امریکی حکام اسرائیلی جاسوسی سے تنگ آگئے

رپورٹ: علی ہلال
امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے حکام اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کی سرگرمیوں سے تنگ آگئے۔ اسرائیلی اداروں نے ایران امریکا مذاکرات میں تعاون کرنے والے ممالک کی جاسوسی بھی تیز کردی ہے۔
اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں نے امریکی اداروں میں جاسوسی کا وسیع نیٹ ورک پھیلا دیا ہے جس سے پینٹاگون کے حکام میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں کی حالیہ رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسیاں ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے کام کرنے والے امریکی مذاکرات کاروں کی نگرانی اور ان کی گفتگو سننے کی کوشش کررہی ہیں جس پر امریکی حکام میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے امریکی پالیسیوں اور ایران سے متعلق مذاکراتی حکمتِ عملی جاننے کے لیے جاسوسی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان سرگرمیوں کے باعث امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اسرائیل سے متعلق جوابی جاسوسی خطرے کی درجہ بندی ’بلند‘ سے بڑھا کر ’انتہائی سنگین‘ (Critical) کردی ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور اعلیٰ مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف، پینٹاگون کے اعلیٰ پالیسی عہدیدار ایلبرج کولبی اور دیگر امریکی اہلکاروں کی نگرانی کی کوشش کی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا اور اسرائیل ماضی میں ایک دوسرے کی جاسوسی سے واقف رہے ہیں تاہم حالیہ سرگرمیاں معمول سے کہیں زیادہ جارحانہ ہیں۔امریکی انٹیلی جنس دستاویزات کے مطابق اسرائیلی جاسوسی کا خطرہ اب بعض مخالف ممالک سے بھی زیادہ تصور کیا جارہا ہے۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار نے اسرائیلی سرگرمیوں کو ’حد سے بڑھی ہوئی اور بے قابو‘ قرار دیا۔ امریکی اور عرب میڈیا کے مطابق امریکی اہلکاروں نے اسرائیل میں اپنے موبائل فونز پر خفیہ نگرانی اور مواصلاتی مداخلت کے شواہد دریافت کیے جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا۔ دستاویزات میں گزشتہ برسوں کے کئی واقعات کا ذکر بھی موجود ہے جن میں اسرائیلی اہلکاروں پر امریکی تنصیبات اور گاڑیوں میں نگرانی کے آلات نصب کرنے کی کوششوں کے الزامات شامل ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف غیرمعمولی سطح پر عسکری تعاون کررہے ہیں، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل صرف فوجی معلومات ہی نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی سیاسی حکمتِ عملی اور ایران کے ساتھ مذاکراتی پوزیشن جاننے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ اسرائیلی سفارت خانے نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل امریکی حکام یا اداروں کی جاسوسی نہیں کرتا۔ وائٹ ہاوس کے ایک عہدیدار نے بھی بعض رپورٹس کو غلط قرار دیا ہے جبکہ پینٹاگون نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ خدشات برقرار رہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان حساس عسکری اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر نئی پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں جس سے دونوں ممالک کے قریبی دفاعی تعاون پر اثر پڑسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز میں امریکا اور اسرائیل بڑی حد تک ایک ہی موقف پر تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے اس دیرینہ ہدف کی حمایت کی تھی جس کے تحت ایران کی مذہبی حکومت کو اقتدار سے ہٹانا مقصود تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دونوں اتحادیوں کے جنگی مقاصد میں فرق نمایاں ہونے لگا۔ امریکی حکمتِ عملی کا مرکز ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرکے اسے مذاکرات کی میز پر رعایتیں دینے پر مجبور کرنا تھا جبکہ اسرائیل کی خواہش تھی کہ ایران کی سخت گیر حکومت اپنی سیاسی گرفت کھو دے یا اقتدار سے محروم ہوجائے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے پالیسی اُمور کے سربراہ ایلبرج کولبی کو اسرائیلی دلچسپی کا ہدف بنائے جانے کی وجوہات مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔ تاہم کولبی ٹرمپ انتظامیہ میں محتاط اور محدود خارجہ پالیسی کے نمایاں حامی سمجھے جاتے ہیں۔اسی طرح مائیکل ڈی مینو، جو پینٹاگون میں مشرقِ وسطیٰ سے متعلق پالیسیوں کے ذمہ دار ہیں، اپنے منصب کی حساس نوعیت کے باعث اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز تصور کیے جاتے ہیں۔عرب اُمور پر کام کرنے والے ماہرین کے مطابق اسرائیلی ادارے ان دنوں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے سرگرم ممالک کی جاسوسی بھی کررہے ہیں جن میں ترکیہ، مصر اور پاکستان بھی شامل ہیں۔