تیسری و آخری قسط:
راقم کے خیال میںمدارس میں انٹرنیٹ کا استعمال ناگزیر ضروریات تک محدود اور سوشل میڈیا مکمل بند ہونا چاہیے تاکہ ان کے مفسدات سے مدارس کے ماحول کو پاک رکھا جائے۔ آسٹریلیا کی حکومت نے پچھلے مہینے یعنی نومبر 2024 کو سولہ سال تک کی عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کا قانون نافذ کردیا ہے اور اس کی پارلیمنٹ نے دنیا کا سخت ترین قانون پاس کیا ہے۔ آسان الفاظ میں سولہ سال کی عمر کے بعد ہی کوئی آسٹریلیا میں سوشل میڈیا کو استعمال کر سکے گا اور یہ پابندی صرف سوشل میڈیا کے اسکولوں میں استعمال تک محدود نہیں ہے بلکہ چوبیس گھنٹے سولہ سال کے کم عمر بچوں کو مکمل طور پر سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اسی طریقے سے نیدرلینڈ کی حکومت نے موبائل فون، اسمارٹ واچز (گھڑیوں) اور ٹیبلٹس پر اسکولوں میں پابندی عائد کر دی ہے۔
اس وقت برطانوی پارلیمنٹ میں اس موضوع پر قانون سازی کے لیے بحث چل رہی ہے کہ کیا اسکولوں پر یہ لازم کردیا جائے کہ وہ مکمل طور پر موبائل فون فری ہوں؟ آرگنائزیشن آف اکنامک کارپوریشن اینڈ ڈیوپلمنٹ (او ای سی ڈی) یعنی اقتصادی تعاون و ترقی کی عالمی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق حد سے زیادہ ڈیجیٹل آلات کا کلاس روم میں استعمال سے طلبا کی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں کم از کم انیس ریاستوں نے ایسے قوانین منظور کیے ہیں یا ایسی پالیسی نافذ کی ہیں جو ریاست بھر میں طلبا پر اسکولوں میں اسمارٹ فون کے استعمال پر پابندی عائد کرتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی تعلیمی، علمی و ثقافتی تنظیم یونیسکو کی گلوبل ایجوکیشن مانیٹرئنگ رپورٹ 2023ء کو ہی دیکھ لیجئے جو واضح طور پر کہتی ہے کہ ”موبائل فون اسکولوں میں سیکھنے کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔” رپورٹ میں درج ہے کہ بیلجیم، اسپین، اور برطانیہ میں اسکولوں میں سے اسمارٹ فون کو ختم کرنے سے بچوں کے سیکھنے کے عمل میں بہتری آئی ہے۔ ابھی حال ہی میں سوئیڈن نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے اسکول ڈیجیٹل تعلیمی نظام سے علیحدہ ہورہے ہیں اور فزیکل یعنی حقیقی حسی کُتب کا اسکولوں میں دوبارہ سے نظام رائج کیا جارہا ہے۔ کیا ہم مغربی ممالک کی تقلید کرتے ہوئے دوبارہ سے پرانے تعلیمی نظام پر جائیں گے؟
انٹرنیٹ کی ایجاد تو امریکی محکمہ دفاع کے ”ڈیفنس ایڈوانس ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی” نے کی تھی اور آج بھی امریکا کے دفاعی نظام میں ان کا اپنا مواصلاتی نیٹ ورک موجود ہے مگر انہوں نے اس انٹرنیٹ کی ایجاد کو کمرشلائز کردیا اور پھر اس کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام نے گروی رکھ لیا اور اب یہ عالمی سرمایہ دارنہ نظام کو چلانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ تو کیا ہم اس انٹرنیٹ کو استعمال کرکے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو مزید تقویت نہیں دے رہے؟ یعنی دیکھیے اس وقت امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے چاند کے گرد ایک مشن ایٹریمس دوم بھیجا ہے جو چاند کے گرد چکر کاٹ کر آئے گا۔ اس مشن پر اتنے وسائل خرچ ہوئے ہیں کہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔ مقصد کیا ہے؟ کیا خالقِ کائنات کو پانا ہے؟ نہیں، ایسا ہرگز نہیں۔ سائنس کے ذریعے کائنات کی تسخیر دراصل ایک عظیم دھوکا ہے اور اس دھوکے میں ہمارا دینی طبقہ بآسانی آجاتا ہے۔ آج کی سائنس کا مقصد انسانیت کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ یہ تو سرمایہ دارانہ نظام کی رکھیل ہے اور اس کا مقصد دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ سائنسی ایجادات سے ہمیں وقتی فائدہ نظر آتا ہے مگر سائنسی ایجادات کے پیچھے دراصل سرمایہ دارانہ اور ملحدانہ نظریات اور عوامل کارفرما ہیں اور راقم یہ فرضی باتیں نہیں کررہا بلکہ یہ حقائق ہیں جن کا مشاہدہ راقم نے خود اپنے سائنسی و تحقیقی سفر میں کیا ہے۔ پھر ایک طرف تسخیر کائنات کی بات کی جارہی ہے، جانوروں کے حقوق کی بات کی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف سرمایہ دارانہ نظام کے سَرِخیل امریکا اسرائیل اور ان کے حواری غزہ میں ظلم و بربریت کے بازار گرم کرچکے ہیں اور ستر ہزار سے زائد معصوم بے گناہ مسلمانوں کو شہید و زخمی کرچکے ہیں اور اس ظلم پر کوئی آواز نہیں اٹھ رہی اور مسلمان بے بس ہیں۔ اس کے بالمقابل مسلمانوں میں سے بعض لوگ اب بھی یہ راگ الاپے جا رہے ہیں کاش ہم سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ ہوتے تو پھر ہم اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے؟ کیا فلسطین کے پڑوسی عرب ممالک سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ نہیں؟ کیا دنیا بھر کے وسائل ان عرب ممالک کے پاس نہیں؟ کیا دنیا کے بہترین اسلحہ و فوجی ساز و سامان ان عرب ممالک کے پاس نہیں؟ سب کو چھوڑیں، کیا پاکستان ایٹمی طاقت نہیں؟ کس چیز کی دنیا بھر کے مسلمان ممالک میں کمی ہے؟ ہماری رائے میں ہمیں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ انٹرنیٹ کے استعمال سے ہمیں کیا فوائد مل رہے ہیں؟
موجودہ انٹرنیٹ درحقیقت سرمایہ داری نظام کا ادارہ بن چکا ہے اور اس کے ذریعے ملٹی نیشنل کمپنیاں بے دریغ سرمایہ غریبوں کی جیبوں سے نکال کر سرمایہ داروں کی گود میں ڈال رہی ہیں۔ عالمی سائنسی دنیا میں یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور اس سلسلے میں کوئی مزید تفصیلات جاننا چاہتا ہے تو دس کتابیں (جن میں ”ڈیجیٹل کیپیٹل ازم”، ”ٹیکنو کیپیٹل ازم”، اور ”پروٹوکل” نامی کُتب سب سے اہم ہیں) اور ان میں دیے گئے حوالہ جات و سائنسی شواہد کافی مفید رہیں گے۔ اس کے ساتھ ہم شواہد کے ساتھ بیان کرچکے ہیں کہ موجودہ انٹرنیٹ پر کنٹرول بھی مغربی حکومتوں، اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ہے لہٰذا موجودہ انٹرنیٹ اپنی اصل شکل میں اسلامی تعلیمات کے ہم آہنگ نہیں ہے (اگر ہم مائیکرواسکوپک نظر کی بجائے اس کو میکرواسکوپک نظر سے دیکھیں) اور ہم اس حقیقت کو بھی مانتے ہیں کہ دنیا میں اس کا جال بن چکا ہے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ انٹرنیٹ تو صرف مواصلات کا ذریعہ ہے اور اس کے ذریعہ دنیا بھر کے انسان باہم منسلک ہوتے ہیں اور انٹرنیٹ اپنی ذات میں نہ خیر ہے نہ شر اور اس کا خیر یا شر ہونے کا فیصلہ اس کے استعمال کرنے والے پر موقوف ہے اور انٹرنیٹ اور کیپٹل ازم (سرمایہ دارانہ نظام) لازم وملزوم نہیں ہیں، تو ان باتوں کی تائید کم از کم راقم نہیں کرسکتا اور اس کی وجوہات مع سائنسی و تحقیقی شواہد راقم نے تحریر کردی ہیں۔ یعنی کتنا ہی بھولا پن ہوگا اگر کوئی یہ ساری باتیں کہے اور ایسا کہنا اور سمجھنا دراصل انٹرنیٹ کی تاریخ، اس کے بنانے والوں اور آج اس کو کنٹرول کرنے والوں سے قطعی لاعلمی کی دلیل ہوگا لہٰذا حضرات اہلِ علم سے گزارش ہے کہ وہ غور فرمائیں کہ کہیں ہم انٹرنیٹ کے غیر ضروری استعمال سے باطل قوتوں کو معاشی فائدہ تو نہیں پہنچا رہے؟

