اسلام آباد/تہران/واشنگٹن/تل ابیب:پاکستان نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کی تقریب آج اتوار کو ہوگی۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور خطے کی صورتحال، امریکا ایران مذاکرات اور آئندہ علاقائی سفارتی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے حتمی مرحلے میں داخل ہونے کا خیرمقدم کیا جبکہ اس امید کا اظہار کیا کہ آج متوقع الیکٹرانک دستخطی تقریب کے بعد ہونے والی پیش رفت خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام میں معاون ثابت ہوگی۔
گفتگو کے دوران سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مذاکراتی عمل کے دوران ثالثی، مفاہمت اور مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل اور مؤثر کوششوں کو سراہا۔تاہم وزارت خارجہ کی جانب سے الیکٹرانک دستخطی تقریب کے انعقاد اور مقام کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اعلامیے کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے رواں ماہ کے آخر میں مصر میں ہونے والے علاقائی چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس (آرـ4) کی تیاریوں اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدہ آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر حتمی شکل اختیار کر لے گا اور دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کے تمام تر اہم نکات اگلے چوبیس گھنٹے میں فائنل ہو جائیں گے۔ا
یکس (سابقہ ٹوئٹر)پر اپنے بیان میں وزیر اعظم نے اس اہم موقع پر انکشاف کیا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے اس امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کی تیاریاں کر رہا ہے جس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔
اپنی پوسٹ میں وزیر اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ایران کے صدرڈاکٹر مسعود پزشکیان، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی صدر نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کو ٹیگ کیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اس اہم ترین سفارتی کامیابی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کے دوران مسلسل جاری رہنے والی وابستگی اور سنجیدگی پر امریکا اور ایران دونوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے خطے کے دیگر ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے امن کی ان مخلصانہ کوششوں کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کیا۔وزیراعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والا یہ تاریخی امن معاہدہ خطے میں مستقل اور دیرپا امن کے قیام کے لیے ایک انتہائی مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔
علاوہ ازیںایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہاہے کہ پاکستان کی ثالثی میں تیار کیا گیا ”اسلام آباد میمورنڈم”بنیادی طور پر جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس مجوزہ معاہدے کے مسودے پر دستخط کے حتمی وقت کا تعین ابھی نہیں ہوا اس لیے اس حوالے سے حتمی اعلان کا انتظار کرنا ہوگا۔ اگرچہ آج اس دستاویز پر دستخط نہیں ہوں گے تاہم آئندہ چند روز میں ایسا ہونے کا امکان موجود ہے۔
ترجمان اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ مخالف فریق کے متضاد بیانات سمیت اس کی غیر یقینی اور غیر مستحکم پالیسیاں ہیں جس کے باعث اس عمل سے متعلق کسی بھی پیش رفت پر محتاط رہنا ضروری ہے۔
ادھرایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہاہے کہ ابھی ایران کا امریکا کے ساتھ معاہدہ نہیں ہوا، مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں معاہدے پر دستخط ڈیجیٹل طور پر ہوں گے اور اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ جب یہ طے ہو جائے گا تو عوام کو اس کی مکمل تفصیل سے آگاہ کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کیخلاف جنگ کا فاتح ہے،معاہدے کے 14 نکات ہوں گے جبکہ ایران کے ایٹمی معاملے کو ملتوی کر دیا گیا ہے ان کے مطابق عبوری معاہدہ پہلا قدم ہے، اگر یہ نافذ نہ ہوا تو جوہری مذاکرات بھی نہیں ہوں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران کے منجمد فنڈز جاری کیے جائیں گے جبکہ امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو کھولنا بھی عبوری معاہدے کا حصہ ہے، ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنائے گا تاہم ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی۔
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ معاہدے میں لبنان سمیت ہر محاذ پر جنگ کے خاتمے کو بھی شامل کیا جائے گا، لبنان میں جنگ کے خاتمے کا مطلب اسرائیل کا قبضہ شدہ علاقوں سے انخلا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو ڈیل سے آگاہ کردیا ہے۔امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو ایران کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے حملوں کے خواہشمند تھے،امریکی صدر نے ا سرائیلی منصوبہ آخری وقت میں روک دیا۔
اسرائیل کو ایران معاہدے پر تحفظات اورجوہری پروگرام پرتشویش ہے۔سی این این کے مطابق ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سیل کرنا شروع کردیا،تہران چند ہفتوں سے ذخیرہ محفوظ بنارہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور سربراہ مذاکرات کمیٹی محمد باقر قالیباف نے گزشتہ برس کی 12 روزہ جنگ کے ایک سال مکمل ہونے پر کہا کہ اپنے شہدا کے مشن کو جاری رکھیں گے اور کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق باقر قالیباف نے اپنے بیان میں شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا نے گزشتہ برس 12 روزہ جنگ کے دوران بھی معصوم بچوں تک کو قتل کیا اور کسی جرم یا ظلم سے گریز نہیں کیا۔
ادھراسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ امریکا ایران معاہدے میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران معاہدے کے لیے امریکا اسرائیل سے لبنان میں حملے رْکوانا چاہتا ہے جبکہ لبنان پر حملے روکنے کے مطالبے پر اسرائیل کا امریکا سے سخت اختلاف ہے۔
علاوہ ازیںایرانی خبر ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ایرانی جزیرے قشم اور سیریک میں دھماکے سنے گئے ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق آوازیں ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کے قریبی علاقوں میں جھڑپوں کی وجہ سے ہیں، زمین پر کوئی دھما کا نہیں ہواتاہم مقامی حکام کے مطابق سیریک بندرگاہ پر دھماکوں کی آوازیں آبنائے ہرمز میں فائر کیے گئے وارننگ شارٹس کی ہیں۔

