خبر یہ ہے کہ ضلع جھنگ کی ایک بستی کے سالہ ریٹائرڈ سرکاری ٹیچر نے 80 سال کی عمر میں شادی رچا کر ان نوجوانوں کے سینے پر مونگ دل دی ہے جو رشتے کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں مگر ان کی دال نہیں گلتی۔ ماسٹر صاحب کی چار عدد بیویاں بیویاں وفات پا چکی ہیں جبکہ پانچویں بیوی انہیں چھوڑ کر جا چکی ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ استادِ محترم کی چھٹی شادی کی وجہ ان کی 60 ہزار روپے سے زائد ملنے والی ماہانہ پنشن ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر پنشن کو بڑھاپے کا سہارا سمجھا جاتا ہے، مگر ضلع جھنگ کے ان ریٹائرڈ ماسٹر صاحب نے اسے رومانی معیشت کا ایسا کامیاب ماڈل بنا دیا ہے کہ بڑے بڑے ماہرینِ معاشیات بھی سر کھجاتے رہ جائیں۔ عمر اسّی برس، بیویاں چھ اور ہر شادی کے پیچھے ایک مضبوط معاشی دلیل:میرے بعد یہ پنشن کسی کے کام آ جائے گی!اب اسے آپ محبت کہیں، حکمت کہیں یا سرکاری اسکیم برائے ازدواجی خوشحالی، مگر حقیقت یہ ہے کہ ماسٹر صاحب نے نکاح کو بھی ایک طرح کا انویسٹمنٹ پلان بنا دیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں منافع کی گارنٹی نہیں، البتہ غیر یقینی صورتحال ضرور سو فیصد ہے۔
کہتے ہیں محبت اندھی ہوتی ہے مگر یہاں معاملہ کچھ یوں ہے کہ محبت کے ساتھ ساتھ حساب کتاب بھی پورا رکھا گیا ہے۔ ساٹھ ہزار روپے ماہانہ پنشن یعنی نہ بجلی کے بل کا مسئلہ، نہ گیس کی فکر اور نہ ہی مہنگائی کی آندھی کا زیادہ خوف، چنانچہ جب ماسٹر صاحب رشتہ لے کر جاتے ہیں تو گویا CV کے ساتھ بینک اسٹیٹمنٹ بھی پیش کر دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نکاح نہیں بلکہ کوئی ٹینڈر جاری ہوا ہو:دلچسپی رکھنے والی خواتین اپنی درخواستیں مع شناختی کارڈ جمع کروائیں، کامیاب امیدوار کو پنشن سمیت دیگر مراعات دی جائیں گی۔ایک 90 سالہ بابا جی ایک 40 سالہ دوشیزہ سے 19ویں شادی رچانے جا رہے تھے۔ کسی منچلے نے جملہ کسا،بابا جی دیکھ لیجیے! زندگی کو خطرہ ہے۔ بابا جی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے بولے، کوئی بات نہیں میاں! یہ مر گئی تو بیسویں کر لیں گے۔ ایک اور دل جلا بولا بابا جی آخر آپ کو بار بار شادی کرنے کا شوق کیوں پیدا ہو جاتا ہے؟ بابا جی بولے،کیا بتاؤں یار! جب شادی کے موقع پر دودھ پلائی کی رسم کے لیے زنان خانے میں جاتا ہوں تو لڑکیاں ایک دوسری سے کہہ رہی ہوتی ہیں، پیچھے ہٹ جاؤ لڑکا آ رہا ہے۔ بس یہی جملہ سننے کا شوق مجھے بار بار شادی پر اکساتا ہے۔
موجودہ کہانی میں بھی ایک دلچسپ موڑ ہے۔ جن خواتین نے مستقبل کی پنشن کے خواب دیکھ کر بابا جی سے شادی کا بندھن باندھا ان میں سے چار تو خود بابا جی سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ گویا قسمت بھی کہہ رہی ہو:بی بی! ابھی تو ماسٹر صاحب کا اکاؤنٹ چل رہا ہے، آپ کیوں جلدی میں ہیں؟پانچویں بیوی نے شاید حالات کو بھانپ لیا اور بروقت رضاکارانہ علیحدگی اختیار کر لی۔ اب چھٹی دلہن میدان میں ہے اور پورا علاقہ اس شادی کو ایسے دیکھ رہا ہے جیسے کوئی سنسنی خیز کرکٹ میچ ہو۔ سب کی نظریں اس سوال پر ہیں کہ یہ اننگز کتنی لمبی جائے گی؟
یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ہمارے معاشرے میں جہاں لوگ ساٹھ کے بعد واک اور وظیفے تک محدود ہو جاتے ہیں، وہاں ماسٹر صاحب اسّی کے بعد نئی زندگی شروع کر رہے ہیں۔ وہ شاید ان چند بہادر لوگوں میں سے ہیں جو بڑھاپے کو بیماری نہیں بلکہ دوسرا یودھ سمجھتے ہیں۔ ان کا فلسفہ بڑا سادہ ہے: زندگی کا کیا بھروسہ؟ جب تک سانس ہے، تب تک چانس ہے! اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس واقعے کو کس نظر سے دیکھیں؟ کیا یہ محض ایک مزاحیہ قصہ ہے یا اس میں کوئی سبق بھی پوشیدہ ہے؟ایک طرف یہ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں معاشی تحفظ ایک بڑی ضرورت ہے اور بعض اوقات رشتے بھی اسی بنیاد پر طے پاتے ہیں۔ دوسری طرف یہ قصہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ زندگی میں غیر یقینی ہمیشہ موجود رہتی ہے چاہے وہ محبت ہو یا پنشن۔
چند سال پہلے ترکیہ میں حکومت نے پنشنرز کی پنشن میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر پنشنرز نے یک زبان ہو کر حکومت کو دھمکی دی تھی کہ اگر ان کی پنشن میں مطلوبہ اضافہ نہ کیا تو وہ نوجوان لڑکیوں سے شادیاں کر لیں گے اور ایسی صورت میں پنشنرز کی وفات کے بعد بھی حکومت کو کافی لمبے عرصے تک ان کی بیوگان کو پنشن کی ادائی کرنی پڑے گی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت نے پنشنرز کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔ ماسٹر صاحب کی چھٹی شادی نے وطنِ عزیز کے پنشنرز کو بھی ایک راہ سجھائی ہے کہ حکومت جس طرح ان کے ساتھ سوتیلے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر سال پنشن میں معمولی اضافہ کر کے انہیں ٹرخا دیتی ہے وہ حکومت سے انتقام لینے کے لیے نوجوان لڑکیوں سے شادیاں کر لیں۔ ملک کے موجودہ معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کام زیادہ مشکل نہیں ہو گا کیونکہ جہاں پنشن مضبوط ہو، وہاں رشتوں کی لائن لمبی ہو ہی جاتی ہے!

