چند روز ماسکو میں

دنیا ایک جانب جنگوں، کساد بازاری اور مہنگائی کے دباؤ سے دوچار ہے تو دوسری جانب اسی بحران کے اندر نئے معاشی مواقع بھی جنم لے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کون سے ممالک ان مواقع سے کس طرح فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر کنیکٹویٹی کا مسئلہ بڑھ رہا ہے اور دنیا تیزی سے علاقائی بلاکس میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے، جہاں ہر خطہ اپنی الگ معاشی حکمتِ عملی تشکیل دے رہا ہے۔یورپ کے دروازے تیسری دنیا کے شہریوں کے لیے مزید سخت ہو رہے ہیں، بلکہ یورپ خود بھی اندرونی معاشی و سماجی بحران کی زد میں نظر آتا ہے۔ ایسے حالات میں دنیا کو نئی علاقائی منڈیوں پر توجہ دینا ہوگی۔ ان میں وسطی ایشیا اور روس کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ افریقہ بھی ایک ابھرتے ہوئے معاشی مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ تاہم آج کی گفتگو کا مرکز روس ہے، جو رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور توانائی، خام مال اور انسانی وسائل کے لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

یوکرین جنگ کے جاری رہنے کے باوجود روس کو اشیاء اور افرادی قوت کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ درمیان میں رابطوں کی کمی اور نوسرباز عناصر کی وجہ سے پیدا ہونے والا اعتماد کا بحران ہے، جو آنے والے چند برسوں میں کسی حد تک بہتر ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ریاستی سطح پر پالیسیوں میں تسلسل اور شفافیت برقرار رکھی جائے۔ روس کا دارالحکومت ماسکو دنیا کے چند خوبصورت ترین اور منظم دارالحکومتوں میں شمار ہوتا ہے۔ کازان میں روس اور اسلامک فورم میں شرکت کے بعد ماسکو کا رخ کیا گیا۔ چند روزہ قیام کے دوران شہر کے مختلف پہلوؤں کا گہرا مشاہدہ ہوا۔

ماسکو کئی حوالوں سے مشہور ہے، جن میں ریڈ اسکوائر، کریملن اور اربات اسٹریٹ قابلِ ذکر ہیں، جہاں تاریخ اور جدیدیت ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔تاہم سب سے نمایاں اور جدید سہولت ماسکو کا زیرِ زمین ریلوے نظام، یعنی میٹرو سسٹم ہے، جو پورے شہر کو انتہائی مؤثر انداز میں جوڑتا ہے۔ یہ نظام نہ صرف شہر کے اندر بلکہ مضافات تک بھی سروس فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے شہری ٹریفک کے شدید دباؤ اور ٹریفک جام سے بچ جاتے ہیں۔ اس بار خصوصی طور پر اسی میٹرو سروس کا مشاہدہ کیا گیا، جو واقعی سنا ہوا تصور سے بھی زیادہ تیز، منظم اور جدید ہے۔ ہر اسٹیشن پر روسی کے ساتھ انگریزی معلومات بھی دستیاب ہیں، جو غیر ملکیوں کے لیے بڑی سہولت ہے۔

ماسکو میں اس چند روزہ قیام کے دوران پاکستانی بزنس کمیونٹی کے چند افراد سے خصوصی ملاقاتیں بھی ہوئیں، جن میں جواد الرحمان اور ڈاکٹر زاہد علی خان شامل تھے، جو ایک یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات، موجودہ رکاوٹوں، ممکنہ مواقع اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو میں یہ بھی زیرِ بحث آیا کہ عالمی تجارت اب صرف ریاستوں تک محدود نہیں رہی بلکہ نجی شعبہ اس میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس بحث میں یہ بات سامنے آئی کہ کنیکٹیوٹی کے مسائل کو حکومتوں کے ساتھ ساتھ بزنس ٹو بزنس روابط کے ذریعے بھی حل کیا جا سکتا ہے۔ جہاں ریاستی سطح پر تاخیر اور خلا موجود ہیں، وہاں تاجر طبقہ اس خلا کو پر کر سکتا ہے اور عملی تعاون کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر زاہد علی خان 35 سال قبل تعلیم کے لیے روس آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کی اور بعد ازاں 25 سال تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان کے مطابق روس میں پاکستانی طلبہ اور ورکرز کے لیے کئی مواقع موجود ہیں، خاص طور پر اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے شعبے میں، جو آنے والے وقت میں مزید بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت پاکستان کو روس کے ساتھ تعلقات کو محض سفارتی سطح سے نکال کر عملی اقتصادی شراکت داری میں بدلنا چاہیے تاکہ خطے میں امن، تجارت اور کنیکٹیوٹی کو حقیقی فروغ مل سکے۔ ان کے مطابق پاکستانی تجارتی تنظیمیں اس عمل میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں اور ستمبر میں پاکستان مصنوعات کی ایک سنگل کنٹری نمائش کا بھی منصوبہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اس وقت یورپ کے مقابلے میں روس اور وسطی ایشیا پاکستان کے لیے زیادہ امکانات رکھتے ہیں۔ یہ خطہ پاکستانی تجارت اور برآمدات کے لیے ایک بڑی اور مستحکم منڈی بن سکتا ہے، بشرطیکہ مستقل حکمتِ عملی اپنائی جائے۔ اسی طرح پاکستانی اسکلڈ ورکرز کے لیے بھی یہاں بہتر مواقع موجود ہیں، مگر اس کے لیے تربیت اور مارکیٹ کی سمجھ ضروری ہے۔

ایک اور پاکستانی نژاد بزنس مین جواد الرحمان نے بتایا کہ پاکستان اور روس کے درمیان کاروباری تعاون کے لیے بہت سی کمپنیاں تیار ہیں، لیکن ایک منظم میکنزم کی کمی ہے۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر واضح فریم ورک تشکیل دیں تو یہ خلا تیزی سے پر ہو سکتا ہے اور تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ روس میں صرف وہی افراد آئیں جو قانونی طریقے سے کاروبار یا روزگار کے لیے آنا چاہتے ہیں۔ غیر قانونی راستے، ایجنٹ مافیا اور غیر حقیقی وعدوں پر مبنی ڈنکی کلچر سے گریز ضروری ہے، کیونکہ روس میں قانونی طور پر کام کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ مجموعی طور پر یہ مشاہدہ واضح کرتا ہے کہ روس، وسطی ایشیا اور وسیع تر گلوبل ساوتھ اب نئی معاشی حقیقت بن رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی تجارتی پالیسی، سفارتی ترجیحات اور کنیکٹیوٹی کے نظام کو اس سمت میں موڑ پائے گا؟ کیا گوادر اور کراچی واقعی اس ابھرتی ہوئی عالمی تجارت کے مرکز بن سکیں گے؟ اگر یہ سمت درست ہو جائے تو یہ خطہ نہ صرف معاشی بلکہ جغرافیائی اعتبار سے بھی ایک نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے، جہاں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

روس اور وسطی ایشیا کے خطے میں مستقبل کی تجارت کا انحصار صرف وسائل پر نہیں بلکہ بہتر کنیکٹیوٹی، جدید لاجسٹکس اور اعتماد سازی پر ہوگا۔ پاکستان اگر اس سمت میں سنجیدگی دکھائے تو اس کے لیے برآمدات اور روزگار کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ خاص طور پر زرعی مصنوعات، ٹیکسٹائل، آئی ٹی سروسز اور اسکلڈ ورکرز کے شعبے میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ اسی طرح نجی شعبے کی فعال شمولیت سے ریاستی خلا کو پْر کیا جا سکتا ہے اور ایک پائیدار اقتصادی ماڈل تشکیل دیا جا سکتا ہے جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہوگا۔