بیسویں اور اکیسویں صدی میں خوارج کا جدید روپ جس سطحی تعبیر دین اور جذباتی بیانیے پر کھڑا ہے، اس کا ایک بڑا مظہر جمہوریت اور پارلیمانی نظام پر ان کا اندھا دھند کفر کا فتوی ہے۔ جدید دور کے انتہا پسند اور خارجی فکر کے حامل عناصر یہ دعوی کرتے ہیں کہ جمہوری نظام میں فیصلے کثرتِ رائے کی بنیاد پر ہوتے ہیں، اس لیے جمہوریت نے معاذ اللہ اکثریت کو حق اور باطل کا معیار بنا دیا ہے۔ ان کا بیانیہ اس نکتے کے گرد گھومتا ہے کہ اسلام میں حق کا واحد معیار قانونِ الٰہی ہے، جبکہ جمہوریت میں فیصلہ سازی کا سرچشمہ عوام یا ان کی اکثریت ہے، قرآنِ کریم نے تو جگہ جگہ اکثریت کی مذمت کی ہے؛ کہیں فرمایا کہ اگر آپ زمین پر موجود اکثریت کی بات مانیں گے تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے، اور کہیں کہا کہ اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ جب قرآن پاک کا مینوفیسٹو یہ ہے کہ اکثریت عام طور پر گمراہی یا جذباتیت کا شکار ہوتی ہے، تو ایک سچا مسلمان اس نظام کو کیسے درست مان سکتا ہے؟
لہٰذا یہ نظام ایک واضح طاغوت اور کھلا کفر ہے جس سے بیزاری اور جس کے خلاف ہتھیار اٹھانا شرعی طور پر فرض ہے۔ بظاہر یہ بیانیہ عوام کو مائل کرنے کے لیے بہت پرکشش اور خالص دینی معلوم ہوتا ہے، لیکن جب عمیق شرعی فہم اور عقلِ سلیم کے ترازو میں اس کا وزن کیا جائے، تو یہ موقف علمی کمزوری اور سطحی فہم کا نتیجہ ثابت ہوتا ہے۔ خوارج کا یہ گروہ اصطلاحات کے خلط ملط اور نظریاتی افراط و تفریط کا شکار ہو کر اسی راستے پر چل پڑا ہے جس پر ان کے اسلاف چلے تھے۔
اس مغالطے کا پہلا اور سب سے بڑا علمی نقص یہ ہے کہ خوارج نے مصدرِ قانون(Source of Law) اور انتظامی طریق کار (Procedural Mechanism) کے درمیان فرق کو یکسر مٹا دیا ہے۔ اسلام میں حاکمیت مطلقہ بلاشبہ صرف اور صرف اللہ رب العزت کی ہے اور کوئی بھی مسلمان اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ انسانی کثرت رائے کے ذریعے اللہ کے حرام کردہ کو حلال یا حلال کردہ کو حرام کیا جا سکتا ہے لیکن خوارج کا یہ فرض کر لینا کہ جمہوریت کا مطلب ہی یہ ہے کہ اکثریت جو چاہے شریعت کے خلاف قانون بنا دے، حقیقت حال سے لاعلمی پر مبنی ہے۔ اگر ہم خود مسلم ممالک، بالخصوص پاکستان کے جمہوری اور آئینی ڈھانچے کا مطالعہ کریں، تو قراردادِ مقاصد اور آئین کی دفعہ 227 واضح کرتی ہے کہ اقتدارِ اعلی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور پارلیمنٹ کا کوئی بھی رکن یا پوری پارلیمنٹ مل کر بھی قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون وضع نہیں کر سکتی لہٰذا یہاں اکثریت کا کام الٰہی قانون کو بدلنا نہیں ہے، بلکہ شریعت کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے مباح امور، معاشی منصوبہ بندی، اور انتظامی ڈھانچے کو چلانے کے لیے اجتماعی دانش کا استعمال کرنا ہے۔ جب شریعت نے خود بہت سے دنیاوی اور انتظامی امور کو انسانوں کی صوابدید، اجتہاد اور باہمی مشاورت پر چھوڑ دیا ہے، تو ان مباحات میں نظمِ اجتماعی قائم کرنے کے لیے اکثریت کی رائے کو ترجیح دینا کفر کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ حاکمیتِ الٰہیہ پر ڈاکا نہیں، بلکہ الٰہی قانون کے دیے ہوئے دائرہ اختیار کے اندر نظمِ ریاست کی تدبیر ہے۔
اس کے ساتھ ہی، خوارج کا یہ دعوی بھی حقیقت پر مبنی نہیں ہے کہ جدید سیاسی فلسفے میں اکثریت کو ”حق اور سچائی کا مطلق مدار” مانا جاتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی سنجیدہ جمہوری مفکر یہ نہیں کہتا کہ اکثریت ہمیشہ اخلاقی، سائنسی یا مابعد الطبعیاتی طور پر سچی ہوتی ہے۔ اگر اکثریت سچائی کا معیار ہوتی، تو ارسطو سے لے کر آج تک کے سیاسی فلاسفہ کثرتِ رائے کے عیوب پر ضخیم کتابیں تصنیف نہ کرتے۔ خود مغربی سیاسی نظاموں میں اکثریت کی اس ممکنہ خطا کاری کو روکنے کے لیے ”آئینی بالادستی”، ”بنیادی انسانی حقوق” اور عدالتی نظرِ ثانی(Judicial Review) جیسے فلٹرز رکھے گئے ہیں تاکہ برسراقتدار اکثریت کسی اقلیت کے حقوق پر شب خون نہ مار سکے۔ پس، جمہوریت میں اکثریت کو کوئی مقدس یا معصوم عن الخطا نہیں مانا جاتا، بلکہ اسے محض ایک انتظامی مجبوری اور فیصلہ سازی کا ایک پرامن طریقہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
اسلامی فقہ کا ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ ”جہاں کوئی قطعی نص موجود نہ ہو، وہاں اجتہاد کی گنجائش ہوتی ہے، اور اجتماعی اجتہاد انفرادی اجتہاد پر بسا اوقات فوقیت رکھتا ہے”۔ فقہا نے ہمیشہ ”سوادِ اعظم” اور ”جمہور” کی رائے کو ایک خاص تشریعی وزن دیا ہے۔ اگر کثرت کو معیار بنانا بذاتِ خود باطل ہوتا، تو امتِ مسلمہ کی چودہ سو سالہ فقہی تاریخ میں جمہور کی رائے کو کبھی کوئی تقدس یا ترجیح حاصل نہ ہوتی۔ خوارج قرآنِ کریم کی ان آیات کا غلط محل استعمال کرتے ہیں جہاں فرمایا گیا ہے کہ ”اگر آپ زمین پر موجود اکثریت کی بات مانیں گے تو وہ آپ کو اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے”۔ یہ آیات مکہ کے مشرکین اور کفار کی اس اکثریت کے بارے میں نازل ہوئی تھیں جو عقیدے اور توحید کے معاملے میں گمراہ تھی، ان کا تعلق کسی مسلم معاشرے کے اندر سڑکوں کی تعمیر، ٹیکس کے نظام، یا انتظامی سربراہ کے انتخاب کے لیے کثرتِ رائے کے استعمال سے ہرگز نہیں ہے۔
شریعتِ اسلامیہ اور تاریخِ اسلام میں کئی ایسے نظائر اور مثالیں ملتی ہیں جہاں محض تعداد یا کثرتِ رائے کو بنیاد بنا کر فیصلے کیے گئے، غزو احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی رائے یہ تھی کہ مدینہ کے اندر رہ کر دفاع کیا جائے، اور یہی رائے جلیل القدر کبار صحابہ کی بھی تھی، لیکن دوسری طرف نوجوان صحابہ کی ایک بڑی تعداد کی رائے یہ تھی کہ شہر سے باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اکثریت باہر نکلنے پر اصرار کر رہی ہے، تو آپ نے اپنی ذاتی رائے پر اکثریت کی رائے کو ترجیح دی اور شہر سے باہر نکلنے کا فیصلہ فرمایا۔ اب اگر خوارج کی اس منطق کو مانا جائے کہ اکثریت کی رائے کی پیروی کرنا کفر یا باطل پرستی ہے، تو یہ نبوی فیصلہ ان کی فکری عمارت کو زمین بوس کرنے کے لیے کافی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شوری کے اس عملی نمونے سے امت کو یہ سکھایا کہ جن امور کا تعلق خالص انتظامی تدبیر سے ہو، وہاں اکثریت کی بات مان لینا کوئی ناجائز کام نہیں بلکہ کبھی معاشرے کی یکجہتی اور دلجوئی کے لیے مستحسن بھی ٹھہرتا ہے۔ (جاری ہے)

