نئی دہلی:مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں3روپے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ4سال بعد کیا گیا ہے جس سے پیٹرول کی قیمت 97.77 جبکہ ڈیزل 90.67 روپے فی لیٹر ہوگئی۔
دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے اپنے انتخابی اخراجات کی وصولی کے لیے عوام پر بے جا معاشی بوجھ ڈالا ہے۔
بھارت میں دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی پیٹرول کی قیمتوں میں 4سال بعد3روپے کے اضافے کو مسترد کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا اور سڑکوں پر نکل آئے۔ حکومت مخالف نعرے لگائے گئے۔سوشل میڈیا پر بھی مودی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر تیل کا بحران نہیں تھا تو اب اچانک قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں اور وہ بھی الیکشن کے فوری بعد ہونے سے شکوک پیدا کردیے ہیں۔
ادھر مودی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگیا تھا تاہم حکومت نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ملک اس وقت تیل کے بحران کا شکار ہے۔خیال رہے کہ بھارت میں پیٹرول کی قیمتوں میں استحکام کی بڑی وجوہات میں روس سے رعایتی قیمتوں میں خام تیل لینا، کرنسی کی قدر کا مستحکم ہونا، مقامی سطح پر بڑی ریفائنریز کا ہونا اور کم ٹیکس عائد ہونا ہیں۔

