104 سالہ انڈونیشی خاتون کے سفرِ حج کی ایمان افروز داستان

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہر سال فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں امیر بھی ہوتے ہیں، غریب بھی، جوان بھی اور بوڑھے بھی۔ ہر حاجی اپنے ساتھ ایک الگ کہانی، ایک الگ خواب اور ایک الگ جدوجہد لے کر آتا ہے، مگر بعض داستانیں ایسی ہوتی ہیں جو پوری امت مسلمہ کے لیے امید، صبر اور استقامت کی علامت بن جاتی ہیں۔
حج 2026ء میں بھی ایک ایسی ہی شخصیت نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ یہ شخصیت انڈونیشیا کی 104 سالہ خاتون مباہ مارسیہ ہیں جنہیں اس سال حج ادا کرنے والی معمر ترین خاتون قرار دیا گیا۔مباہ مارسیہ کا تعلق انڈونیشیا کے صوبہ مشرقی ’جاوا‘ کے ضلع ’کدیری‘ سے ہے۔ وہ یکم جولائی 1921 کو پیدا ہوئیں۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ سادہ دیہی ماحول میں گزرا۔ انہوں نے نہ کوئی بڑی تجارت کی، نہ کوئی غیرمعمولی ملازمت۔ ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ روایتی انڈونیشی دلیہ یا عصیدہ فروخت کرنا تھا۔ محدود وسائل اور بڑھتی عمر کے باوجود اُن کے دل میں ایک خواب مسلسل زندہ رہا اور وہ خواب تھا بیت اللہ کی زیارت اور فریضہ حج کی ادائیگی۔ انسانی زندگی میں بہت سے خواب وقت گزرنے کے ساتھ مدھم پڑ جاتے ہیں، مگر مباہ مارسیہ کا خواب وقت کے ساتھ کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوتا گیا۔ انہوں نے برسوں تک اپنی روزانہ کی معمولی آمدنی میں سے تھوڑی تھوڑی رقم الگ رکھنا شروع کی۔ یہ بچت نہ کسی بینک اکاونٹ میں جمع ہوتی تھی اور نہ ہی کسی سرمایہ کاری کی صورت میں، بلکہ وہ اسے ایک سادہ سی ڈبیا میں محفوظ کرتی رہیں۔ اُن کی زندگی کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنا یہ خواب زیادہ تر لوگوں سے پوشیدہ رکھا۔ وہ خاموشی سے کماتی رہیں، خاموشی سے بچت کرتی رہیں اور خاموشی سے اپنے رب کے گھر تک پہنچنے کا راستہ بناتی رہیں۔
جب ان کی جمع شدہ رقم مطلوبہ مقدار کے قریب پہنچ گئی تو انہوں نے اپنے اہل خانہ کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق اگر کبھی اخراجات پورے کرنے کے لیے کچھ رقم کم پڑ جاتی تو ان کا بیٹا باقی رقم ادا کردیتا۔ یوں برسوں کی محنت، صبر اور مستقل مزاجی کے بعد وہ دن آ پہنچا جب ان کا خواب حقیقت بننے لگا۔ مباہ مارسیہ نے 2021ءمیں حج کے لیے باضابطہ رجسٹریشن کروائی تھی۔ انڈونیشیا دنیا کا سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک ہے، جہاں تقریباً 28 کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ ہر سال لاکھوں افراد حج کے لیے درخواستیں دیتے ہیں، لیکن محدود کوٹے کے باعث طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بعض علاقوں میں حج کی باری آنے میں 25 سے 30 سال تک لگ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے انڈونیشی مسلمان جوانی میں رجسٹریشن کرواتے ہیں تاکہ بڑھاپے تک ان کی باری آسکے۔
104 سالہ مباہ مارسیہ کا حج تک پہنچنا اس لحاظ سے بھی غیرمعمولی واقعہ ہے کہ ان کی عمر دنیا کی اوسط متوقع عمر سے کہیں زیادہ ہے۔ اس عمر میں عام طور پر لوگ گھر سے نکلنے، سفر کرنے یا روزمرہ اُمور انجام دینے میں بھی دشواری محسوس کرتے ہیں، مگر انہوں نے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے حرمین شریفین پہنچنے کا عزم کیا۔ 22 مئی 2026ءکو مباہ مارسیہ اپنی 67 سالہ بیٹی موئیدہ کے ہمراہ سعودی عرب پہنچیں۔ مکہ مکرمہ میں ان کا استقبال دیگر حجاج کی طرح کیا گیا، تاہم جلد ہی ان کی عمر اور جدوجہد کی داستان میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ مختلف عرب، انڈونیشی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے ان کی خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کی تصاویر اور ویڈیوز لاکھوں افراد نے دیکھی اور شیئر کیں۔ اگرچہ مباہ مارسیہ کو چلنے کے لیے عصا استعمال کرنا پڑتا ہے اور بعض مراحل میں وہیل چیئر کی سہولت بھی فراہم کی گئی، لیکن اُن کی ذہنی چستی اور روحانی جوش قابلِ دید تھا۔ انڈونیشی حج مشن کے حکام کے مطابق حج کے ابتدائی دنوں میں ان کی صحت تسلی بخش تھی اور وہ مناسک کی ادائیگی کے لیے پُرعزم تھیں۔ ان کی مسکراہٹ اور چہرے پر نمایاں اطمینان اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ برسوں کی دعا اور انتظار آخرکار قبولیت کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔
مباہ مارسیہ کی کہانی صرف ایک بزرگ خاتون کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک سبق بھی ہے۔ آج کے دور میں جب بہت سے لوگ وسائل کی کمی، معاشی مشکلات یا دیگر رکاوٹوں کے باعث اپنے خوابوں کو ادھورا چھوڑ دیتے ہیں، یہ خاتون ہمیں سکھاتی ہیں کہ مستقل مزاجی اور صبر سے ناممکن نظر آنے والے مقاصد بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا عملی نمونہ ہے کہ بڑے خواب ہمیشہ بڑی دولت کے محتاج نہیں ہوتے، بلکہ مضبوط ارادے اور مسلسل محنت بھی انہیں حقیقت میں بدل سکتی ہے۔
ان کی داستان ہمیں حج کے حقیقی فلسفے کی بھی یاد دلاتی ہے۔ حج صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ عشق، قربانی، صبر اور اطاعت کا سفر ہے۔ دنیا کے کونے کونے سے آنے والے مسلمان مختلف زبانیں، رنگ اور ثقافتیں رکھتے ہیں، لیکن کعبہ مشرفہ کے سامنے سب برابر ہوجاتے ہیں۔ مباہ مارسیہ بھی انہی لاکھوں حجاج میں شامل تھیں مگر ان کا سفر اس لیے منفرد بن گیا کیونکہ اس کے پیچھے ایک صدی پر محیط زندگی کا تجربہ، برسوں کی بچت اور ایک ایسی خواہش تھی جو عمر کی تمام حدوں کو عبور کر گئی۔ حج 2026ء کے بے شمار واقعات میں شاید آنے والے برسوں تک سب سے زیادہ یاد رکھی جانے والی کہانی یہی ہوگی کہ ایک 104 سالہ خاتون، جس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ’عصیدہ‘ فروخت کرتے ہوئے گزارا، چھوٹی چھوٹی بچتوں کے ذریعے خدا کے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔ ان کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر انسان کے دل میں اخلاص ہو، نیت خالص ہو اور ارادہ مضبوط ہو تو وقت، عمر اور حالات بھی اس کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ مباہ مارسیہ کی یہ داستان یقینا آنے والی نسلوں کے لیے عزم، اُمید اور ایمان کی ایک روشن مثال بن کر زندہ رہے گی۔