کیا ’جین زی‘ واقعی کم ذہین نسل ہے؟

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
یہ جنوری 2018ء کی ایک سرد شام تھی۔ ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں واقع ’راگنر فریش‘ اقتصادی تحقیقی مرکز کی خاموش راہداریوں میں محقق ’اولی روگبرگ‘ تیز قدموں سے اپنے ساتھی ’بیرنٹ براٹسبرگ‘ کے دفتر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ دروازہ کھولتے ہی اس نے پُرجوش لہجے میں کہا: ’نتائج مکمل ہوگئے!‘ بیرنٹ نے اس کی آنکھوں کی چمک سے فوراً اندازہ لگا لیا کہ معاملہ غیرمعمولی ہے۔ گویا دونوں محققین ایک ایسی تحقیق تک پہنچ چکے تھے جو علمی دنیا میں ہلچل مچا سکتی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ دنیا کے نوجوان بتدریج ”کم ذہین“ ہوتے جارہے ہیں۔
لیکن اس حیران کن دعوے کو سمجھنے سے پہلے دو باتیں: ‘جنریشن زیڈ‘ یا ’ Z Gen ‘دراصل آبادیاتی تقسیم (Demographic) کا ایک نام ہے جو مختلف ادوار میں پیدا ہونے والی نسلوں کو پہچاننے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ نام انگریزی حروفِ تہجی کے تسلسل سے لیا گیا ہے۔ Boomers Baby دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی نسل۔ Generation X تقریباً 1965ء تا 1980۔ Generation Y تقریباً 1981ءتا 1996ءاور Generation Z تقریباً 1997ء تا 2012۔ اس نسل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر انٹرنیٹ کے دور میں پلی بڑھی، اسمارٹ فون، سوشل میڈیا اور یوٹیوب اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ رہے، اس نے ’آف لائن دنیا‘ کو تقریباً کبھی مستقل طور پر نہیں دیکھا۔ اسی لیے بعض ماہرین اسے تاریخ کی پہلی ’مکمل ڈیجیٹل نسل‘ بھی کہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک بنیادی حقیقت ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ یہ تصور کہ مختلف نسلیں حیاتیاتی طور پر ایک دوسرے سے زیادہ ذہین یا کم عقل ہوتی ہیں، سائنسی اعتبار سے یہ درست نہیں۔ نسلوں کے درمیان چند دہائیوں کا وقفہ انسانی دماغ کی ساخت میں اتنی بڑی تبدیلی پیدا نہیں کرسکتا کہ ایک نسل فطری طور پر ”ذہین“ اور دوسری ”کم فہم“ قرار پائے۔ البتہ ماحول، معاشرہ، تعلیم، سیاست، معیشت، میڈیا، صحت اور طرز زندگی انسان کی ذہنی کارکردگی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اسی لیے بعض اوقات ایک نسل اپنے رویّوں، عادات اور علمی استعداد کے اعتبار سے دوسری نسل سے نمایاں طور پر مختلف محسوس ہوتی ہے۔
آج کل ’جنریشن زیڈ‘ کے بارے میں یہی بحث زور پکڑ چکی ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو تقریباً 1997ءسے 2012ء کے درمیان پیدا ہوئی اور جس نے آنکھ کھولتے ہی اسمارٹ فون، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ پایا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ نسل زیادہ خودمختار، زیادہ باغی، روایتی اداروں سے کم متاثر اور اتھارٹی کو چیلنج کرنے والی ہے، کیونکہ یہ ایک ایسی دنیا میں پلی بڑھی ہے جہاں معلومات پر کسی ایک ادارے کی اجارہ داری نہیں رہی۔ لیکن کیا واقعی یہ نسل دوسری نسلوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے؟ کیا یہ حقیقتاً کم ذہین ہو رہی ہے؟ یا ہم محض ایک نئے سماجی ماحول کے اثرات کو ”نسلی فرق“ سمجھنے کی غلطی کررہے ہیں؟ یہ سوال محض صحافتی مبالغہ نہیں گزشتہ چند برسوں میں مختلف عالمی مطالعات نے ایسے اشارے ضرور دیے ہیں کہ نوجوانوں کی علمی اور ادراکی صلاحیتوں میں ایک واضح تنزلی پیدا ہورہی ہے۔ متعدد ممالک میں 1990ء کی دہائی اور نئی صدی کے آغاز کے بعد سے ’علمی صلاحیتوں‘ کے ٹیسٹوں میں کارکردگی جمود یا تنزلی کا شکار ہونے لگی۔ خاص طور پر مطالعہ، ریاضی، استدلال اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت میں کمی محسوس کی گئی۔
عالمی ادارہ برائے اقتصادی تعاون و ترقی (OECD) کی رپورٹس کے مطابق 2022ء میں طلبہ کی اوسط کارکردگی 2018ء کے مقابلے میں نمایاں حد تک گر چکی تھی۔ مطالعہ میں تقریباً 10 پوائنٹس اور ریاضی میں 15 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ معمولی فرق نہیں بلکہ بعض اندازوں کے مطابق تقریباً ایک تعلیمی سال کے ضائع ہونے کے برابر ہے۔ امریکا میں ’نیشنز رپورٹ کارڈ‘ کے نام سے مشہور قومی تعلیمی جائزے نے بھی اسی نوعیت کی تصویر پیش کی۔ 2024ء کے نتائج کے مطابق بارہویں جماعت کے طلبہ کی مطالعہ اور ریاضی کی اوسط صلاحیتیں نہ صرف 2019ء کے مقابلے میں کم ہوئیں بلکہ کئی پرانے تاریخی معیاروں سے بھی نیچے چلی گئیں۔
ان اعداد و شمار کا سادہ مطلب یہ ہے کہ آج کا نوجوان اوسطاً گہری قرات، منطقی استدلال اور پیچیدہ مسائل کے حل میں پہلے کے مقابلے میں کمزور ہورہا ہے۔ یہ کہنا تو درست نہیں کہ ’انسانی ذہانت ختم ہورہی ہے‘ لیکن یہ کہنا یقینا درست ہے کہ بنیادی علمی مہارتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہیں سے ہمیں ’فلین ایفیکٹ‘ کی طرف جانا پڑتا ہے۔ یہ اصطلاح معروف محقق جیمز فلین سے منسوب ہے جس نے بیسویں صدی میں ایک دلچسپ رجحان دریافت کیا۔ اس کے مطابق ہر نئی نسل IQ ٹیسٹوں میں پچھلی نسل کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا رہی تھی۔ کئی دہائیوں تک یہ اضافہ تقریباً 3 سے 5 پوائنٹس فی دہائی کے حساب سے جاری رہا۔ اس رجحان کی توجیہ یہ پیش کی گئی کہ انسانی معاشروں میں تعلیم، صحت، غذا، شہری سہولیات اور عمومی معیار زندگی بہتر ہوا جس کے نتیجے میں ذہنی صلاحیتیں بھی ترقی کرتی گئیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر بیسویں صدی کے آخری عشروں میں کئی ممالک میں یہ رجحان رکنے لگا، پھر الٹا ہونے لگا۔ یعنی IQ اسکور بڑھنے کے بجائے گھٹنے لگے۔ اس تبدیلی کو بعض ماہرین ’ریورس فلین ایفیکٹ‘ کہتے ہیں۔
یہاں ناروے کے انہی دو محققین کی تحقیق غیرمعمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ 2018ء میں اولی روگبرگ اور بیرنٹ براٹسبرگ نے ناروے کے لاکھوں نوجوانوں کے فوجی بھرتی کے امتحانات کا تجزیہ کیا۔ ان امتحانات میں حساب، لفظی استدلال، منطقی تجزیہ اور عمومی ذہنی استعداد کو جانچا جاتا تھا۔ اس تحقیق کی سب سے بڑی طاقت یہ تھی کہ اس میں صرف مختلف نسلوں کا تقابل نہیں کیا گیا بلکہ ایک ہی خاندان کے بھائیوں کا بھی موازنہ کیا گیا۔ اگر ایک ہی گھر میں پیدا ہونے والا چھوٹا بھائی اپنے بڑے بھائی کے مقابلے میں کم اسکور حاصل کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ مسئلہ جینیات کا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوسکتا ہے کہ ماحول، تعلیم، طرز زندگی یا سماجی فضا میں کوئی بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ تحقیق کے نتائج یہی بتاتے تھے کہ جنگ عظیم دوم کے بعد تعلیم، صحت اور معاشی ترقی نے ذہنی صلاحیتوں کو بہتر کیا، لیکن 1990ء کی دہائی کے بعد ایک ایسا موڑ آیا جہاں ترقی رک گئی، پھر تنزلی شروع ہوگئی۔ اب سوال یہ تھا کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ یہیں ”ڈیجیٹل دنیا“ بطور ملزم بلکہ مجرم سامنے آتی ہے۔ آج کا بچہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وقت اسکرینوں کے سامنے گزارتا ہے۔ تعلیم، تفریح، گفتگو، کھیل، مطالعہ، خریداری حتیٰ کہ جذباتی اظہار تک سب کچھ موبائل فون اور اسکرینوں کے ذریعے انجام پا رہا ہے۔
امریکی ماہر اعصاب و تعلیم ’جیرڈ کونی ہورواتھ‘ نے حال ہی میں امریکی سینیٹ کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم میں اسکرینوں کے بڑھتے استعمال نے وہ نتائج پیدا نہیں کیے جن کے خواب دکھائے گئے تھے۔ طلبہ نے اسکرینوں کے ذریعے زیادہ وقت تعلیم میں گزارا، لیکن ان کی علمی کارکردگی بہتر ہونے کے بجائے کمزور ہوگئی۔ متعدد تحقیقی جائزے بھی یہی بتاتے ہیں کہ سوشل میڈیا، مختصر ویڈیوز، گیمز اور مسلسل ڈیجیٹل محرکات علمی توجہ کو منتشر کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد ہی اس اصول پر رکھی گئی ہے کہ انسان زیادہ سے زیادہ وقت اسکرین پر گزارے۔ رنگین نوٹیفکیشن، مختصر ویڈیوز، لامتناہی اسکرولنگ اور فوری ردعمل دماغ میں ’ڈوپامین‘ پیدا کرتے ہیں جو انسان کو مسلسل نئی محرکات کا عادی بنا دیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کی توجہ طویل اور مسلسل ارتکاز کی عادی نہیں رہتی۔ وہ ایک صفحہ پڑھنے سے پہلے دوسری ایپ کھول دیتا ہے، ایک ویڈیو ختم ہونے سے پہلے اگلی ویڈیو پر چلا جاتا ہے اور چند سیکنڈ بعد اس کا ذہن نئی تحریک کا مطالبہ کرنے لگتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف توجہ تک محدود نہیں۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ خصوصاً رات کے وقت اسکرینوں کا استعمال نیند کو شدید متاثر کرتا ہے۔ نیند دراصل یادداشت، توجہ، جذباتی توازن اور سیکھنے کے عمل کی بنیادی اینٹ ہے۔ جب نیند متاثر ہوتی ہے تو ذہنی کارکردگی لازماً گرتی ہے۔ اسی طرح مختصر ویڈیوز اور چند سیکنڈ کے مواد نے نوجوانوں کی ’طویل مطالعہ‘ کی عادت بھی کمزور کردی ہے۔ ایک کتاب یا طویل مضمون انسان کو سوچنے، سوال اٹھانے، استدلال کرنے اور معلومات کو اپنے ذہن میں پختہ کرنے کا موقع دیتا ہے جبکہ مختصر ویڈیوز صرف فوری جذباتی ردعمل پیدا کرتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جدید تحقیقات میں بار بار یہ سامنے آیا ہے کہ کاغذ پر مطالعہ کرنے والے افراد عموماً اسکرین پر پڑھنے والوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر فہم رکھتے ہیں، خاص طور پر جب متن طویل اور پیچیدہ ہو۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ تعلیمی عمل مسلسل توجہ چاہتا ہے جبکہ ڈیجیٹل دنیا ٹکڑوں میں بٹی ہوئی توجہ پیدا کرتی ہے۔ علمی گہرائی سکون، خاموشی، صبر اور ارتکاز مانگتی ہے جبکہ جدید سوشل میڈیا انسان کو مسلسل بے چینی، تیزی اور فوری ردعمل کی طرف دھکیلتا ہے۔ اس سب کے باوجود یہ کہنا غلط ہوگا کہ جنریشن زیڈ سب سے کم فہم نسل ہے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ذہانت محض IQ کا نام نہیں۔ یہ توجہ، فہم، مطالعہ، تجزیہ، منطق، خود پر قابو، وقت کی تنظیم اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کا مجموعہ ہے۔ اگر ڈیجیٹل ماحول ان بنیادی صلاحیتوں کو کمزور کررہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان حیاتیاتی طور پر کم عقل ہوگیا ہے بلکہ یہ کہ اس کا ذہنی ماحول اس کی علمی استعداد کو متاثر کررہا ہے۔
جنریشن زیڈ کی خصوصیت صرف یہ ہے کہ اس کی تشکیل کا سب سے اہم دور مکمل طور پر ڈیجیٹل انقلاب کے اندر گزرا۔ یہ نسل ’انٹرنیٹ سے پہلے‘ کی دنیا کو جانتی ہی نہیں۔ اس کے لیے آن لائن ہونا کوئی انتخاب نہیں بلکہ زندگی کا فطری حصہ ہے۔ لہٰذا اصل مسئلہ نسلوں کی جنگ نہیں بلکہ ایک ایسے ماحول کی تشکیل ہے جو انسانی توجہ، یادداشت اور گہری فکر کو آہستہ آہستہ کھا رہا ہے۔ تحقیقات میں ’ارتکاز توجہ کا دورانیہ‘ ’Attention Span‘ کے بارے میں مختلف اعداد سامنے آتے ہیں لیکن عام طور پر ماہرین کہتے ہیں کہ جنریشن زیڈ کی اوسط ’ڈیجیٹل توجہ‘ تقریباً 8 سیکنڈ کے آس پاس رہ گئی ہے جبکہ ملینیل نسل میں یہی اوسط تقریباً 12 سیکنڈ بتائی جاتی تھی۔ پھر الفا جنریشن کا خود ہی انداز لگا لیجئے۔ اگر اس صورتِ حال کا حل تلاش کرنا ہے تو راستہ ٹیکنالوجی سے مکمل جنگ نہیں بلکہ اس کا دانش مندانہ اور محدود استعمال ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے لیے ضروری ہے کہ
٭….روزانہ کتاب سے طویل مطالعہ کی عادت ڈالی جائے۔
٭….تحریری اظہار اور استدلالی مشقوں کو فروغ دیا جائے۔
٭….کلاس روم میں مکمل ڈیجیٹل انحصار کم کیا جائے۔
٭….رات کے وقت موبائل فون کے استعمال کو محدود کیا جائے۔
٭….نوجوانوں کو دوبارہ ’مسلسل توجہ‘ کی تربیت دی جائے۔
کیونکہ آخرکار انسان کی سب سے قیمتی صلاحیت اس کی توجہ ہے اور جو دنیا انسان کی توجہ چرا لے، وہ آہستہ آہستہ اس کی ذہانت بھی چھین لیتی ہے۔