رپورٹ: علی ہلال
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023ء کے حملوں کے بعد غزہ، شام اور لبنان کے تقریباً ایک ہزار مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدام اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کی نئی عسکری حکمتِ عملی کا حصہ ہے جو اسرائیل کی تاریخ کی بدترین سیکیورٹی ناکامی کے بعد اپنائی گئی ہے۔
اخبار کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ، لبنان اور شام میں اپنی عسکری پوزیشنیں مستحکم کرلی ہیں اور مجموعی طور پر یہ علاقہ 1949ءکی اسرائیلی سرحدوں کے تقریباً 5 فیصد کے برابر بنتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے اس سخت گیر طرزِ عمل کو شدت پسند آبادکار حلقوں کی حمایت حاصل ہے جو طویل عرصے سے اسرائیل کی سرحدوں میں توسیع کے خواہاں رہے ہیں۔ تاہم ان کارروائیوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، شہری علاقوں میں وسیع تباہی پھیلی اور پورے خطے میں شدید تشویش پیدا ہوئی۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق قبضہ شدہ رقبے کا نصف سے زیادہ حصہ جنوبی لبنان میں واقع ہے جہاں اسرائیلی افواج تقریباً 12 کلومیٹر اندر تک داخل ہو چکی ہیں تاکہ ایک نام نہاد”سیکیورٹی زون“ قائم کیا جاسکے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ کو اسرائیلی سرحدی آبادیوں پر ٹینک شکن میزائل حملوں سے روکنا ہے۔گزشتہ ماہ بن یامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ یہ بفرزون ’براہِ راست حملے اور ٹینک شکن گولہ باری کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کر دے گا‘ اور اسرائیل نے ’آگ کے گھیرے‘ کے مقابلے میں ’تحفظ کا حصار‘ قائم کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق باقی قبضہ شدہ علاقہ غزہ اور شام میں تقسیم ہے۔ اسرائیلی فوج اس وقت غزہ کے نصف سے زائد حصے پر کنٹرول رکھتی ہے جبکہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی افواج کئی کلومیٹر اندر تک داخل ہوچکی ہیں۔ شام میں اسرائیلی فوجی پوزیشنوں کی تفصیلات نہ اسرائیل نے جاری کی ہیں اور نہ ہی شامی حکام نے۔ اخبار نے مزید کہا کہ اسرائیلی افواج ان تینوں علاقوں میں فضائی حملوں، توپ خانے، چھاپوں اور گرفتاریوں کے ذریعے اضافی علاقوں پر بھی عملی کنٹرول قائم کیے ہوئے ہیں۔ غزہ میں اسرائیل ایک نئی بفر زون قائم کر رہا ہے جو نام نہاد ’پیلی لائن‘ سے بھی آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔ ایک اقوامِ متحدہ کے اہلکار کے مطابق اس اضافی زون کی گہرائی 50 سے 100 میٹر تک ہے جس کے باعث غزہ کی قابلِ رہائش زمین مزید کم ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ کے 20 لاکھ شہری جنگ سے پہلے کے کل رقبے کے صرف 40 فیصد حصے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں جبکہ اسرائیل نے اپنی فوجی پوزیشنوں کے شمال میں واقع علاقوں سے لبنانی شہریوں کو انخلا کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹس نے دریائے لیتانی تک علاقے پر اسی طرز سے کنٹرول برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ ادھر شام میں اسرائیلی فوج نے سرحدی علاقوں سے باہر بھی کارروائیاں کی ہیں جن میں ایک حملہ شامی حدود کے اندر تقریباً 50 کلومیٹر تک کیا گیا۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق اسرائیلی فوج نے ان اعداد و شمار پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا تاہم اس کا کہنا تھا کہ فوج ’سرحدی علاقوں اور مختلف آپریشنل زونز‘ میں تعینات ہے اور اس کی موجودگی سیاسی قیادت کی ہدایات اور جاری آپریشنل جائزوں کے مطابق ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول علاقے کا رقبہ تقریباً 233 مربع کلومیٹر بنتا ہے۔ اسرائیلی حکام غزہ میں مستقل بفرزون قائم کرنے کے عزم کا اظہار بھی کرچکے ہیں اور اسرائیلی سرحد کے ساتھ وسیع علاقوں کو مسمار کیا جا چکا ہے۔ لبنان کے معاملے میں تاہم اسرائیلی بیانات متضاد رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیلی افواج ’واپس نہیں ہٹیں گی‘ جبکہ حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی فوج نے سرحدی دیہات کو مکمل طور پر مسمار کیا جسے وزیرِدفاع نے”غزہ ماڈل“ سے تشبیہ دی۔ دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیرِخارجہ جدعون ساعر سمیت بعض حکام نے نجی سطح پر یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ اسرائیل کے لبنان میں کوئی علاقائی عزائم نہیں ہیں۔ اسرائیلی قومی سلامتی کے سابق مشیر یعقوب عمید رور نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں مستقل طور پر ایک سے دو کلومیٹر چوڑی بفرزون برقرار رکھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق لبنان میں اسرائیلی فوج اس وقت تک موجود رہے گی جب تک حزب اللہ کو غیرمسلح نہیں کردیا جاتا، اگرچہ لبنانی حکام اور تجزیہ کار اس امکان کو مستقبل قریب میں ممکن نہیں سمجھتے۔
عمیدرور نے یہ بھی کہا کہ شام کے معاملے میں اسرائیل ’زیادہ لچک‘ دکھا سکتا ہے کیونکہ وہاں بفرزون کا مقصد کسی موجودہ خطرے کے بجائے ممکنہ معاند عناصر کو سرحد کے قریب آنے سے روکنا ہے۔ ان کے بقول: ’یہ سب ان معاہدوں پر منحصر ہوگا جو ہم نئی شامی حکومت کے ساتھ طے کریں گے‘۔ شامی حکام کے مطابق اسرائیل اور شام گزشتہ ایک سال سے سیکیورٹی معاہدے پر مذاکرات کرتے رہے تاہم اسرائیل کے شامی علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے اصرار کے باعث یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔ اسرائیل اور متعلقہ فریق گزشتہ ایک سال سے سیکیورٹی معاہدے پر مذاکرات کی کوشش کرتے رہے تاہم یہ بات چیت اس وقت تعطل کا شکار ہوگئی جب اسرائیل نے شامی علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے پر اصرار کیا۔ مبصرین کے مطابق اس معاملے میں بہت کچھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف پر منحصر ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی سے وابستہ سابق اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس افسر مائیکل میلشٹائن نے کہا کہ اگر اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کو جنوبی لبنان، شام یا حتیٰ کہ غزہ سے انخلا کا حکم دیا گیا تو انہیں اس پر عمل کرنا پڑسکتا ہے۔ دوسری جانب خطے کے حکام عوامی سطح پر اسرائیلی قبضے کے تسلسل کو سختی سے مسترد کررہے ہیں۔ لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بعد گزشتہ ماہ کہا کہ ’ہمارا مقصد واضح ہے: اسرائیلی انخلا کو یقینی بنانا‘۔ تاہم نجی ملاقاتوں میں علاقائی حکام اس خدشے کا اظہار بھی کررہے ہیں کہ یہ انتظامات مستقل صورت اختیار کرسکتے ہیں۔ ایک لبنانی عہدیدار کے مطابق اسرائیل بغیر کسی مو¿ثر رکاوٹ کے لبنانی علاقوں میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ جنوبی لبنان کو اپنے ”پسِ منظر“ کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے جبکہ عالمی سطح پر مو¿ثر ردعمل نہ ہونے کی صورت میں یہ صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔
ان خدشات میں اُس وقت مزید اضافہ ہوا جب اسرائیلی حکومت کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے رہنماو¿ں اور آبادکار تحریک کے نمایاں اراکین نے اسرائیل کی موجودہ سرحدوں سے باہر علاقائی عزائم کا اظہار کیا۔ اسرائیلی وزیرِخزانہ سموتریچ سمیت متعدد آبادکار رہنماو¿ں نے غزہ میں دوبارہ یہودی بستیاں قائم کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ 2024ءمیں اس موضوع پر ہونے والی ایک کانفرنس میں نیتن یاہو کابینہ کے تقریباً ایک تہائی وزرا نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ آبادکار کئی مرتبہ غزہ، شام اور لبنان میں داخل ہونے کی کوشش بھی کرچکے ہیں تاکہ وہاں اپنی موجودگی مستحکم کرسکیں۔ سموتریچ نے مزید مطالبہ کیا کہ دریائے لیتانی کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان ”نئی سرحد“ قرار دیا جائے۔ یہ دریا بعض مقامات پر موجودہ سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال تک پھیلا ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ حکمران جماعت لیکوڈ سے تعلق رکھنے والے ایک رکن کی قیادت میں 20 اسرائیلی ارکانِ پارلیمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دریائے لیتانی کے جنوب کا پورا علاقہ قبضے میں لے کر وہاں سے لبنانی آبادی کو بے دخل کیا جائے۔ ایک عرب سفارتکار نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ، لبنان اور شام میں نئی بستیاں بسانے کی بات بظاہر انتہاپسندانہ اور غیرمتوقع محسوس ہوتی ہے، تاہم آج اسرائیل مغربی کنارے میں جو کچھ کررہا ہے اُسے بھی دو دہائیاں قبل انتہاپسندانہ اور ناممکن سمجھا جاتا تھا مگر اب وہی طرزِ عمل اسرائیلی معاشرے کے مستقبل کے رخ کی نشاندہی کررہا ہے۔

