کیا آپ کی زندگی میں ڈیلیٹ بٹن موجود ہے؟

دوسری و آخری قسط:
عملی طریقہ: ایک خط لکھیں (جو کسی کو بھیجنے کی ضرورت نہیں)۔ اس میں اس ٹاکس شخص کے بارے میں لکھیں یا وہ واقعہ لکھیں جس نے آپ کو تکلیف دی۔ اپنے جذبات پوری شدت سے بیان کریں۔ میں نے تو اس میں اضافہ یہ کیا ہے کہ سرائیکی کی دو چار کلاسیک گالیاں بھی شامل کر دیں۔ آہو۔ آپ بھی اپنی مادری زبان سے استفادہ کر سکتے ہیں یا اگر آپ بھلے آدمی ہیں، تنہائی میں بھی مہذب اور نستعلیق رہتے ہیں تو گالی نہ لکھیں، باقی سب کچھ لکھ ڈالیں۔ اس کے بعد خط کو پھاڑ دیں، جلا دیں یا پھاڑ کر کسی گٹر وغیرہ یا سڑک کنارے لگے کوڑے دان میں پھینک دیں۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل دماغ سے زہریلے جذبات کو نکال دیتا ہے اور دل کو ہلکا کر دیتا ہے۔ ابتدا میں مشکل لگتا ہے، لیکن اکیس دن یعنی تین ہفتے مسلسل کرنے سے عادت بن جاتی ہے۔

برین ڈمپ جرنلنگ: ذہن میں گھومنے والے تمام خیالات کاغذ پر اتار دینا۔
عملی طریقہ: روزانہ صبح یا رات کو دس سے پندرہ منٹ ایک نوٹ بک میں لکھیں۔ کوئی خاص اصول ضابطہ نہیں۔ دل میں جو بھی آ رہا ہے لکھیں (غصہ، فکر، پریشانی، خواہشات)۔ کسی قسم کا سنسر نہیں، ہر قسم کا منفی خیال لکھ ڈالیں۔ البتہ لکھنے کے بعد منفی خیالات کو الگ کر کے ڈیلیٹ یا لیٹ گو لکھیں۔ یہ تکنیک تھراپی میں بھی استعمال ہوتی ہے اور ذہن کو صاف کرنے میں بہت موثر ہے۔ اس جرنلنگ میں فور پلرز تھیوری بہت کامیاب رہتی ہے۔ آسان طریقہ ہے۔ جرنل لکھتے ہوئے چار خانے بنا لیں۔ ایک میں کوئی سا بھی منفی خیال لکھیں۔ اس منفی سوچ کے حق میں دلائل لکھیں یعنی وہ مثالیں، واقعات، شواہد جو اسے درست بناتے ہیں۔ تیسرے خانے میں اس کے خلاف دلائل، شوائد وغیرہ دیانت داری سے لکھیں۔ چوتھے میں خود ہی تجزیہ کر کے بیلنس رائے لکھیں۔ اس کی آسان مثال بتاؤں۔ جیسے یہ منفی خیال کہ میں نکما اور نالائق ہوں، مجھ سے کچھ نہیں ہوتا۔ اب اس کے حق میں دلائل لکھیں جیسے یہ کہ فلاں فلاں کام مجھ سے نہیں ہوئے، بڑی شرمندگی ہوئی وغیرہ۔ پھر اس کے خلاف دلائل لکھیں کہ فلاں فلاں کام میں نے کر بھی تو لیا تھا جو سراہا بھی گیا۔ آخر میں بیلنس کر دیں کہ مجھ سے غلطیاں ہوئی ہیں، مگر میں نے کچھ اچھے کام بھی کیے ہیں، میں غلطیوں سے سیکھ کر بہتری لاؤں گا۔

مائنڈ فلنس اور مراقبہ: ذہن کو پریزنٹ موومنٹ یعنی حال میں لانا۔
عملی طریقہ: روزانہ دس منٹ آنکھیں بند کر کے سانس پر توجہ دیں۔
اگر خیال آئے تو اسے دیکھیں اور بغیر جج کیے خیال کو جانے دیں۔ کہتے ہیں خیال بادل کی طرح آئے گا، آپ نے بھی اسے آسمان پر آئے بادل کی طرح دیکھنا ہے اور جانے دینا ہے۔ نئے لوگ یوٹیوب پر سرچ کر سکتے ہیں۔ مائنڈ فل نیس تکنیک پر بے شمار ویڈیوز مل جائیں گی۔ ماہرین کے مطابق اس سے پرانی یادیں اور غصہ کنٹرول ہوتا ہے۔

شکر گزاری کی عادت ڈالنا: منفی سوچوں کی جگہ مثبت خیالات بھرنا۔
عملی طریقہ: ہر رات تین ایسی باتیں لکھیں جن کے لیے آپ شکرگزار ہیں (چاہے چھوٹی سی بھی)۔ مثال: آج مناسب ہیلدی یعنی صحت مند کھانا ملا، خاندان کی حمایت ملی وغیرہ۔ تین چار ہفتوں میں دماغ کی سوچ کا رخ بدل جاتا ہے۔

حدود کا تعین: اصطلاح میں اسے باؤنڈریز سیٹ کرنا کہتے ہیں۔ یعنی زہریلے لوگوں اور باتوں سے خود کو بچانا۔
عملی طریقہ: ان لوگوں کو سوشل میڈیا پر ان فالو کر دیں جن کی پوسٹیں آپ کو بیزار یا پریشان کرتی ہیں۔ (برسبیل تذکرہ بتاتا چلوں کہ میں روزانہ ایک یا دو لوگوں کو ان فالو کر رہا ہوں، غیر ضروری اورغیر منطقی تحریروں سے خود کو محفوظ رکھنا چاہیے۔) نہیں کہنا بھی سیکھ لیں، بغیر وضاحت کیے۔ اگر کسی جگہ مجبوری کی وجہ سے ٹاکس لوگوں سے مکمل رابطہ توڑنا ممکن نہ ہو تو کم سے کم رابطہ رکھیں۔

جسمانی سطح پر علاج: آپ شاید یہ پڑھ کر حیران ہوں مگر ماہرین کے مطابق ورزش آپ کے ذہن کو صاف کرتی ہے۔ یہ دماغ میں اینڈورفنز خارج کرتی ہے۔
عملی طریقہ: روزانہ تیس سے پینتیس منٹ تیز واک، یوگا یا ورزش کریں۔
جب غصہ یا اداسی ہو تو فوراً دس پندرہ منٹ کے لئے باہر جا کر واک کریں یا گھر ہی میں جس حد تک ہو سکے، واک کریں۔ اس کا جادو پھر دیکھئے گا۔ اس کے ساتھ سات آٹھ گھنٹے اچھی نیند ضروری ہے۔ نیند کی کمی منفی سوچوں کو بڑھاتی ہے۔ غذا: میں میٹھی چیزیں اور جنک فوڈ کم کریں، پانی زیادہ پئیں۔

فزیکل ڈی کلٹرنگ: اپنے آس پاس کا ماحول صاف کرنے سے اندر خود بخود صاف ہوتا ہے۔
عملی طریقہ: پہلے اپنی الماری، میز اور کمرہ صاف کریں۔ وہ چیزیں پھینک دیں جو پرانی یادوں سے جڑی ہوں۔ اس کے بعد گھر بھر کی صفائی کر ڈالیں۔ امید واثق ہے کہ جب تھک ہار کر بستر پر گریں گے تو ذہن صاف ہی ملے گا اور نیند کی دیوی فوری مہربان ہو جائے گی۔

ماحول اور عادات تبدیل کریں: منفی لوگوں/ مواد سے فاصلہ رکھیں، سوشل میڈیا کو محدود اور مایوسی پھیلانے والے دوستوں سے بھی دور رہیں۔ جن کا کام صرف منفی سوچ دینا اور ہر وقت کڑھتے رہنا ہے، یہ آپ کی مثبت توانائی کھا جاتے ہیں، بہتری اسی میں ہے کہ ان سے دور رہیں۔ مثبت کتابیں، پوڈکاسٹس اور لوگوں سے کنیکٹ ہو جائیں۔ ذہنی صحت اور منفی خیالات سے نجات پانے اور ڈیلیٹ کا بٹن ایکٹو کرنے کے حوالے سے کئی اہم کتابیں لکھی گئی ہیں، بعض تو اردو میں ترجمہ بھی ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر ڈیوڈ برنز کی فیلنگ گڈ اے نیو موڈ تھیوری، ایکہارٹ ٹولے کی پاور آف نا، ڈیوڈ ہاکنگز کی لیٹنگ گو، جیمز کلیئرکی اٹامک ہیبٹس (اس کا اردو ترجمہ ہو چکا) وغیرہ اہم ہیں۔ انہیں پڑھ کر مزید باتیں سیکھ لیں۔ پوری گفتگو کا نچوڑ یہ ہے کہ آج ہی ایک کام کریں۔ آنکھیں بند کریں اور ذہن کی الماری کھول کر دیکھیں۔ ایک ایک فائل نکالیں اور سوچیں، کیا یہ رکھنے کے قابل ہے یا اب اسے ختم کر دینا چاہیے؟ جو غصہ، جو کینہ، جو ناخوشگوار یاد آپ کی رات اور دن کھا رہی ہے، اسے رخصت کر دیں۔ احسان یاد رکھیں، سبق یاد رکھیں، محبتیں یاد رکھیں، مگر کینہ اور بغض کو باہر کا دروازہ دکھا دیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے دلوں کو اتنا کشادہ کرے کہ ہم معاف کرنا سیکھیں اور دوسروں کو معاف کرتے کرتے خود کو بھی آزاد کر لیں۔ آخری بات یہ یاد رکھیں کہ تبدیلی کل سے نہیں، آج ہی سے آتی ہے۔ آپ بھی آج ہی سے شروع کریں۔ اپنے ذہن کا سٹوریج چیک کریں اور جو بوجھ آپ کو نیچے کھینچ رہا ہے، اسے ڈیلیٹ کر دیں۔