خصوصی مضمون: مولانا محمد عثمان انیس درخواستی
اِسلامی تاریخ کے گلشن میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی عظمت صرف ان کے دور تک محدود نہیں رہتی بلکہ قیامت تک آنے والے اہلِ ایمان کے لیے مینارہ نور بن جاتی ہے۔ ان ہی نفوسِ قدسیہ میں ایک عظیم المرتبت نام امیرالمو¿منین، خلیفہ ثالث، جامع القرآن، ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا ہے۔ وہ ہستی جن کے فضائل قرآن و حدیث میں جگمگاتے ہیں، جن کی حیا پر فرشتے ناز کرتے ہیں، جن کی سخاوت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسرور ہوجاتے ہیں اور جن کی مظلومانہ شہادت پر آسمانِ مدینہ بھی اشکبار نظر آتا ہے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ عام الفیل کے تقریباً چھ سال بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملتا ہے۔ آپ کے والد کا نام عفان بن ابی العاص اور والدہ کا نام ’ارویٰ‘ بنت کریز تھا۔ آپ قریش کے معزز، مالدار اور باوقار خاندان بنواُمیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی آپ پاکدامنی، دیانت، نرم خوئی، سخاوت اور حسنِ اخلاق میں نمایاں تھے۔ علامہ ابن سعد ؒ ’الطبقات الکبریٰ‘ میں لکھتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نہ کبھی شراب کے قریب گئے، نہ بتوں کے سامنے جھکے اور نہ ہی کسی برائی میں ملوث ہوئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ اسلام پیش فرمائی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تبلیغ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ اُس وقت اسلام لانا گویا ظلم و ستم کے طوفان میں کود پڑنا تھا مگر عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حق کو پہچان کر دنیا کی ہر اذیت کو معمولی سمجھا۔
یہ بھی پڑھیں:
علامہ ابن ہشام نے ’السیرة النبوی‘ میں ذکر کیا ہے کہ آپ کے چچا حکم بن ابی العاص نے اسلام لانے پر آپ کو رسیوں سے باندھ کر سخت اذیت دی، مگر آپ ؓاستقامت کے ساتھ اسلام پر قائم رہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی عظمت کا سب سے بڑا عنوان اُن کا تعلق بارگاہِ نبوت سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ان سے فرمایا۔ جب غزوہ بدر کے موقع پر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کی تیمارداری کے لیے مدینہ میں رہنے کا حکم دیا۔ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے وصال کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کردیا۔ اس عظیم شرف کی بنا پر آپ ’ذوالنورین‘ کہلائے۔ امام ترمذی ؒنے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میری تیسری بیٹی بھی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی عثمان سے کردیتا۔“ (جامع الترمذی، مناقب عثمان)
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حیا ضرب المثل تھی۔ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تشریف فرما تھے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما حاضر ہوئے تو آپ اسی حالت میں رہے، لیکن جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست فرمائے۔ بعد میں ارشاد فرمایا: ”کیا میں اُس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟“ (صحیح مسلم، فضائل الصحابہ) یہ صرف ظاہری حیا نہ تھی بلکہ قلب کی پاکیزگی، روح کی لطافت اور ایمان کی گہرائی تھی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نہایت نرم گفتار، کم گو، عبادت گزار اور شب بیدار تھے۔ امام ذہبی ؒ ’سیر ةاعلام النبلائ‘ میں نقل کرتے ہیں کہ آپ اکثر رات بھر قرآن مجید کی تلاوت فرماتے اور ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کرلیا کرتے تھے۔ اِسلامی تاریخ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور مالی قربانیوں کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جب مسلمانوں پر شدید مالی تنگی تھی، سامانِ جنگ کی قلت تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے لیے چندہ کی ترغیب دی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تین سو اونٹ مع سازوسامان اور ایک ہزار دینار پیش کیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوکر بار بار فرماتے تھے: ”آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کریں انہیں نقصان نہ دے گا۔“ (جامع الترمذی)
مدینہ منورہ میں پانی کی شدید قلت تھی۔’بئر رومہ‘ نامی کنواں ایک یہودی کی ملکیت میں تھا جو مہنگے داموں پانی فروخت کرتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’کون ہے جو یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کرے اور جنت کا حقدار بنے؟‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بڑی رقم دے کر وہ کنواں خریدا اور وقف کردیا۔ (صحیح بخاری، فضائل الصحابہ) اسی طرح مسجد نبوی کی توسیع کے وقت بھی آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی دولت سے زمین خرید کر مسجد میں شامل کردی۔ یہ وہ اخلاص تھا جس میں نمود و نمائش نہ تھی بلکہ صرف رضائے الٰہی مطلوب تھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد شوریٰ کے ذریعے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خلافت سونپی گئی۔ آپ کا دورِ خلافت بارہ سال پر مشتمل ہے جو اسلامی فتوحات، علمی ترقی، معاشی استحکام اور رفاہی اقدامات کے اعتبار سے نہایت اہم دور شمار ہوتا ہے۔ آپ کے زمانے میں اسلامی سلطنت کی سرحدیں وسیع ہوکر آرمینیا، آذربائیجان، خراسان، کابل، طبرستان، افریقہ اور قبرص تک پہنچ گئیں۔ پہلی اسلامی بحری فوج آپ ہی کے دور میں قائم ہوئی۔
مزید پڑھیں:
حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بحری بیڑا تیار ہوا اور رومی طاقت کو بحیرہ روم میں شکست دی گئی۔ تاریخ طبری اور البدایہ والنہایہ میں ان فتوحات کی تفصیل مذکور ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا سب سے عظیم کارنامہ قرآن مجید کو ایک رسم الخط پر جمع کرنا ہے۔ مختلف علاقوں میں نئے مسلمان ہونے والے لوگ لہجوں اور قرات کے اختلافات میں الجھنے لگے تو حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے اس خطرے کی نشاندہی کی۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور دیگر جلیل القدر صحابہ کی جماعت تشکیل دی اور مصحفِ عثمانی تیار کراکے مختلف علاقوں میں بھیج دیا۔ صحیح بخاری میں یہ پورا واقعہ تفصیل سے مذکور ہے۔ آج پوری دنیا میں جو قرآن مجید ایک ہی رسم الخط کے ساتھ موجود ہے یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ایسا عظیم کارنامہ ہے جس پر اُمت ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ مگر افسوس! جس شخصیت نے اُمت کو قرآن پر جمع کیا، اسی شخصیت کے خلاف فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائی گئی۔ عبداللہ بن سبا جیسے منافق عناصر نے مختلف علاقوں میں جھوٹے پروپیگنڈے شروع کیے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نرم مزاجی اور حلم کو کمزوری سمجھ کر باغیوں نے بغاوت کا راستہ اختیار کیا۔ مصر، کوفہ اور بصرہ سے فتنہ پرداز گروہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ انہوں نے خلیفہ¿ وقت کے گھر کا محاصرہ کرلیا۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس وقت بیاسی برس کے ضعیف العمر بزرگ تھے۔ کئی دن تک پانی بند رکھا گیا۔ کھانا روک دیا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ دفاع کے لیے تیار تھے مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں خونریزی نہیں چاہتا۔“ امام ابن کثیر ؒلکھتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک خواب دیکھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما تشریف فرما تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عثمان! آج ہمارے ساتھ افطار کرو گے۔“ (البدایہ و النہایہ)
یہ خواب دراصل شہادت کی بشارت تھی۔ پھر وہ دردناک دن آیا۔ 18 ذوالحجہ 35 ہجری، جمعہ کا دن تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ روزے سے تھے، قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے۔ گھر میں صرف چند افراد موجود تھے۔ باغیوں نے دیوار پھلانگ کر حملہ کردیا۔ حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا آگے بڑھیں تو ظالموں نے ان کی انگلیاں کاٹ ڈالیں۔ پھر ایک شقی القلب شخص نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر تلوار کا وار کیا۔ وہ منظر کتنا دردناک تھا! ایک ضعیف العمر خلیفہ رسول، سفید داڑھی، لبوں پر قرآن، ہاتھ میں مصحف اور ظالموں کی تلواریں بے دریغ چل رہی ہیں۔ خون کے قطرے قرآن کے اوراق پر ٹپکنے لگے۔ مورخین نے لکھا ہے کہ جس آیت پر خون گرا وہ یہ تھی: (البقرہ: 137) ترجمہ ’عنقریب اللہ آپ کے لیے ان کے مقابلے میں کافی ہوگا اور وہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے‘۔
مزید پڑھیں:
70 سالہ بیٹی سفر حج کے دوران اپنی 90سالہ ماں کا سہارا بن گئی
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت صرف ایک فرد کی شہادت نہ تھی بلکہ اُمت مسلمہ کے اتحاد پر کاری ضرب تھی۔ مدینہ کی فضائیں غم سے بوجھل تھیں۔ صحابہ کرام ؓکی آنکھیں اشکبار تھیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بے حد غمزدہ تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حضرت ابوبکرؓ، پھر حضرت عمرؓ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کو افضل سمجھتے تھے۔ (صحیح بخاری، فضائل الصحابہ)
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی زندگی سراپا حیا، سخاوت، عبادت، حلم، صبر اور خدمتِ دین تھی۔ اُن کی شہادت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کے راستے میں مظلومیت بھی عظمت بن جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی جان قربان کردی مگر اُمت میں خانہ جنگی کو ہوا نہ دی۔ اگر چاہتے تو ہزاروں جانثار تلواریں لے کر میدان میں آجاتے مگر اس نرم دل خلیفہ نے اپنے خون سے امت کو بچانے کی کوشش کی۔آج بھی جب تاریخِ اسلام کا تذکرہ ہوتا ہے تو ایک بوڑھے خلیفہ کی تصویر دل میں ابھرتی ہے؛ وہ خلیفہ جو قرآن پڑھتے ہوئے شہید ہوگیا، جس کی داڑھی خون سے تر ہوگئی، جس کے گھر کی دیواروں نے مظلومیت کی داستان سنی اور جس کے صبر نے قیامت تک کے مسلمانوں کو صبر، حلم اور قربانی کا درس دے دیا۔ رضی اللہ عنہ و ارضاہ، وجمعنا اللہ بہ فی جنات النعیم !

