سعودی عرب میں نایاب تاریخی آثار دریافت

سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن نے مدینہ منورہ ریجن کے المہد گورنریٹ میں آثارِ قدیمہ کے سروے کا دوسرا مرحلہ مکمل کرتے ہوئے 1744تاریخی مقامات اور نوادرات ریکارڈ کیے ہیں۔ دریافت شدہ آثار میں چٹانی نوشتے، اسلامی و ثمودی مخطوطات، پتھریلی تعمیرات، قدیم محلات، قافلوں کی گزرگاہیں اور کنویں شامل ہیں۔ ان میں بعض نوشتوں کا تعلق سیدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دور سے ہے، جبکہ قدیم عربی شاعری کے نمونے بھی ملے ہیں۔

یہ آثار ایک ایسی تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں جو اسلامی ریاست کے ابتدائی ایام تک پھیلی ہوئی ہے۔”ہیریٹیج کمیشن”نے 1744 ایسے مقامات اور اشیا ء کو قدیمی ورثے کے طور پر محفوظ کیا ہے۔یہ دریافتیں تین مختلف علاقوں السویرقی، المویح اور الھدی میں مکمل کی گئی ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ماہرین آثار کی ٹیموں کی دریافت میں 156 آثار قدیمہ کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ان آثارِقدیمہ میںسب سے زیادہ چٹانی نوشتوں کا تعلق سیدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے عہد سے ہے،جن میں عربی شاعری بھی چٹانوں پر کندہ کی گئی ہے۔

آثارِ قدیمہ میں 461 اسلامی مخطوطے، 34 ثمود سے متعلق مخطوطے اور 1259 چٹانی تختوں پر مشتمل ہیں، 11پتھروں کی تعمیرات ، 3 محلات ، عمارتوں کے کھنڈرات،2 قدیمی سڑکیں ،4 کنوؤں اور قافلوں کی گزرگاہیں بھی دریافت میں شامل ہیں۔

سروے کے نتیجے میں مکہ مکرمہ کے قریبی علاقے جوفہ سے عام زندگی میں استعمال ہونے والی مختلف اشیا ء دریافت کی گئیں۔ بعض ایسی چیزیں بھی ملیں جو مصر، ایتھوپیا، شام و عراق سے متعلق تھیں جن سے پتا چلتا تھا کہ یہ اُس دور سے متعلق حجاج کرام کی اشیاء ہیں جو اس راستے سے گزرے ہوں گے۔

کمیشن نے اِس عزم کا اعادہ ہے کیا کہ وہ اس طرح کے سروے ملککے دیگر علاقوں میں بھی جاری رکھے گا تاکہ ویژن 2030 ء کے تحت سعودی ثقافت اور ورثے کو سامنے لایا جا سکے۔