کراچی یا لاہور، کس کے کھانے زیادہ اچھے؟

ویسے تو میں شہروں کے موازنے کا کبھی قائل نہیں رہا۔ ہرشہر کا اپنا ایک فلیور اور مزاج ہوتا ہے۔ اس سے لطف اٹھائیں۔ ایک کا دوسرے سے موازنہ کیوں ہو؟ سیب اور آم کا موازنہ کرنے والا کبھی انصاف نہیں کر سکے گا، بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ چونسہ آم اور انوررٹول کا موازنہ کرنا بھی دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ سوشل میڈیا پر کراچی لاہور میں سے کس کے کھانے بہتر ہیں کی بحث شاید فواد چودھری صاحب کے ایک بیان سے شروع ہوئی، جس میں انہوں نے کہا کہ لاہور میں تاریخ اور قدیم تہذیب ہے، اس کے کھانے زیادہ اچھے ہیں، کراچی سے زیادہ بہتر۔ ظاہر ہے اس پر اہل کراچی کا ردعمل آیا۔ یار لوگوں نے لاہور پر تنقید کے تیر بھی چلائے، سوشل میڈیا پر بھی بحثیں شروع ہوئیں۔ بہت سے کراچوی حضرات یہ کہتے پائے گئے کہ لاہور میں صرف چنے ہی تو ہیں، افسوسناک بات یہ کہ خود بعض لاہور میں مقیم لوگ بھی اس کی تائید کرتے پائے گئے۔ ظاہر ہے یہ بات غلط ہے۔ لاہور کی کئی بلکہ متعدد روایتی ڈشز لاجواب ذائقے کی حامل ہیں۔

ان لوگوں کیلئے زیادہ مسئلہ بنا ہے جو لاہور میں بھی رہتے رہے ہیں اور آج کل کراچی میں رہ رہے ہیں۔ وہ شاید کسی ایک شہر والے کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کا کلپ دیکھا، انہوں نے درمیانہ راستہ نکالتے ہوئے کہا کہ لاہور کے کھانے مزے کے ہیں، مگر کراچی میں ورائٹی زیادہ ہے۔ وسیم اکرم نے شکوہ کیا کہ لاہور کی مشہور فوڈ اسٹریٹ میں کھانا کھایا تو وہاں بہت مرچیں تھیں، لاہوری کھانوں میں مرچیں اور کریم کہاں سے آگئی؟ اس خاکسار کی زندگی کے کئی سال کراچی میں گزرے، لا کالج کے دنوں میں اور پھر تعلیم سے فراغت اور ملازمت کے درمیانی وقفے میں جب آدمی کے پاس وقت بھی ہوتا ہے اور وہ اپنی پسند کی چیزوں سے لطف لے سکتا ہے۔ میری دلچسپی دو ہی چیزوں میں ہمیشہ رہی، کتابوں اور کھانے پینے کی خوش ذائقہ ڈشز۔ کراچی کے بہت سے مشہور فوڈ اسپاٹ ڈسکور کیے۔ اب بھی جب کراچی جانا ہو تو کوشش کرتے ہیں کہ پرانی یادیں تازہ ہوں۔ دوسری طرف اب لاہور میں مسلسل اکتیس برسوں سے مقیم ہوں۔ ایک دو بار پہلے بھی تذکرہ کیا کہ جن دنوں لاہور سے صحافت کا آغاز کیا، ایک دن انگریزی اخبار دی نیوز کا فل پیج ایڈیشن دیکھا جس میں لاہور کے مختلف ورائٹی کے مشہور کھانوں کے اسپاٹس کا ذکر تھا۔ شادی ابھی ہوئی نہیں تھی، ہاسٹل میں رہتا تھا، کھانے پینے کے شوق کا پہلے ہی بتا چکا ہوں، ہر ویک اینڈ پر میں وہ صفحہ نکالتا اور کسی نہ کسی جگہ پہنچ جاتا۔

موچی دروازے میں سائیں کے کباب، ٹمپل روڈ پر ماما کباب، ماڈل ٹاؤن ڈی بلاک میں بھیا کے کباب، اسی طرح لاہور میں تین نہاری کے اسپاٹ مشہور ہیں، مزنگ کی محمدی نہاری، پیسہ اخبار، انارکلی کی وارث نہاری اور لوہاری دروازے میں دلی والے بڑے حاجی صاحب کی نہاری۔ مچھلی، حلیم، ہریسہ، چنے، دال، گجریلا، فالودہ اور نجانے کس کس چیز کے اسپاٹس تھے، الحمدللہ ہر جگہ گیا۔ اب ان میں سے کئی دنیا سے رخصت ہوگئے، جیسے موچی دروازے کا سائیں۔ بعض کے اسپاٹ سڑکوں کی توسیع کی نذر ہوگئے، بعض کا معیار پہلے جیسا نہیں رہا۔

سوشل میڈیا پر بعض اہل کراچی یہ شکوہ کرتے پائے گئے کہ ہم لاہور گئے اور وہاں کے کھانے کھائے مگر مایوسی ہوئی، کسی کو پائے پسند نہیں آئے، کسی کو چنے بیکار لگے وغیرہ۔ یہی مسئلہ مجھے وسیم اکرم کا بھی لگ رہا ہے کہ وہ اب ایک بڑی سیلبریٹی ہیں، ان کے لیے ممکن نہیں کہ اندرون لاہور کی گلیوں میں جا کر کسی فوڈ اسپاٹ کو ٹرائی کریں یا ڈی بلاک ماڈل ٹاون میں بھیا کے کباب ہی کھانے چلے جائیں کہ وہاں تو گاڑی پارک کرنے کی جگہ نہیں۔ کئی ایسی جگہیں ہیں جہاں خود بے شمار لاہوری بھی نہیں جا سکے ہوں گے کیونکہ ان کیلئے باقاعدہ کشٹ کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر لاہور میں بہترین چنے کے دو تین اسپاٹ ایسے ہیں کہ آپ اتوار کے دن اگر دس گیارہ بجے تک نہ پہنچے تو پھر خالی دیگچے ہی ملیں گے۔ ان جگہوں پر بیٹھنے کا معقول انتظام بھی نہیں اور آدھا آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ وسیم اکرم ٹائپ لوگ تو فوڈ اسٹریٹ کے کسی جگمگاتے ریسٹورنٹ یا روف ٹاپ پر بنے فوڈ اسپاٹ کو ٹرائی کریں گے اور پھر شکوہ ہوگا کہ لاہوری ذائقے کہاں گئے؟ حضور ذائقے تو وہیں ہیں، مگر اب آپ عام لاہوری نہیں رہے، ایلیٹ کلاس میں شامل ہو تو آپ خود ہی دور ہوچکے۔

دو تین باتیں سمجھ لینی چاہئیں، ایک تو یہ کہ لاہور میں کئی مشہور فوڈ اسپاٹ ایسے ہیں کہ ان کے آس پاس اسی نام سے جعلی اسپاٹ بن چکے ہیں۔ ہر ایک کا دعوی ہے کہ وہی اصلی ہے۔ پہچاننے کا طریقہ یہ ہے کہ چکر لگا کر دیکھ لیا جائے، جہاں زیادہ رش ہو، وہاں چلے جائیں کہ لاہوریوں کو بے وقوف بنانا آسان نہیں۔ رش وہیں ہوگا جہاں اچھی چیز ملے گی۔

دوسرا یہ کہ لاہور میں چنے کے بے شمار اسپاٹ ہیں، سینکڑوں، ہزاروں لیکن اگر آپ نے نمائندہ قسم کے چنے کھانے ہیں، کبھی نہ بھولنے والے تو وہ دو چار اسپاٹ ہی ہیں، وہاں تک جانا آسان نہیں، خاص کر کراچی سے آئے کسی شخص کیلئے، لیکن اگر آپ پہنچ گئے تو پھر وہ ذائقہ بھولیں گے نہیں۔ تیسرا یہ کہ لاہور کے کئی روایتی کھانوں، ڈشز کے اسپاٹ یا اڈے دراصل ڈھابہ ٹائپ ہیں، صفائی وغیرہ کے بہت اچھے انتظامات نہیں، کئی جگہوں پر فیملی کو بٹھانے کا بھی زیادہ معقول انتظام نہیں۔ دراصل ان کا کام اتنا زیادہ چل رہا ہے کہ انہیں پروا ہی نہیں، یہ اپنی فوڈ چین بنانے کا نہیں سوچتے، ممکن ہے اگلی نسل میں ایسا ہوجائے۔ جیسا گوالمنڈی کے سردار مچھلی والوں نے کیا۔ میں جب لاہور میں آیا، چھیانوے، ستانوے میں تو گوالمنڈی فوڈ اسٹریٹ جا کر سردار کی بیسن والی بام مچھلی کھایا کرتا۔ تب انہوں نے لکھ کر لگایا ہوا تھا کہ ہماری کوئی اور برانچ نہیں۔ آج سردار مچھلی کی شہر میں کم از کم بھی پچاس سو برانچیں ہوں گی۔ بابا جی رخصت ہوئے تو اولاد نے بزنس پھیلا دیا۔

میرا ماننا ہے کہ کراچی میں بہت مزے کے کھانے ملتے ہیں، ان کی ورائٹی بھی بہت ہے، اس لیے کہ کراچی منی پاکستان تھا، وہاں ہر جگہ کے لوگ اکھٹے ہوگئے۔ ملک بھر سے کھانے پکانے کے ماہرین بھی جمع ہوئے۔ پھر وہاں یوپی، دلی سے بہت سے گھرانے آئے جو لکھنو، دلی کی روایتی ڈشز کی لیگیسی لے کر آئے۔ یہ کراچی کا امتیاز ہے۔ وہاں بنگالی مٹھائی کی دکانیں ملیں گی، ان کی خاص وضع کی بنی ہوئی مشہور میٹھی دہی بھی۔ لاہور میں ظاہر ہے یہ نہیں۔ کوئٹہ چائے ہوٹل بھی اب لاہور پہنچے ہیں، کراچی میں تو وہ عشروں سے ہیں۔ مہاجروں کے علاوہ سندھی، پنجابی، پشتون، بلوچ، افغانی، بنگالی وغیرہ کراچی میں بڑی تعداد میں آباد ہوئے۔ ان کے ذائقے اور فوڈ اسپاٹ بھی بنے۔ مہاجروں میں بھی بہت تنوع ہے، یوپی والے، دلی والے، گجراتی، میمن وغیرہ بھی۔ کراچی میں سندھی ہوٹلوں میں سندھی ڈشز خاص کر بھے کا سالن بھی مل جاتا ہے۔ سینٹرل پنجاب میں اس کا تصور بھی نہیں۔ کباب کی بہت سی ورائٹیز وہاں ملتی ہیں، کراچی کی نہاری، حلیم کا بھی اپنا ایک خاص ذوق اور ذائقہ ہے۔ بریانی تو اصلا ہے ہی کراچی والوں کی ڈش، پنجاب کی اصل چاولوں کی ڈش پلاو ہے، یخنی پلاو۔ لاہور کی روایتی چاولوں کی ڈش کشمیری دال چاول ہیں، سفید ابلے چاولوں کے ساتھ اسپائسی دال۔ میرا خیال ہے کہ کراچی کو سوئٹ ڈشز کے حوالے سے تو واضح برتری حاصل ہے۔ دلی والوں کی ربڑی کا کوئی جواب نہیں، لاہور میں ویسی ربڑی نہیں ملتی۔ لب شیریں، دودھ دلاری، برنس روڈ کی لچھے دار کھیر، بنگالی رس گلے وغیرہ، ان کا لاہور میں متبادل نہیں۔ یہاں لب شیریں، دودھ دلاری سے سرے سے واقفیت نہیں۔ یہ کہنا البتہ درست نہیں کہ لاہور میں صرف چنے ہی چنے ہیں۔ نہیں بھیا جی لاہور ایک پرانا تہذیبی مرکز ہے۔ کراچی جیسا متنوع نہ سہی، مگر لاہور کی اوپن نیس نے کئی قوموں اور تہذیبوں کو یہاں اکھٹا کر دیا ہے۔ گوجرانوالہ کے کھابے ایکسپرٹس لاہور میں موجود ہیں، شہباز تکہ وغیرہ۔ سرائیکی علاقوں کے لوگ یہاں مقیم ہیں، پختون خوا سے بہت سے یہاں سیٹل ہوچکے۔ سب سے بڑھ کر لاہور کی قدیم کشمیری برادری، خاص کر امرتسری کشمیری جو خود کو امبرسری کشمیری یا امبرسریے کہلانا پسند کرتے ہیں۔ کئی شاندار، لاجواب ڈشز یہاں ملتی ہیں، جن کی اپنی انفرادیت ہے۔ (جاری ہے)