پاکستان ایک ایسے سنگین طبی و سماجی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے جس کی ہولناکی کا اندازہ شاید ابھی پوری قوم کو نہیں ہو سکا۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال 93ہزار سے زائد بچے تپ دق کے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تپِ دق یعنی ٹی بی، جسے کبھی ماضی کی بیماری سمجھا جاتا تھا آج ایک بار پھر خطرناک انداز میں ہماری نئی نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ ہر سال 93ہزار سے زائد بچوں کا ٹی بی کا شکار ہونا صرف ایک طبی رپورٹ نہیں بلکہ یہ قومی غفلت، کمزور نظامِ صحت اور معاشرتی بے حسی کا کھلا ثبوت ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ پاکستان دنیا میں ٹی بی سے متاثرہ پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے جبکہ مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں ٹی بی کا سب سے زیادہ بوجھ بھی پاکستان ہی اٹھا رہا ہے۔
ٹی بی بنیادی طور پر ایک متعدی بیماری ہے جو عموماً پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے، مگر بچوں میں اس کی تشخیص نسبتاً مشکل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر بچے اس وقت اسپتال پہنچتے ہیں جب بیماری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہوتی ہے۔ مسلسل کھانسی، بخار، وزن میں کمی، کمزوری اور بھوک کا ختم ہونا ایسی علامات ہیں جنہیں ہمارے معاشرے میں اکثر عام موسمی بیماری سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ والدین کی لاعلمی، غربت، ناقص غذا اور ناکافی طبی سہولیات مل کر اس بیماری کو خاموش قاتل بنا دیتی ہیں۔
پاکستان میں صحت کا شعبہ مدتوں سے زبوں حالی کا شکار ہے۔ حکومتیں معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرنے کی بجائے اپنی سیاسی دکان داری چمکانے کیلئے فیصلے کرتی ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا ہجوم، ادویات کی قلت، تشخیصی سہولیات کا فقدان اور دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی اب معمول بن چکی ہے۔ دیہات اور پسماندہ علاقوں میں آج بھی ہزاروں بچے ایسے ہیں جنہوں نے کبھی کسی ماہرِ اطفال کو دیکھا تک نہیں۔ کئی علاقوں میں بنیادی مراکزِ صحت صرف عمارتوں تک محدود ہیں جہاں نہ مشینری ہے، نہ لیبارٹری اور نہ ہی تربیت یافتہ عملہ۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ حکومت صحت جیسی بنیادی سہولت کو اپنی ذمہ داری سمجھنے کی بجائے اس ذمہ داری سے جان چھڑانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ سرکاری ہسپتال دھڑا دھڑ ٹھیکے پر دیئے جا رہے ہیں۔ اوپر سے مہنگائی نے غریب تو کیا متوسط طبقے کی بھی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور وہ جسم و جاں کے رشتہ برقرار رکھنے کی جدوجہد کرتا نظر آ رہا ہے۔
بچوں میں ٹی بی کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ غذائی قلت بھی ہے۔ پاکستان میں لاکھوں بچے مناسب خوراک سے محروم ہیں۔ جسم جب غذائیت سے محروم ہو تو قوتِ مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے اور بیماریوں کے حملے آسان ہو جاتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ مہنگائی نے غریب آدمی سے دودھ، پھل، گوشت اور انڈا بھی چھین لیا ہے۔ کئی گھرانوں میں بچوں کا پیٹ بھرنا ہی سب سے بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے، متوازن غذا تو ایک خواب بن چکی ہے۔ یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ ٹی بی صرف بیماری نہیں بلکہ غربت کا دوسرا نام بن چکی ہے۔ گنجان اور آلودہ ماحول، کچی آبادیاں، ناقص صفائی، کمزور رہائشی نظام اور بے روزگاری اس مرض کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گویا ٹی بی دراصل اس معاشرتی ناانصافی کا نتیجہ ہے جہاں امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
افسوس یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی ٹی بی کو ایک بدنام بیماری سمجھا جاتا ہے۔ کئی خاندان سماجی شرمندگی کے خوف سے مرض چھپاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مریض بروقت علاج سے محروم رہتا ہے اور بیماری دوسروں تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ اس سوچ کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ میڈیا، علمائ، اساتذہ اور سماجی تنظیموں کو مل کر عوام میں یہ شعور اجاگر کرنا ہوگا کہ ٹی بی قابلِ علاج مرض ہے اور بروقت علاج سے مکمل صحت یابی ممکن ہے۔ حکومت کو بھی اب رسمی بیانات اور سیمینارز سے آگے بڑھنا ہوگا۔ جس طرح پولیو کے خلاف گھر گھر مہم چلائی گئی، اسی طرز پر ٹی بی کے خلاف بھی قومی ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی ادارے اور فلاحی تنظیمیں اپنی جگہ کوششیں کر رہی ہیں مگر کسی بھی مسئلے کا مستقل حل صرف بیرونی امداد سے ممکن نہیں ہوتا۔ اصل ضرورت سیاسی عزم، شفاف پالیسیوں اور مضبوط مقامی نظام کی ہے۔ جب تک حکومت صحت کو قومی سلامتی جتنا اہم مسئلہ نہیں سمجھے گی، تب تک حالات میں حقیقی بہتری آنا مشکل ہے۔ آج اگر ہم نے بچوں میں پھیلتی ٹی بی کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل یہی بیمار نسل ملکی معیشت، تعلیمی نظام اور سماجی ڈھانچے پر ایک بڑا بوجھ بن جائے گی۔ ایک کمزور اور بیمار بچہ صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کا سوال ہوتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور قوم یہ طے کریں کہ ہمیں صرف عمارتیں بنانی ہیں یا انسان بھی بچانے ہیں۔ کیونکہ ایک صحت مند بچہ ہی ایک مضبوط، خوشحال اور روشن پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔

