار دیکھا گیا اور اس پوری مہم کا مرکزی نعرہ بن گیا۔ دنیا بھر کے مسیحی صفحات نے بھی اس بحث میں حصہ لیا اور یامال سے اسلام چھوڑنے کی ’دعا‘ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایک مشہور صفحے نے لکھا کہ وہ جس اسپانیا کے لیے کھیل رہے ہیں وہ مسیحی ملک ہے، اس لیے انہیں اسی کے مطابق ہونا چاہیے۔ تنقید محض احتجاج تک محدود نہیں رہی بلکہ فوری طور پر یامال کی ہسپانوی شناخت کو ہی چیلنج کیا جانے لگا۔ ان کی مراکشی اور گنی جڑوں کو بار بار اٹھایا گیا۔ گویا یہ جڑیں ان کی ہسپانوی شہریت اور قومی ٹیم میں جگہ کو مشکوک بناتی ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ اس نے یامال کو مراکش کی ٹرافی چومتے دیکھا، ان کے جوتوں پر گنی اور مراکش کے پرچم ہیں، وہ جشن میں فلسطینی پرچم اٹھاتے ہیں اور پھر بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سچا ہسپانوی ہے، صرف اس لیے کہ لوگ کسی بھی چیز سے زیادہ فٹبال سے محبت کرتے ہیں۔ بعض اکاونٹس نے صاف الفاظ میں یامال کو ٹیم سے نکالنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انہیں ایسے کھلاڑیوں کی مدد سے جیت نہیں چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:
دوسری لہر میں انتہائی دائیں بازو نے اپنا پرانا پسندیدہ بیانیہ نکال لیا۔ ’لا ڈیریچا دیاریو‘ نامی ویب سائٹ نے یامال کو ’مسلمان‘ اور ’مراکشیوں کا بیٹا‘ لکھتے ہوئے ان کے سجدے کو آبادیاتی تبدیلی کی علامت قرار دیا۔ یہ وہی بیانیہ ہے جسے یورپ کی انتہائی دائیں بازو قوتیں فرانسیسی قومی ٹیم کے بارے میں بھی استعمال کرتی ہیں جہاں افریقی نژاد کھلاڑیوں کی بڑی تعداد کو سماجی تبدیلیوں کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کچھ اکاونٹس نے اسپین کی قرون وسطیٰ کی تاریخ تک کو زندہ کردیا اور کہا کہ اسپین نے کبھی اسلام کو نکال باہر کیا تھا اور وہ دوبارہ اسے قبول نہیں کرے گا۔الجزیرہ کے تجزیاتی یونٹ نے اس پوری مہم کے تقریباً چھ ہزار پوسٹس کا جائزہ لیا۔ اس تجزیے میں 2249 اکاونٹس اور 2102 سرگرمیاں سامنے آئیں جو ایک مربوط اور منظم نیٹ ورک کی صورت میں کام کر رہے تھے۔ یہ محض منتشر غصے کا اظہار نہیں تھا بلکہ ایک مخصوص بیانیے پر مرکوز مہم تھی جو ایک ہی مقصد کے لیے چل رہی تھی کہ لامین کی ہسپانوی شناخت کو رد کرنا اور ان کے سجدے کو اسلام، ہجرت اور مہاجرین کے خلاف پروپیگنڈے کا ہتھیار بنانا۔ اس نیٹ ورک میں mrcatolico، ortizliberal، irene freedom اور dvaciamadrid جیسے اکاونٹس مرکزی کردار ادا کررہے تھے جو الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی بیانیے کی مختلف صورتیں پیش کر رہے تھے۔

اب اس نوجوان کھلاڑی کا تعارف ضروری ہے جسے یہ مہم نشانہ بنا رہی ہے۔ لامین یامال ’ناصراوئی ابانا‘ 13 جولائی 2007ء کو اسپین کے صوبہ ’کاتالونیا‘ کے شہر ’ایسپلوگیس دے لوبریگات‘ میں پیدا ہوئے۔ والد منیر ناصراوئی مراکش کے شہر لراش سے تعلق رکھتے ہیں، جن کی والدہ فاطمہ اپنے بچوں کو لے کر اسپین آگئی تھیں۔ والدہ ’شیلا ابانا استوائی‘ گنی کے شہر ’باتا‘ سے ہیں۔ جب یامال صرف تین سال کے تھے والدین الگ ہو گئے لیکن لامین نے دونوں کے ساتھ وقت گزارا۔ والد کے ساتھ ماتارو کے محنت کش اور کثیر الثقافتی محلے روکافونڈا میں رہے اور والدہ کے ساتھ گرانوئیرز میں، جہاں انہوں نے چار سال کی عمر سے مقامی کلب لا توریتا میں فٹبال کھیلنا شروع کی۔ جب وہ چھ سال کے تھے تو بارسلونا کے اسکاوٹس کی نظر ان پر پڑی اور انہیں دنیا کی مشہور ترین اکیڈمی ’لا ماسیا‘ میں مدعو کیا گیا۔
فٹبال کی دنیا میں ان کا سفر ریکارڈ توڑ کارناموں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ بارسلونا کی تاریخ کے سب سے کم عمر کھلاڑی ہیں جنہوں نے جدید ہسپانوی لیگ میچ میں پہلی بار کھیلا، گول کیا، ال کلاسیکو میں حصہ لیا اور باضابطہ کلب میچوں کی سنچری مکمل کی۔ اپریل 2026ء میں وہ اسپانوی فٹبال کی تاریخ کے سب سے کم عمر کھلاڑی بنے جنہوں نے ملکی لیگ کے سو میچ مکمل کیے۔ یورو 2024ء میں انہوں نے اسپین کو ٹورنامنٹ جتانے میں مرکزی کردار ادا کیا، بہترین نوجوان کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا، فرانس کے خلاف ان کا گول ٹورنامنٹ کا بہترین گول قرار پایا اور یورپی چیمپئن شپ کی تاریخ کے سب سے کم عمر گول اسکورر بنے۔ یہ اعزاز انہوں نے محض 16 سال اور 362 دن کی عمر میں حاصل کیا۔ یوئیفا نے انہیں دنیا کے بہترین نوجوان کھلاڑی کے انعام سے نوازا۔ 2025-26 سیزن میں وہ ہسپانوی لیگ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے، سولہ گول اور لیگ میں سب سے زیادہ گیارہ اسسٹ کے ساتھ بارسلونا کا لیگ ٹائٹل برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور یہ سب انہوں نے زخمی ہونے کے باوجود کیا۔ بارسلونا کے ساتھ 151 میچوں میں 49 گول اور 45 اسسٹ ان کے کھاتے میں ہیں۔
ان کی مہارت اور انداز کو دیکھیں تو وہ دائیں جانب کھیلنے والے ایک فطری بائیں پاوں کے کھلاڑی ہیں جن کا توازن، گیند لے کر دوڑنا، گول کی طرف کراس کرنا اور فیصلہ کن لمحات پیدا کرنے کی صلاحیت انہیں دنیا کے سب سے خطرناک نوجوان کھلاڑیوں میں سے ایک بناتی ہے۔ ان کا موازنہ بارسلونا کے ماضی کے عظیم ترین کھلاڑیوں سے کیا جاتا ہے اور ابھی سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ 2030ء اور 2034ء کے ورلڈ کپ میں عالمی فٹبال کا حصہ ہوں گے۔ لامین یامال کی دینی شناخت اور اسلامی سوچ بھی اتنی ہی نمایاں ہے جتنی ان کی فٹبال کی صلاحیت۔ وہ ایک باعمل مسلمان ہیں جو اپنے ایمان کو چھپاتے نہیں بلکہ فخر سے ظاہر کرتے ہیں۔ میدان میں گول کرنے کے بعد وہ دعا کی حالت میں دونوں ہاتھ اٹھاتے ہیں اور سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں۔ میچ سے پہلے بھی وہ دعا کرتے ہیں۔ ان کی دادی فاطمہ جنہوں نے ان کی پرورش کی ہے، انہیں دعا کی تلقین کرتی رہتی ہیں۔ 2024ء میں یامال پہلے مسلمان فٹبالر بنے جنہوں نے اسپانوی قومی ٹیم کے ساتھ تربیتی سیشنز کے دوران رمضان کے روزے رکھے۔ یہ عمل آسان نہیں تھا لیکن انہوں نے ثابت کیا کہ ایمان اور کھیل ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ وہ مساجد سے اپنا روحانی تعلق بیان کرتے ہیں اور انہیں سکون اور گہری ذہنی راحت کی جگہ کہتے ہیں۔

اپریل 2026ء میں انہوں نے انسٹاگرام پر کھل کر اعلان کیا کہ وہ مسلمان ہیں اور اس پر رب کا شکر ادا کرتے ہیں۔ یہ بیان اس وقت آیا جب مصر کے خلاف ایک دوستانہ مقابلے کے دوران تماشائیوں کی طرف سے مذہبی امتیاز کے نعرے لگائے گئے۔ انہوں نے ایسی سوچ کو جاہلانہ، نسل پرستانہ اور ناقابل قبول قرار دیا۔ اس بیان نے لاکھوں نوجوان مسلمانوں کے دلوں کو چھو لیا کیونکہ دنیا کا ایک بڑا فٹبال ستارہ دباو کے باوجود اپنی شناخت سے پیچھے نہیں ہٹا۔ پچھلے ماہ بارسلونا کی لیگ جیت کے جشن کے موقع پر انہوں نے بس کی چھت سے فلسطینی پرچم بلند کیا اور یہ منظر دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گیا۔ ان کی انسٹاگرام پوسٹ پر 60 لاکھ سے زیادہ پسندیدگی کے نشانات آئے۔ اس تصویر کا سب سے طاقتور جواب دو دن بعد غزہ سے آیا جب فلسطینی فنکاروں نے ایک تباہ شدہ پناہ گزین کیمپ کی عمارت کی دیوار پر یامال کا ایک بڑا نقش بنایا، پرچم ہاتھ میں تھامے ہوئے۔ اسرائیلی وزیردفاع نے یامال پر ”نفرت پھیلانے“ کا الزام لگایا جبکہ اسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچیز نے علانیہ ان کا دفاع کیا اور کہا کہ پرچم اٹھانا نفرت کا عمل نہیں ہے۔ بارسلونا کے کوچ ہانسی فلک نے تھوڑی تکلیف کے ساتھ کہا کہ وہ عموماً اس طرح کے اشاروں کو پسند نہیں کرتے مگر یامال اب اتنے بڑے ہیں کہ اپنے فیصلے خود کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:
لبنان میں ایرانی پراکسیز کیخلاف آپریشن کا امریکی مطالبہ، شامی حکومت کا واضح انکار
یہ سب اس بات کا اظہار ہے کہ یامال اپنی جڑوں سے نہ شرمندہ ہیں نہ خوف زدہ۔ جب مراکش کی قومی ٹیم نے انہیں کھیلنے کی دعوت دی تو انہوں نے صاف کہا کہ میرا دل اسپین کے ساتھ ہے اور میں نے کبھی کوئی اور فیصلہ سوچا ہی نہیں۔مالی اعتبار سے بھی یامال اپنی عمر کے لحاظ سے ریکارڈ ساز کھلاڑی ہیں۔ ان کی مجموعی دولت 80 لاکھ ڈالر ہے۔ مئی 2025ءمیں بارسلونا کے ساتھ 2031ء تک کا معاہدہ ہوا جس میں ایک ارب دس کروڑ ڈالر کا معاوضہ شق شامل ہے۔ فٹبال کی تاریخ کی سب سے بڑی ایسی شقوں میں سے ایک۔ بنیادی تنخواہ سالانہ تقریباً ایک کروڑ اسی لاکھ ڈالر ہے جو کارکردگی انعام کے ساتھ دو کروڑ ستر لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ جوتا بنانے والی کمپنی ایڈیڈاس کے ساتھ دس سالہ معاہدہ ہے جس کی مجموعی مالیت تقریباً تین کروڑ چالیس لاکھ ڈالر بتائی جاتی ہے۔ وہ میسی کے خصوصی بوٹ لائن کو فروغ دینے کی اجازت پانے والے پہلے کھلاڑی بھی ہیں۔ بیٹس بائے ڈری، اوپو، کوکاکولا پاوریڈ اور امریکن ایگل آوٹ فٹرز کے ساتھ بھی بڑے تجارتی معاہدے ہیں جو انہیں کھیل سے باہر ٹیکنالوجی، فنون اور فیشن کے شائقین تک پہنچاتے ہیں۔ ان کے سوشل میڈیا پر فالوورز کی تعداد 2 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور ہر ماہ 5 لاکھ کے قریب بڑھ رہی ہے۔

